مسئلہ فلسطین پر بین الاقوامی کانفرنس بلانے کا مطالبہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption محمود عباس اپنے خطاب کے بعد اجلاس چھوڑ کر چلے گئے

فلسطینی رہنما محمود عباس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں خطاب کرتے ہوئے اس سال کے وسط تک ایک بین الاقوامی کانفرنس بلانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ فلسطینیوں کے علیحدہ ریاست کے حق کو مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے وسیع تر منصوبے کا حصہ بنایا جا سکے۔

سلامتی کونسل میں ایک غیر معمولی خطاب میں فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے کہا کہ وہ فلسطین کے لیے اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت حاصل کرنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دیں گے اور جن ملکوں نے فلسطین کو تسلیم نہیں کیا ان کو ایسا کرنے کے لیے کہیں گے۔

محمود عباس نے کہا کہ مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے ضروری ہے کہ ایک کثیر القومی نظام بنایا جائے جس کی بنیاد ایک بین الاقومی کانفرنس کے ذریعے ڈالی جائے۔

یہ بھی پڑھیے

یروشلم دنیا کا سب سے متنازع شہر کیوں؟

یروشلم: سات ہزار برسوں کی خون آلود تاریخ

اعلانِ یروشلم: اسرائیل نواز لابیوں نے کرایا؟

فلسطینی اتھارٹی کے صدر نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں خطاب ایک ایسے وقت کیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے سے دنیا بھر میں تشویش پائی جاتی ہے۔

امریکی سفارت خانے کو بیت المقدس منتقل کرنے کے ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے سے فلسطینی میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور انھوں نے مسئلہ فلسطین میں امریکہ کے ثالث کے کردار کو مسترد کر دیا ہے۔

محمود عباس نے اپنی تجویز کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی کانفرنس میں فلسطین کو مکمل رکنیت دی جائے، اسرائیل اور فلسطین ایک دوسرے کو تسلیم کریں اور کثیر الملکی نظام تشکیل دیا جائے جس کے تحت اس مسئلے کا حتمی اور مستقل حل تلاش کیا جائے۔

فلسطینی صدر محمود عباس اپنا خطاب ختم کرنے کے بعد سلامتی کونسل کے اجلاس سے چلے گئے اور ان کی عدم موجودگی میں اسرائیلی سفیر ڈینی ڈینن یہ شکایت کرتے نظر آئے کے محمود عباس ایک مرتبہ پھر ’مذاکرات سے بھاگ‘ رہے ہیں۔

چند ہفتے قبل اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی نے محمود عباس پر شدید تنقید کرتے ہوئے ان پر الزام لگایا تھا کہ ’ان میں قیام امن کے لیے مذاکرات کرنے کی جرات نہیں ہے‘۔

محمدو عباس کے سلامتی کونسل میں اجلاس کے دوران امریکی سفیر نکی ہیلی کے ہمراہ ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جارڈ کشنر اور مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے امریکی سفیر جیسن گرین بیلٹ بھی موجود تھے۔

اطلاعات کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے ایک اور امن منصوبے پر کام کر رہی ہے گو کہ اس کی کامیابی کے امکانات بہت کم ہیں۔

فلسطینی مشرقی بیت المقدس کو اپنی علیحدہ ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں اور اقوام متحدہ کی کئی قراردادیں مسئلہ فلسطین کے مستقل حل تک اقوام عالم پر اپنے سفارت خانے بیت المقدس منتقل کرنے کی ممانعت کرتی ہیں۔

گذشتہ سال دسمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھاری اکثریت سے امریکہ کے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے کو مسترد کر دیا تھا۔ امریکی فیصلے کے خلاف 128 ووٹ پڑے تھے جبکہ آٹھ ووٹ اس کے حق میں پڑے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نکی ہیلی کے ساتھ جارڈ کشنر بھی موجود تھے

امریکہ کے اس متنازعہ فیصلے کو سلامتی کونسل کے اجلاس میں پندرہ میں سے چودہ رکن ملکوں نے مسترد کر دیا تھا جس کے بعد اس فیصلے کو جرنل کونسل میں پیش کیا گیا تھا۔

امریکہ کی طرف سے فلسطینی مہاجرین کی امداد کرنے والی اقوام متحدہ کی ایجنسی کی امداد بند کرنے کے فیصلے سے بھی کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔

اقوام متحدہ نے فلسطین کو سنہ انیس سو بانوے میں غیر رکن مبصر کی حیثیت دی تھی اور اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت حاصل کرنے کے لیے فلسطین کو سلامتی کونسل کے تمام رکن ممالک کی حمایت حاصل کرنا ضروری ہے جو کہ امریکی موقف کے پیش نظر ممکن نظر نہیں آتا۔

اسی بارے میں