لیبیا: جہاں قانون کی بالادستی نہیں وہاں انتخابات کروانے کے کیا معنی ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حریف مسلح گروہ محلف علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے کی جنگ لڑ رہے ہیں

یہ بہت واضح ہے کہ لیبیا عام انتخابات کے لیے تیار نہیں ہے لیکن بین الاقوامی برادری وہاں انتخابات کروانے کے لیے پرعزم نظر آتی ہے۔ یہ کہنا ہے بی بی سی کی شمالی افریقہ کے لیے نامہ نگار رانا جواد کا اور انھوں نے وہاں موجودہ حالات کا احاطہ کچھ یوں کیا ہے:

’لیبیا کے سیاستدان، اقوام متحدہ اور یورپی یونین کے رکن ممالک کئی ماہ سے اس بارے میں بات چیت کر رہے ہیں۔ امید ہے کہ صدارتی اور پارلیمانی انتخابات رواں برس کے دوران ہی ہوں گے۔

فروری ختم ہونے والا ہے اور اس بارے میں اگر اب تک کچھ ہوا ہے تو وہ ہے ووٹرز کی رجسٹریشن۔ 23 لاکھ سے زیادہ افراد جو کہ ملک میں ووٹ ڈالنے کی عمر کی تقریباً نصف تعداد ہے، اب ووٹ ڈالنے کے لیے تیار ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

لیبیا: چھ سال بعد ’سیف الاسلام قذافی رہا‘

’پیسہ کمانے کے لالچ نے ان کی جان لے لی‘

لیبیا پناہ گزین بچوں کے استحصال کا گڑھ

لیکن کرنل قذافی کے دور اقتدار کے خاتمے کے چھ برس بعد اب ملک مختلف مسلح گروپوں کے کنٹرول میں ہے۔

بے یقینی اور ناامیدی اتنی زیادہ ہے کہ آئے دن لیبیا کے شہری جان خطرے میں ڈال کر سمندر کے خطرناک سفر کے ذریعے یورپ جانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

ان کی قسمت دو حریف حکومتوں کے درمیان جھول رہی ہے۔

طاقتور مسلح گروہوں نے اپنے اپنے خطے میں گرفت مضبوط کر رکھی ہے اور مرکزی حکومت کا ان پر کسی قسم کا کوئی اثر و رسوخ نہیں ہے۔

سیاسی تعطل

لیبیا میں اقوام متحدہ کے ایلچی غصان سلامے کے سامنے ایک بہت بڑی مشکل ہے۔

وہ لیبیا میں ان طبقات سے بات کر رہے ہیں جنھیں پہلے نظر انداز کیا جاتا رہا ہے، اِن میں طلبا اور ملک کے مشرقی علاقوں کے رہائشی شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سنہ 2014 میں منعقد ہونے والے انتخابات کے نتائج کو متنازع قرار دے کے حریف گروپوں نے حکومت بنانے کے دعوے کیے تھے

مسٹر سلامے جو منصوبہ لیبیا لے کر آئے تھے وہ تین نکات پر مشتمل ہے:

  • سنہ 2015 میں ہونے والے سیاسی معاہدے میں تبدیلی۔ اس معاہدے سے ایک بینالاقوامی حمایت یافتہ لیکن ایک غیر فعال حکومت تو اقتدار میں آئی تھی۔
  • نینشنل کانفرنس کا انعقاد
  • آئین پر ریفرینڈم اور ایک برس کے اندر عام انتخابات کا انعقاد

لیکن سیاسی معاہدے میں ترمیم پر مذاکرات گذشتہ اکتوبر میں تعطل کا شکار ہوگئے تھے اور لیبیا کے سیاسی اور ملٹری فریقین تفریق کاشکار اور بٹے ہوئے ہیں اس لیے اب سب صرف تیسرے نکتے ہر بات کر رہے ہیں۔

انتخابات کے بارے میں خدشات

بعض حلقوں کا خیال ہے کہ انتخابات سے لیبیا متحد ہو سکے گا۔ لیکن زیادہ خدشہ یہ ہے کہ یہ اسے مزید بحران میں ڈال دے گا۔

پر امن مذاکرات کے لیے سیاسی پختگی، فعال اداروں اور ایسے سکیورٹی ڈھانچوں کی ضرورت ہوتی ہے جو قوم کی خدمت کر رہے ہوں۔

