سعودی عرب تفریح کی صنعت پر 64 ارب ڈالر خرچ کرے گا

سعودی عرب تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ملک کے پہلے اوپرا ہاوس کی تعمیر دارالحکومت ریاض میں شروع ہو چکی ہے

سعودی عرب نے کہا ہے کہ ملک میں تفریحی صنعت کی ترقی کے لیے آئندہ دس سال میں 64 ارب امریکی ڈالر خرچ کیے جائیں گے۔

جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی کے سربراہ کا کہنا ہے رواں سال تقریباً 500 تقریبات کی منصوبہ بندی کی گئی ہے جن میں امریکی پاپ بینڈ مرون 5 اور کینیڈین پرفارمرز سرک ڈو سولیل کے پروگرامز بھی شامل ہیں۔

ملک کے پہلے اوپرا ہاؤس کی تعمیر دارالحکومت ریاض میں شروع ہو چکی ہے۔

یہ سرمایہ کاری سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے معاشی اور معاشرتی اصلاحی پروگرام کا حصہ ہے جس کا آغاز دو سال قبل ہوا اور جسے وژن 2030 کا نام دیا گیا ہے۔

32 سالہ ولی عہد ملکی معیشت کا انحصار تیل کے ذخائر پر کم کرتے ہوئے متنوع معیشت چاہتے ہیں، جس میں گھرانوں کی جانب سے ثقافتی اور تفریحی پروگراموں میں خرچ بڑھانا بھی شامل ہے۔

دسمبر میں حکومت نے کمرشل سینیما گھروں پر عائد پابندی ختم کر دی تھی۔

یہ بھی پڑھیں!

’سعودی خواتین کو عبایہ پہننے کی ضرورت نہیں‘

سعودی عرب پہلے فیشن شو کے لیے تیار

سعودی عرب: سینیما پر عائد پابندی ختم کرنے کا اعلان

’شوٹنگ کرتے تھے تو لوگ حرام حرام کہتے تھے‘

جنرل انٹرٹینمنٹ اتھارٹی کے سربراہ احمد بن عقیل الخطیب کا کہنا تھا کہ ’ماضی میں، سرمایہ کار کام کی تیاری کے لیے ملک سے باہر جاتے تھے، اور اس کے بعد سعودی عرب واپس آکر اس کی نمائش کرتے تھے۔ آج تبدیلی آرہی ہے اور انٹرٹینمنٹ سے متعلقہ ہر کام یہیں ہوگا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’خدا نے چاہا تو آپ 2030 میں اصل تبدیلی دیکھیں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جنوری میں سرکس پرفارمرز کرک الوئز نے پہلے بار پرفارم کیا تھا

ملک میں سیاحت کے فروغ کو مدنظر رکھتے ہوئے دارالحکومت ریاض کے قریب تقریباً لاس ویگس کے برابر کے ایک بڑے تفریحی شہر کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ حالیہ دنوں نے سعودی عرب نے کئی ایسے اقدامات کیے ہیں جو ملک میں اپنی نوعیت کے پہلے تھے جن میں گذشتہ ماہ خواتین کو سٹیڈیمز میں فٹبال میچ دیکھنے کی اجازت اور جون سے خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت کا اعلان شامل ہیں۔

گذشتہ سالہ ولی عہد محمد بن سلمان نے اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی عرب ایک بار پھر ’اعتدال پسند اسلام کا ملک بنے گا جہاں تمام مذاہب، ثقافتوں اور لوگوں کے لیے راہیں کھلی ہوں گی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ملک کی ستر فیصد آبادی کی عمر 30 سال سے کم ہے اور انھیں ایسی ’زندگی دینا چاہتے ہیں جس میں ہمارا مذہب رواداری، اور ہماری رحم دلی روایات کی ترجمانی کرے۔‘

اسی بارے میں