شام میں جنگ بندی کی قرارداد پر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا: روس

شام

،تصویر کا ذریعہAFP

روس نے شام میں حکومت کی جانب سے باغیوں کے علاقے پر بمباری پر بڑھتے ہوئے غصے پر اقوام متحدہ کی جنگ بندی کی قرارداد میں تبدیلی کا مطالبہ کیا ہے۔

اقوام متحدہ میں روس کے سفیر نے مطالبہ کیا کہ کارروائی ’معقول‘ ہو نا کہ ’عوامی‘۔

تاہم مغربی سفارتکاروں نے روس پر سلامتی کونسل کا وقت ضائع کرنے کا الزام لگایا ہے۔ فرانس نے کہا کہ عمل کرنے میں ناکامی سے خود اقوام متحدہ کا اختتام ہو جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے

انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ گذشتہ پانچ دنوں کے دوران تقریباً 400 افراد دمشق کے قریبی علاقے غوطہ میں مارے گئے ہیں۔

نیویارک میں اقوام متحدہ کی جانب سے جمعے کو اس قرارداد پر ووٹنگ ہونی ہے۔

روس جو کہ ان پانچ عالمی طاقتوں میں شامل ہے جو اس قرارداد کو ویٹو کر سکتی ہیں، روس خانہ جنگی دوران شامی صدر بشار الاسد کا اہم حمایتی رہا ہے۔

مغربی طاقتوں کے خیال میں روس اپنے اتحادی کو اتنا وقت دینا چاہتا ہے کہ وہ باغیوں کے ساتھ ایک آخری بڑی ڈیل طے کر لے۔

دوسری جانب امریکہ، برطانیہ اور فرانس بنا کسی تاخیر کے اس قرارداد کو منظور کرانا چاہتے ہیں۔

اس قرار داد میں کیا ہے؟

کویت اور سویڈن کی جانب سے پیش کیے جانے والے مسودے میں اس قرارداد کے منظور کیے جانے کے 72 گھنٹوں بعد 30 دن کے لیے ملک بھر میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اس کے 48 گھنٹوں بعد طبی بنیادوں پر انخلا اور امدادی سامان کی ترسیل کا آغاز کیا جائے گا۔ مسودے کے مطابق پانچ عشاریہ چھ ملین لوگوں کو امداد کی شدید ضرورت ہے۔

روس کا کہنا ہے کہ اس نے قرارداد کے مسودے میں چند تبدیلیاں کی تھیں لیکن سویڈن کے اقوام متحدہ میں سفیر اولاف سکوگ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ مشرقی غوطہ میں امداد پہنچانا سب سے بنیادی مقصد ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

انھوں نے کہا کہ ’میرے خیال میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے دباؤ کے بغیر کام ویسے نہیں ہوتا جیسے کہ اس وقت ہو رہا ہے۔‘

مشرقی غوطہ میں صورتحال کتنی خراب ہے؟

جمعرات کو شامی حکومت نے پانچویں روز بھی فضائی کارروائی اور بھاری اسلحے کا استعمال کیا۔

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نامی ادارے کا کہنا ہے کہ جمعرات کو 46 مزید افراد مارے گئے ہیں جبکہ اتوار سے اب تک مارے جانے والے افراد کی تعداد بڑھ کر 403 تک پہنچ گئی ہے۔

بیرل بموں اور شیلوں سے اس علاقے کو نشانہ بنایا گیا جسے اقوام متحدہ نے ’زمین پر جہنم‘ قرار دیا ہے جہاں 393000 افراد پھنسے ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے شام میں انسانی حقوق کے کوآرڈینیٹر پینوز مومتز نے بھی جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔

انھوں نے مشرقی غوطہ کی دل دہلا دینے والی تصاویر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’اگر یہ بھی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان کو جنگ بندی کے لیے قائل نہیں کر سکتی تو پھر ہم نہیں جانتے کہ کیا چیز انھیں قائل کر سکتی ہے۔‘