اقوام متحدہ نے شام میں 30 روزہ جنگ بندی کی قرارداد منظور کر لی

شام تصویر کے کاپی رائٹ EPA

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے جس میں شام میں 30 روزہ جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

پندرہ ارکان پر مشتمل کونسل نے امداد کی ترسیل اور طبی بنیادوں پر انخلا کی اجازت دینے کے حق میں ووٹ دیا۔

یہ قرارداد شامی حکومت کے فوجی دستوں اور فضائیہ کی جانب سے باغیوں کے زیر قبضہ شہر مشرقی غوطہ پر مسلسل ایک ہفتہ بمباری کے تناظر میں پیش کی گئی تھی تاہم ووٹنگ کے بعد انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا تھا کہ فضائی بمباری مسلسل جاری ہے۔

شام کے بارے میں مزید پڑھیے

شام: ’جنگ بندی کی قرارداد پر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا‘

شام: باغیوں کے زیرانتظام علاقے میں بمباری، ’سو سے زیادہ ہلاکتیں‘

مشرقی غوطہ میں ’500 افراد ہلاک‘

اس معاملے پر ووٹنگ جمعرات کے بعد سے کئی مرتبہ تاخیر کا شکار ہو چکی ہے کیونکہ ارکان کسی معاہدے پر نہیں پہنچ پا رہے تھے۔

شام کا سب سے بڑا اتحادی ملک روس اس قرارداد میں تبدیلی چاہتا تھا، جبکہ مغربی ممالک نے روس پر وقت ضائع کرنے کا الزام لگایا تھا۔

اقوام متحدہ میں امریکہ کی سفیر نکی ہیلی نے مطالبہ کیا ہے کہ جنگ بندی پر فوراً عمل کیا جائے لیکن ساتھ میں انھیں جنگ بندی کے حوالے سے شام پر شک بھی ہے۔

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نامی تنظیم کا کہنا ہے کہ سنیچر کو اس قرارداد کے منظور ہونے کے چند منٹ بعد ہی مشرقی غوطہ پر فضائی بمباری کی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP / GETTY IMAGES

انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ شامی حکومت کے فوجی دستوں اور فضائیہ نے باغیوں کے زیر قبضہ شہر مشرقی غوطہ پر مسلسل ایک ہفتہ بمباری کی ہے جس میں اب تک پانچ سو عام شہری مارے جا چکے ہیں۔

سیرین آبزرویٹری گروپ کا کہنا ہے کہ مشرقی غوطہ میں مرنے والوں میں 121 بچے شامل ہیں۔ روسی افواج کی مدد سے شامی حکومت کی فورسز نے اٹھارہ فروری کو بمباری شروع کی تھی۔

اس قرار داد میں کیا ہے؟

کویت اور سویڈن کی جانب سے پیش کیے جانے والے مسودے میں اس قرارداد کے منظور کیے جانے کے 72 گھنٹوں بعد 30 دن کے لیے ملک بھر میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اس کے 48 گھنٹوں بعد طبی بنیادوں پر انخلا اور امدادی سامان کی ترسیل کا آغاز کیا جائے گا۔ مسودے کے مطابق پانچ عشاریہ چھ ملین لوگوں کو امداد کی شدید ضرورت ہے۔

روس کا کہنا ہے کہ اس نے قرارداد کے مسودے میں چند تبدیلیاں کی تھیں لیکن سویڈن کے اقوام متحدہ میں سفیر اولاف سکوگ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ مشرقی غوطہ میں امداد پہنچانا سب سے بنیادی مقصد ہے۔

مشرقی غوطہ میں صورتحال کتنی بری ہے؟

سنیچر کو سیرین آبزرویٹری گروپ نے کہا ہے کہ کم از کم 20 شہری ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے 17 کا تعلق دوما کے علاقے سے ہے۔ جس کے بعد ایک ہفتے کے اندر مرنے والوں کی تعداد 500 تک پہنچ گئی ہے۔

سیرین آبزرویٹری گروپ کا کہنا ہے کہ بمباری شام اور روسی جیٹ طیارے کررہے ہیں تاہم روس تنازعے میں براہ راہست شمولیت سے انکار کرہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مغربی طاقتوں کے خیال میں روس اپنے اتحادی کو اتنا وقت دینا چاہتا ہے کہ وہ باغیوں کے ساتھ ایک آخری بڑی ڈیل طے کر لے۔

اب تک فائر بندی کیوں نہیں ممکن ہوسکی؟

روس نے شام میں حکومت کی جانب سے باغیوں کے علاقے پر بمباری پر بڑھتے ہوئے غصے پر اقوام متحدہ کی جنگ بندی کی قرارداد میں تبدیلی کا مطالبہ کیا تھا۔

تاہم مغربی سفارتکاروں نے روس پر سلامتی کونسل کا وقت ضائع کرنے کا الزام لگایا تھا۔ فرانس نے کہا کہ عمل کرنے میں ناکامی سے خود اقوام متحدہ کا اختتام ہو جائے گا۔

مغربی طاقتوں کے خیال میں روس اپنے اتحادی کو اتنا وقت دینا چاہتا ہے کہ وہ باغیوں کے ساتھ ایک آخری بڑی ڈیل طے کر لے۔

دوسری جانب امریکہ، برطانیہ اور فرانس بنا کسی تاخیر کے بغیر اس قرارداد کو منظور کرانا چاہتے ہیں۔

باغی کون ہیں؟

مشرقی غوطہ میں موجود باغیوں کا تعلق کسی ایک گروہ سے نہیں۔ بلکہ یہ کئی چھوٹے گروہ ہیں جن میں جہادی بھی شامل ہیں۔یہ گروہ آپس میں بھی لڑ رہے ہیں اوراس کا فائدہ شامی حکومت کو ہوا ہے۔

علاقے میں سب سے بڑا گروہ جیش الاسلام اور اس کا حریف گروہ فیلک الرحمان ہے۔

فیلک الرحمان ماضی میں جہادی گروہ حیات الشام کے ساتھ لڑتا رہا ہے جو کہ النصرہ فرنٹ کا ایک دھڑا ہے۔

اسی بارے میں