فرانس: ’ہر آٹھ میں سے ایک خاتون کا ریپ ہو چکا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مذکورہ تحقیق جمعے کے روز شائع کی گئی اور اس کا مقصد یہ تھا کہ یہ دیکھا جائے کہ فرانس میں خواتین کو کس حد تک ہراساں کیا جاتا ہے۔

ایک تازہ ترین سروے کے مطابق فرانس میں تقریباً چالیس لاکھ یعنی خواتین کی کل آبادی کے بارہ فیصد کا کم از کم ایک مرتبہ ریپ ہو چکا ہے۔

فرانسیسی تھنک ٹینک فاؤنڈیشن جین ییریز کی تحقیق میں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ 43 فیصد خواتین کو ان کی مرضی کے بغیر جنسی انداز میں چھوا گیا ہے۔

دنیا بھر کے کئی ممالک کی طرح گذشتہ چند ماہ میں فرانس میں بھی خواتین سوشل میڈیا کے ذریعے اس حوالے سے آواز اٹھا رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

فرانس میں انتہائی دبلی فیشن ماڈلز پر پابندی

فرانس: رقم کے عوض ’جنسی خدمات‘ پر پابندی کے خلاف احتجاج

’مردوں کو خواتین کو لبھانے کی آزادی ہونی چاہیے‘

کیا جنسی لت کا علاج ممکن ہے؟

ان میں سے کئی نے #Balance ton porc کا ہیش ٹیگ استعمال کیا ہے۔ یہ مہم ہالی وڈ میں پروڈیوسر ہاروی وائن سٹین کے خلاف ریپ کے الزامات سامنے آنے کے بعد شروع کی گئی۔

مذکورہ تحقیق جمعے کے روز شائع کی گئی اور اس کا مقصد یہ تھا کہ یہ دیکھا جائے کہ فرانس میں خواتین کو کس حد تک ہراساں کیا جاتا ہے۔

تحقیق میں یہ بھی پتا چلا ہے کہ ریپ ہونے والی 12 فیصد خواتین کے علاوہ 58 فیصد کو نازیبہ تجاویز دی گئیں۔

تحقیق کے مطابق ہراساں کی جانے والی خواتین کو ایسے حالات کا ایک سے زیادہ مرتبہ سامنا کرنا پڑا۔

#Balance ton porc مہم کی وجہ سے فرانس میں یہ بحث شروع ہوگئی ہے کہ کیسا برتاؤ جنسی طور پر ہراساں کرنے کے مترادف ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس خط کے مصنفین کا کہنا ہے کہ یہ ایک نئی قسم کی 'پیورٹن ازم' ہے

گذشتہ ماہ فرانسیسی اداکارہ کیتھرین ڈینیو کا کہنا تھا کہ مردوں کو خواتین کو 'لبھانے کی آزادی' ہونا چاہیے۔ کیتھرین ڈینیو سمیت ایک سو فرانسیسی خواتین نے ایک کھلا خط لکھا تھا جس میں انھوں نے اس نئی ’پیورٹن ازم‘ کے بارے میں لکھا جو حالیہ جنسی ہراس کے سکینڈلز کے بعد سامنے آئی ہے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ ’مردوں کو سخت سزا دی گئی، نوکریوں سے نکالا گیا جب انھوں نے صرف کسی کے گھٹنے کو چھوا یا ایک بوسہ لینے کی کوشش کی۔‘

’ریپ ایک جرم ہے، لیکن جمے قدموں یا اناڑی پن کے ساتھ کسی کو مائل کرنے کی کوشش (ریپ) نہیں ہے اور نہ ہی مردوں کا شریفانہ انداز بالادستی کا حملہ ہے۔‘

اس خط کے مصنفین کا کہنا ہے کہ یہ ایک نئی قسم کی ’پیورٹن ازم‘ ہے۔

تاہم بعد میں کیتھرین ڈینیو نے اپنا موقف واضح کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا مقصد جنسی ہراساں کرنے والوں کا دفاع نہیں تھا۔

فرانس کی وزیر برائے صنفی مساوات مارلین شیاپا نے عوامی سطح پر #Balance ton porc اور #MeToo جیسی تحریکوں کی حمایت کی ہے۔

گذشتہ سال انھوں نے سرِعام چھیڑ چھاڑ کرنے والوں کے لیے جرمانے لگانے کا قانون بھی تجویز کیا ہے۔

اسی بارے میں