امریکہ: 'رائفل ایسوسی ایشن نے سیاستدانوں کو خریدا ہوا ہے‘

  • ارم عباسی
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، واشنگٹن
ہائی سکول

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن

امریکہ ریاست فلوریڈا کے شہر پارک لینڈ میں ایک ہائی سکول میں فائرنگ کے واقعے میں کم از کم 17 افراد ہلاک ہوگئے ہی

امریکی ریاست فلوریڈا میں پارک لینڈ میں ایک سکول میں شوٹنگ کے واقعے میں 17 لوگوں کے مارے جانے کے بعد امریکہ میں بسنے والے بیشتر پاکستانی اور بھارتی نژاد امریکی ہتھیار خریدنے سے متعلق سخت قانون لانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

یہ مطالبہ ایسے وقت کیا جا رہا ہے جب امریکہ میں ٹرمپ انتظامیہ پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ شہریوں کے تحفظ کے لیے ہتھیاروں کے حصول کا طریقۂ کار مزید سخت کیا جائے۔

اس مطالبے کے ساتھ حالیہ سکول حملے کا شکار ہونے والے فلوریڈا کے بچے، والدین اور سماجی کارکن 14 مارچ کو واشنگٹن میں احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں جبکہ ’نیشنل سکول واک آؤٹ‘ کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

14 فروری کو پارک لینڈ کے سٹون مین ڈگلس سکول میں 19 سالہ سابق طالب علم نے جب فائرنگ کی تو شیکھر ریڈی کو ان کے اس دوست کا فون آیا جس کا 14 سالہ بیٹا اس واقعے میں زخمی ہوا تھا۔

شیکھر ریڈی فوراً پہنچے اور دوست کے بیٹے کو ہسپتال پہنچایا گیا جس کی حالت اب خطرے سے باہر ہے۔

شیکھر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا: 'میرا گھر سکول کے پاس ہی ہے۔ جب اپنے دوست کے بیٹے کے بارے میں پتہ چلا تو میں بہت گھبرا گیا۔ اب وہ خطرے سے باہر ہے مگر اس واقعے کا اثر اس کے ذہن میں تو رہے گا۔ معصوم بچے جس کرب سے گزرے ہیں یہ سوچ کر ہی خوف آتا ہے۔ وہ اس لیے تو صبح گھر سے نہیں نکلے تھے کہ شام کو مردہ واپس آئیں۔'

ریڈی ماضی میں ہتھیار رکھنے کے حق میں بولتے آئے ہیں مگر اب وہ چاہتے ہیں کہ 21 برس سے کم عمر کے لوگوں پر ہتھیار خریدنے کی پابندی ہونی چاہیے۔

مواد پر جائیں
پوڈکاسٹ
ڈرامہ کوئین

’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا

قسطیں

مواد پر جائیں

اس مسئلے پر امریکہ میں بسنے والے پاکستانی بھی انڈین نژاد امریکیوں کے ساتھ ہیں۔

واشنگٹن میں سینیئر صحافی انور اقبال کے گھر میں پریشانی کا عالم ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے وجہ کچھ یوں بتائی: ’میرے تین جڑواں بیٹے ہیں۔ یہ خبر سن کر ڈر کے مارے ہم دونوں میاں بیوی بچوں کو لینے سکول پہنچے۔ اب تک ہمیں یہی فکر کھائے جا رہی ہے کہ بچے سکول میں محفوظ نہیں ہیں۔ کوئی بھی بندوق اٹھا کر داخل ہو جائے اور گولی چلا دے۔ نہ کوئی سکیورٹی نہ کچھ۔'

احتجاج کے بعد دباؤ میں آکر صدر ٹرمپ نے 21 برس سے کم عمر کے لوگوں پر اسلحہ خریدنے پر پابندی کی بات کی، ذہنی مریضوں کے لیے ہتھیار حاصل کرنے میں سختی، اسلحہ بیچنے سے پہلے خریدار کی کڑی چهان بین، تو ساتھ ہی ساتھ ٹیچرز کو بھی اسلحے سے لیس کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔

مگر بعض حلقے اساتذہ کو اسلحہ دینے کی تجویز پر تنقید کر رہے ہیں جبکہ مسٹر ٹرمپ کی حامی نیشل رائفل ایسوسی ایشن اور ان کے ووٹر اس کے حق میں ہیں۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق ترقی یافتہ ممالک میں 15 سال سے کم عمر کے بچوں کی گولی لگنے سے موت ہونے کے 91 فیصد واقعات امریکہ میں پیش آتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود گن لابی اتنی طاقتور ہے کہ اس سلسلے میں سخت قانون سازی کرنے میں سیاستدانوں کو ناکامی کا سامنا ہے۔

واشنگٹن میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے سنجیو بیری کہتے ہیں: 'نیشنل رائفل ایسوسی ایشن نے سیاستدانوں کو خریدا ہوا ہے، ہتهیار بنانے والی کمپنیوں سے پیسے بنائے جا رہے ہیں تو تبدیلی کیسے آئے گی؟'

یہ پہلی بار نہیں کہ امریکہ میں یہ بحث گرم ہے۔ اس سے پہلے 2012 میں بھی ایک سکول میں فائرنگ کے واقعے میں 20 بچوں سمیت 26 لوگ ہلاک ہوئے تھے۔

اس وقت بھی حکومت سے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا گیا مگر سب کوششیں بے سود رہیں۔ ان واقعات کے بعد بندوق کلچر کے خلاف کئی تقاریر ہوئیں، سمینار منعقد ہوئے مگر گانگریس اس مسئلے پر ڈٹی رہی اور متاثرین کے مطالبات رد کر دیے گئے۔

اس مرتبہ امریکہ میں نوجوان کی ایک بڑی تعداد بندوقوں کے خلاف تحریک میں پیش پیش نظر آرہی ہے مگر بیشتر ماہرین کا کہنا ہے کہ جیت بظاہر ابھی دور نظر آتی ہے۔

اس سلسلے میں صحافی انور اقبال کہتے ہیں: 'یہ الیکشن کا سال ہے، مجھے امید نہیں کہ اتنے دباؤ کے باوجود اس سلسلے میں کانگریس کوئی معنی خیز پالیسی بنانے والی ہے۔ مجهے ڈر ہے اس مسئلے کو اسی طرح محض گھسیٹا جائے گا اور کچھ دن میں کئی لوگ اس بحث کو ماضی کی طرح بهول جائیں گے۔'