نائجیریا میں 110 لڑکیوں کی بازیابی کی کوششیں تیز

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/GETTY IMAGES
Image caption 19 فروری کو اس سکول پر حملہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں 110 طالبات لاپتہ ہیں

نائجیریا نے سکول کی 110 طالبات کی تلاش کے لیے اضافی فوجی دستے اور طیارے تعینات کیے ہیں۔ ان لڑکیوں کے بارے میں یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ گذشتہ ہفتے شدت پسند تنظیم بوکو حرام نے انھیں اغوا کر لیا ہے۔

یہ لڑکیاں ملک کے شمال مشرقی صوبے یوبے کے ڈاپچی شہر کے ایک سکول سے 19 فروری سے لاپتہ ہیں جب جہادی تنظیم نے ان کے سکول پر حملہ کیا تھا۔

صدر محمد بخاری نے اسے 'قومی سانحے' سے تعبیر کرتے ہوئے طالبات کے اہل خانہ سے معافی مانگی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

٭ بیوی کی جگہ باورچی خانہ ہے: نائجیریا کے صدر کا جواب

٭ چیبوک سے اغوا ہونے والی مزید 21 طالبات رہا

اس حملے نے سنہ 2014 کے چیبوک حملے کی یاد تازہ کردی ہے جس میں ڈھائی سو سے زیادہ لڑکیاں اغوا کر لی گئی تھیں۔

طالبات کے اہل خانہ کے غم و غصے میں اس بات پر اضافہ نظر آ رہا ہے کہ گذشتہ ماہ ڈاپچی کے اہم چیک پوائنٹس سے فوجیوں کو ہٹا لیا گيا تھا۔

اہل خانہ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption لاپتہ طالبات کے والدین حکام سے اپنی لڑکیوں کی بازیابی کا مطالبہ کر رہی ہیں

ڈاپچی پر گذشتہ پیر کو حملہ ہوا تھا۔ یہ چیبوک سے تقریبا پونے تین سو کلومیٹر کے فاصلے پر شمال مغرب میں واقع ہے۔ حملے کی وجہ سے گورنمنٹ گرلز سائنس اینڈ ٹیکنیکل کالج کی طالبات اور اساتذہ کو قریبی جھاڑیوں میں چھپنا پڑا تھا۔

مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ بعد میں فوجی طیاروں کی نگرانی میں سکیورٹی فورسز نے اس حملے کو پسپا کر دیا۔

یہ بھی پڑھیے

٭ بوکو حرام کی قید سے رہا ہو کر 20 لڑکیاں گھر لوٹ گئیں

٭ نائجیریا: اغوا ہونے والی کم ازکم 80 طالبات رہا

حکام نے پہلے لڑکیوں کے اغوا ہونے کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ وہ حملہ آوروں سے بچنے کے لیے چھپی ہوئی تھیں۔

لیکن بعد میں انھوں نے تسلیم کیا کہ حملے کے نتیجے میں 110 لڑکیاں لاپتہ ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ڈاپچی میں والدین لاپتہ لڑکیوں کی فہرست دیکھ رہے ہیں

شدت پسند تنظیم بوکو حرام ملک کے شمالی علاقے میں ایک عرصے سے اسلامی ریاست کے قیام کے لیے بر سرپیکار ہے۔

تقریبا چار سال قبل انھوں نے چیبوک کے ایک سکول سے 276 لڑکیوں کو اغوا کر لیا تھا جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں 'برنگ بیک آور گرلز' کی مہم نظر آئی تھی۔ ان میں سے ابھی بھی ایک سو سے زیادہ لڑکیوں کے بارے میں تاحال کوئی علم نہیں ہے۔

ملک میں جاری شورش کے نتیجے میں اب تک دسیوں ہزار افراد ہلاک اور ہزاروں اغوا ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں