مسجد الحرم کے گارڈ نے جنسی طور پر ہراساں کیا

Image caption اینگی وہ پہلی خاتون نہیں ہیں جنھوں نے جنسی ہراساں کیے جانے کے حوالے سے اپنا تجربہ بتایا ہو۔

برطانیہ کی شہری اینجی اینگینی نے کہا ہے کہ 2010 میں دورانِ حج انھیں اور ان کی بہن کو جنسی طور پر ہراساں کیا گیا۔

انھوں نے کہا انھیں مسجد الحرم کے باہر سپر مارکیٹ میں ایک شخص نے ’میرے کولہے کو چھوا اور پھر اسے دبانے لگا۔‘

’میں سکتے میں آگئ، میری ماں مجھ سے دو میٹر دور کھڑی تھی۔ ڈر کے مارے میری آواز نہیں نکل رہی تھی۔‘

اینجی کہتی ہیں کہ ان کی بہن کو مسجد ِالحرم کے اندر ایک گارڈ نے جنسی طور پر ہراساں کیا۔

'میں اس پرچلائی کہ یہ تم کیا کررہے ہو۔ تم میری بہن کو ہاتھ نہیں لگا سکتے۔ پولیس کا کام ہے کہ وہ عوام کو تحفظ فراہم کریں۔ وہ مسجدِ الحرم کے محافظ ہیں۔ اس نے مجھ پر ہنسنا شروع کردیا۔ میں اس پر چیخ رہی تھی کہ تم میری بہن کے ساتھ کیا کررہے ہو اور وہ ہنس رہا تھا۔'

اینجی وہ پہلی خاتون نہیں ہیں جنھوں نے مقدس مقامات پر جنسی ہراساں کیے جانے کے حوالے سے اپنا تجربہ بتایا ہو۔

ان ٹوئیٹس کا طوفان دو فروری کو شروع ہوا جب ایک پاکستانی خاتون نے فیس بک پر اپنی کہانی شیئر کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 2017 میں پوری دنیا سے تئیس لاکھ لوگ سے ذائد حج کرنے کے کے لیے آئے، جن میں سے تقریباً تیرہ لاکھ مرد تھے۔

جس کے فوراً بعد مصری نژاد امریکی خاتون جرنلسٹ مونا ایلتھوے نے ٹوئٹر پر ہیش ٹیگ #MosqueMeToo کا آغاز کیا۔جس کا مقصد دیگر خواتین کو اپنی کہانی شیر کر کے جنسی ہراساں کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا تھا۔

مسلمان خواتین نے اس ہیش ٹیگ کا استعمال کیا اور 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں اسے 2000 مرتبہ ٹوئٹس میں استعمال کیا گیا۔

مختلف ممالک کی مسلمان خواتین ہیش ٹیگ #MosqueMeToo کے ذریعے دوران حج اور دیگر مذہبی مناسک کی ادائیگی کے دوران اپنے ساتھ پیش آنے والے جنسی ہراساں کے واقعات شیئر کر رہی ہیں۔

بہت سی خواتین نے ٹوئٹر پر بتایا ہے کہ کیسے ان کے جسم کو ٹٹولنے کی کوشش کی گئی، غیر مناسب انداز میں چھونے کی کوشش کی گئی یا پھر کسی نے کیسے ان کے جسم کو رگڑنے کی کوشش کی۔