چینی صدارت: یہ اعلان کیوں متوقع ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

چین کی کمیونسٹ پارٹی نے ایک تجویز پیش کی ہے جس کے تحت صدارتی عہدے کی مدت پر عائد پابندی کو ہٹایا جاسکتا ہے۔ اس تجویز کے منظور ہونے کی صورت میں شی جن پنگ تاحیات صدر رہ سکتے ہیں۔

بی بی سی کی ورلڈ سروس کی ایشیا پیسفک ایڈیٹر سیلیا ہیٹن کا کہنا ہے کہ چینی سیاست میں ہونے والی ایک طویل تبدیلی کا نقطہِ عروج ہے۔

یہ وہ اعلان ہے جس کی کئی لوگوں کو توقع ہے۔

صدر شی جن پنگ چین کے سیاسی منظر نامے پر چھا چکے ہیں۔ انھیں پارٹی کے حکمراں دھڑوں، فوج، اہم کاروباری شخصیات سب کی ہی حمایت حاصل ہے اور چین کے بانی ماؤ کے بعد شاید وہ طاقتور ترین صدر ہیں۔

ان کی تصویر اکثر بل بورڈز پر نظر آتی ہے اور ان کی سرکاری طور پر منظور شدہ عرفیت ’پاپا شی‘ سرکاری گانوں میں شامل ہوتی ہے۔

گذشتہ ہفتے تقریباً 80 کروڑ افراد نے چینی نئے قمری سال کی تقریبات دیکھیں جن میں صدر شی کی ’چینی سوچ کے نئے دور‘ کی تشہیر کی گئی۔

مزید پڑھیے

صدر شی جن پنگ چیئرمین ماؤ کی صف میں شامل

چین: شی جن پنگ کو تیسری مرتبہ صدر بنانے کی ’کوشش‘

چین کے صدر شی جن پنگ نے جانشین کا اعلان نہیں کیا

کئی دہائیوں تک کمیونسٹ پارٹی چینی سیاست پر حاوی رہی ہے۔ اب شی جن پنگ اسی اہمیت کے حامل ہوگئے ہیں اور شاید اب وہ پارٹی سے بھی اہم ہو گئے ہیں۔

ماضی میں کمیونسٹ پارٹی کا کنٹرول انتہائی مضبوط ہوتا تھا مگر اس کے سربراہ کے پاس کمانڈ کچھ ہی عرصے کے لیے ہوتی تھی۔ ایک رہنما ذمہ دارانہ انداز میں ایک دہائی تک کام کرنے کے بعد دوسرے کو کنٹرول دے دیتا تھا۔

مگر شی جن پنگ نے عہدہ سنبھالنے کے ابتدائی دنوں میں ہی اس نظام میں تبدیلیاں شروع کر دی تھیں۔ انھوں نے جلد ہی ایک انسدادِ بدعنوانی مہم شروع کی اور تقریباً دس لاکھ پارٹی حکام کے خلاف رشوت یا حکومتی وسائل ضائع کرنے کے سلسلے میں کارروائیاں کیں۔

مگر اس مہم میں شی جن پنگ کے مخالفین خاموش ہو گئے۔

عہدہ ملنے کے ابتدائی روز میں ہی شی نے واضح سیاسی سوچ کا مظاہرہ کیا اور بڑے قومی پروجیکٹس جیسے کہ ون بیلٹ ون روڈ کی پروموشن کی اور چین کے وسیع پلان جیسے کہ 2020 تک غربت کے خاتمے کا اعلان کیا۔

کافی عرصے سے چہمگوئیاں کی جا رہی تھیں کہ وہ صدارت میں توسیع کی کوشش کریں گے۔ وہ اتنے طاقتور تھے کہ پانچ برسوں میں کسی کو انھیں چیلنج کرنا مشکل لگتا تھا۔

پارٹی کی قیادت اس اعلان کے حوالے گراؤنڈ ورک تیار کر رہے تھے۔ ایک اہم پارٹی میٹنگ میں حال ہی میں شی نے جانشین کا اعلان نہیں کیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں