شام: روس کی جانب سے مشرقی غوطہ میں جاری لڑائی میں روزانہ وقفے کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

روس کے صدر ولادی میر پوتن نے حکم دیا ہے کہ شام کے علاقے غوطہ کے مشرقی علاقے میں جاری لڑائی میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر روزانہ پانچ گھٹنے کا وقفہ لایا جائے۔

لڑائی میں تعطل کا یہ عمل منگل سے شروع ہو گا اور اس منصوبے میں شہریوں کو علاقے سے نکلنے کے لیے راستہ بنانے کی تجویز بھی شامل ہے۔

شام میں باغیوں کے زیرِ قبضہ قصبہ غوطہ ایک ہفتے سے شامی حکومت کی شدید بمباری کا ہدف ہے اور اس کارروائی میں شامی فوج کو روس کی حمایت حاصل ہے۔ یہاں 393,000 شہری گِھر کر رہ گئے ہیں۔

ایک طبی فلاحی ادارے کا کہنا ہے کہ آٹھ روز قبل لڑائی میں شدت آنے کے بعد سے حکومتی افواج کے فضائی حملوں اور گولہ باری میں اب تک کم سے کم 560 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

روس کے وزیرِ دفاع سرگے شویگو نے لڑائی میں وقفے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ تعطل روزانہ صبح نو بجے سے دوپہر دو بجے تک ہوا کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کو محفوظ راستہ دینے کے بارے میں تفصیلات جلد عام کی جائیں گی۔

یہ بھی پڑھیے

٭ شام: ’جنگ بندی کی قرارداد پر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا‘

٭ شام: باغیوں کے زیرانتظام علاقے میں بمباری، ’سو سے زیادہ ہلاکتیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دمشق کے پاس مشرقی علاقے غوطہ کا شمار اُن چند علاقوں میں ہوتا ہے جہاں باغیوں کی اکثریت ہے

کیا یہ جنگ بندی اقوامِ متحدہ کی امن کی اپیل کے مترادف ہے؟

نہیں۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے ہفتے کو ایک قرارداد پیش کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ تمام فریق کم از کم 30 لگاتار دنوں تک حملے بند کر دیں، تاکہ انسانی ہمدردی کی کارروائیاں سرانجام دی جا سکیں۔

تاہم روسی وزیرِ خارجہ سرگے لاروف نے کہا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی تجویز پر اسی وقت عمل ہو سکتا ہے جب تمام فریق اس بات پر متفق ہو جائیں کہ اسے کیسے روبہ عمل لایا جائے۔

مشرقی غوطہ میں کیا ہو رہا ہے؟

دارالحکومت دمشق کے پاس مشرقی علاقے غوطہ کا شمار اُن چند علاقوں میں ہوتا ہے جہاں باغیوں کی اکثریت ہے اور اس علاقے کو سنہ 2013 سے شامی افواج نے محصور کیا ہوا ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ تین لاکھ 93 ہزار افراد اس علاقے میں محصور ہیں۔

یہ علاقہ دارالحکومت دمشق کے نزدیک باغیوں کا آخری سب سے بڑا گڑھ ہے۔

تازہ معلومات کے مطابق پیر کی صبح غوطہ کے اہم قصبے ڈومہ اور ہارستہ میں بمباری ہوئی ہے۔

شام کے محکمۂ شہری دفاع کا امدادی کارکنان کا کہنا ہے کہ ڈوما میں ایک عمارت پر ہونے والے بمباری میں نو شہری ہلاک ہوئے ہیں۔بعض اطلاعات کے مطابق مرنے والوں کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے۔

شام افواج کی جانب سے زمینی کارروائی کی اطلاعات نہیں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شام میں اقوام متحدہ کی جنگ بندی کی قرارداد کے بعد بھی حملے جاری ہیں

اقوام متحدہ کیا کہہ رہی ہے؟

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل کی قرارداد ’اس وقت اہمیت رکھتی ہیں اگر اس پر موثر طریقے سے عمل درآمد کیا جائے اور اسی وجہ میں یے توقع رکھتا ہوں کہ قرارداد پر فوری عمل درآمد ہو۔‘

اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے سنيچر کو شام میں جنگ بندی کے لیے قرارداد منظور کی تھی لیکن اس کے باوجود باغیوں کے قبضے والی بستیوں پر شامی حکومت کے فضائی حملے جاری ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

٭ شام: کینسر میں مبتلا بچے علاج کے لیے صدر کی اجازت کے منتظر

٭ شام کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کی تحقیقات، روس کا ویٹو

تازہ حملے میں زمینی پیش رفت بھی شامل ہے اور یہ اقوام متحدہ کی جانب سے '30 دنوں کی بلا تاخیر جنگ بندی' کی اپیل کے چند گھنٹے بعد ہی عمل میں آئی ہے۔

اتوار کو فرانس اور جرمنی نے روس سے کہا کہ وہ شامی حکومت پر جنگ بندی کی پابندی کرنے کے لیے دباؤ ڈالے۔

ٹیلیفون پر ایک مشترکہ گفتگو کے دوران جرمن چانسلر اینگلا میرکل اور فرانسیسی صدر ایمینوئل میکخواں نے صدر پوتن پر اقوام متحدہ کی قرارداد کو نافذ کرانے میں تعاون کرنے کے لیے کہا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مشتبہ کیمیائی حملے کے لیے بچوں کا اور دوسرے افراد کا علاج کیا جا رہا ہے

اقوام متحدہ کی قرارداد میں امدادی سامان فراہم کرنے اور طبی وجوہات پر وہاں سے لوگوں کو نکالنے پر اتفاق کیا گیا ہے لیکن اس معاہدے میں سب سے بڑے جہادی باغی گروپ کے خلاف آپریش شامل نہیں ہے۔

امدادی تنظیم 'سیریئن امریکن میڈیکل سوسائٹی' نے بی بی سی کو بتایا ہے اس علاقے میں قائم ان کے ایک ہسپتال میں ایسے مریض آئے ہیں جن کی حالت یہ بتاتی ہے کہ وہ کیمیائي حملے کی زد میں آئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ سے ایک بچے کی موت ہو گئی ہے

مشرقی غوطہ کے رہائشی محمد عادل نے کہا کہ ان کے ایک ساتھی نے ہسپتال کا دورہ کیا اور کہا کہ وہاں ایک لڑکا کیمیائی حملے کی زد میں آ کر دم گھٹنے سے ہلاک ہو گيا ہے۔

ایس او ایچ آر نے کہا انھیں اسی قسم کی اطلاعات ملی ہیں لیکن ابھی اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے کہ آیا یہ گیس والا حملہ ہے۔

اسی بارے میں