لیبیا کے پاس ایک کامیاب ریاست کے قیام کے لیے ان میں سے کوئی بھی ستون موجود نہیں ہے۔

اقوام متحدہ کے کارکنوں کا موقف ہے کہ لیبیا کے عوام 'تعطل کے خاتمے' کے لیے سیاسی تبدیلی چاہتے ہیں۔

لیکن بٹے ہوئے تمام مسلح گروہوں کو ایک پلیٹ فارم پر لائے بغیر کسی قسم کی تبدیلی آئی بھی تو اس کا چہرہ کیسا ہوگا؟

لیبیا پر کام کرنے والے ایک غیر ملکی ماہر کا کہنا ہے کہ 'سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ اس وقت انتخابات کروانے کا مطلب ایک بڑے پیمانے پر ایسا مسلح تصادم ہے جو پہلے نہیں دیکھا گیا'۔

صدارتی امیدواروں میں شامل افراد میں موجودہ وزیر اعظم فیاض السراج اور مشرقی لیبیا کے ملٹری کمانڈر خلیفہ حفتار شامل ہیں جو ملک میں تفریق کی بہت بڑی وجہ سمجھے جاتے ہیں۔

اُدھر کرنل قذافی کے وکیل اور رشتے دار دنیا کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ سیف اسلام قذافی بھی صدارتی امیدوار کے طور پر موزوں ہیں۔

انہیں مبینہ طور پر گذشتہ موسم گرما میں ایک ملیشیا نے رہا کر دیا تھا اور انھیں تین برس سے نہیں دیکھا گیا ہے۔ وہ سنہ 2011 میں پیش آنے والے مبینہ جنگی جرائم کے لیے عالمی عدالت انصاف کی جانب سے مطلوب ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption لیبیا کے عوام نے امید کی تھی کے کرنل قذافی کے اقتدار کے خاتمے کے بعد وہ ایک بہتر مستقبل دیکھ سکیں گے

خطرہ ہے تو پھر انتخابات کی حمایت کیوں؟

ایک مغربی سفارتکار نے بی بی سی کو بتایا کہ 'اس بارے میں آگاہی ہے کہ انتخابات کے جلد انعقاد سے خطرہ ہو سکتا ہے اور اس بارے میں ہر کوئی ہر وقت بات بھی کر رہا ہے لیکن ہمیں کسی حل کے لیے کام کرتے رہنا ہے'۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ فرانس وہ ملک ہے جو انتخابات کے لیے سب سے زیادہ زور دے رہا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا 'لیبیا میں جاری تعطل کو ختم کرنے کے لیے بین الاقوامی برادری اور کچھ نہیں کر سکتی اور ان کو دکھانا ہے کہ وہ کچھ کر رہے ہیں۔'

آپ کو لیبیا کے کئی حمایتیوں سے اسی قسم کا ردعمل موصول ہوگا۔

لیبیا میں اقوام متحدہ کے ایلچی غصان سلامے جن سیاسی اور ملٹری گروہوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں انھوں نے ان کے ساتھ کام کرنے کے لیے خواہش ظاہر کی ہے لیکن ساتھ ہی ہر قسم کی پیش رفت کی راہ میں بھی حائل ہو رہے ہیں۔

کئی فریقین صرف اس لیے جلد از جلد انتخابات چاہتے ہیں تاکہ اپنے اقتدار کو مضبوط کر سکیں۔

اس کے ردعمل میں مسٹر سلامے نے رواں ماہ ایک نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ 'سب سے اہم اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ تمام فریقین انتخابات کے نتائج کو قبول کریں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption لیبیا میں آخری عم انتخابات چار سال پہلے منعقد ہوئے تھے

کئی ماہ سے قومی مصالحت اور لیبیا کے اداروں کو مضبوط کرنے کے بجائے تمام تر توجہ اِن پُرخطر انتخابات کی تشہیر پر مرکوز ہے۔

سنہ 2014 میں قانون ساز اسمبلی کے لیے منعقد کیے گئے انتخابات میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی تھی۔

یہ وہ وقت تھا جب حریف مسلح گروہ اتنے منظم نہیں ہوئے تھے اور سیاسی گروپوں کے درمیان مسائل بھی حل طلب لگتے تھے۔

تو آج اگر نئے انتخابات منعقد ہوتے ہیں تو یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ملک میں کس قسم کے حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں