’وہ کچھ عجیب ضرور ہے مگر‘

ڈاکٹر صوفی اور ٹرسٹن
Image caption ڈاکٹر صوفی اپنے بیٹے ٹرسٹن کے ساتھ جنوبی افیقے میں رہتی ہیں

ڈاکٹر سوفی بِلنگٹن کے 11 سالہ بیٹے کو ایسپرگرز سنڈروم نامی مرض لاحق ہے جس میں بچے کی نشو و نما مکمل نہیں ہوتی اور اسے دوسرے لوگوں سے میل جول اور رابطے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بچہ مسلسل ایک ہی حرکت کرتا رہتا ہے، ایک ہی چیز میں مگن رہتا ہے۔

ڈاکٹر سوفی کے بیٹے کا نام ٹرسٹن ہے جو سکول سے چھٹیوں پر تھا۔ اپنے بیٹے کے ساتھ گھر پر دو مشکل دن گزارنے کے بعد ڈاکٹر سوفی نے ایک نہایت جذباتی نظم لکھ کر اپنے فیس بُک پیج پر پوسٹ کی تو اسے بہت پذیرائی ملی۔

انھوں نے اپنی نظم کا آغاز ان الفاظ سے کیا: ’وہ عجیب ہے، میرے آپ کے لیے عجیب ہے، میرا بچہ‘ اور پھر آگے چل وہ بتاتی ہیں کہ ٹرسٹن 11سال کا ہونے کے باوجود اپنے جوتوں کے تسمے کیوں نہیں باندھ سکتا، حالانکہ یہ عجیب بچہ نینو ٹیکنالوجی اور انسانی خلیوں کی ٹیکنالوجی کو خوب سمجھتا ہے۔

’وہ مہربان ہے، وہ فراخدل ہے، لیکن دنیا اس کو شک کی نظر سے دیکھتی ہے۔ دنیا صرف اس کا غصہ، اس کی جھنجلاہٹ دیکھتی ہے۔‘

ڈاکٹر سوفی کہتی ہیں کہ سکول بند ہونے سے ان کے بیٹے کے روزانہ کے معمول میں جو تبدیلی آئی اس سے وہ بہت بیزار ہو گیا اور ہر بات پر بگڑنے لگا۔ ایسے میں انھوں نے جو محسوس کیا، اسے ایک نظم کی شکل میں لکھ دیا۔

فیس بُک پر ان کی اس نظم کو اتنی پذیرائی ملی کہ کئی لوگوں نے ان سے پوچھا کہ آیا وہ ان کی نظم خصوصی بچوں کے اساتذہ کی تربیت کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔

ڈاکٹر سوفی نے لکھا کہ ’سچ پوچھیں تو یہ نظم میں نے بےبسی اور شدید مایوسی کے عالم میں لکھی ہے۔ میں جذباتی طور پر بالکل ہلکان ہو چکی تھی۔ یہ میرے دل سے نکلے ہوئے الفاظ ہیں۔‘

Image caption ’کیمیا کے فارمولے اس کے لیے کھیل ہیں‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جب میں یہ نظم لکھ رہی تھی تو سوچ رہی تھی کہ وہ والدین جن کے بچوں کو ایسپرگرز سنڈروم ہے وہ کیا محسوں کرتے ہوں گے۔ شاید اہم سب کو اپنی اپنی کہانی ایک دوسرے کو سنانی چاہیے۔‘

ڈاکٹر سوفی کا تعلق برطانیہ سے ہے اور وہ جنوبی افریقہ میں رہتی ہیں۔

میرا بچہ (جسے لڑکا یا بچہ کہلوانے سے نفرت ہے)

کچھ عجیب سا مختلف ہے وہ

میرے تمہارے واسطے

میرا یہ بچہ

شور اسے پسند نہیں

نہ کوئی تاریکیاں

نہ ہی اجنبی ہاتھ

ایک لمحے میں وہ بھانپ لیتا ہے ساختیں

پیچیدہ اشکال میں چُھپی پہیلیاں

ہر بندوق کا وہ آپ کو بتائے گا

کب بنی تھی یہ بندوق

کتنی دور تک ہے اس کی مار

مگر تسمے وہ اپنے باندھ سکتا نہیں

کیمیا کے فارمولے اس کے لیے کھیل ہیں

ویسے ہی جیسے نینوٹیکنالوجی کے ہیر پھیر

لیکن گھڑی پہ کیا بجا ہے، وہ جانتا نہیں

کچھ عجیب طرح سے مختلف ہے

میرا بچہ میرا بیٹا

پردہ نہیں کوئی اس کی بات میں

بول دیتا ہے چاہتا ہے جو

درمیاں وہ رکتا نہیں

پھر بھی وہ آ کر گلے میرے ہی لگتا ہے

کہتا ہے مجھ سے اسے پیار ہے

عجب تو ہیں کچھ اس کی حرکتیں

کھلے منہ چباتا ہے وہ

راستے اس کے ہیں رُکے ہوئے

سلسلے معمول کے ٹوٹے ہوئے

مگر ڈوبتے مکڑے کو وہ دیکھ سکتا نہیں

بچانا ہے ہر ننھی جان کو اُسے

عجب تو ضرور ہے

بچہ یہ میرا

ایک امتحاں ہے یہ

ایک بے بسی ہے یہ

میری مایوسی بھی یہی ہے

مگر ہنسا دیتا روز مجھے

کچھ عجیب تو ضرور ہے

محبت سے بھرا ہے یہ

مہربان ہے بے شمار

دل کا ہے سخی بہت

مگر دنیا کو ان سے غرض کیا

دنیا محض دیکھتی ہے

اس کا چلانا، اس کا بیزار پن

لیکن

مجھے اسے سکھانا ہے

اسے راستہ سجھانا ہے

مہارتیں سکھانا ہیں

جو اس کا ہتھیار بنیں

جذبات کے اس تلاطم میں

جو ہے اس میں گامزن

عجب ہے ضرور

میرا یہ بچہ

نام ہے جس کا ٹرسٹن

لڑکا نہیں

بچہ نہیں

بچہ نہیں

ڈاکٹر سوفی کی اصل انگریزی نظم ہم یہاں نقل کر رہے ہیں۔

This Child of Mine (who hates being called boy or kid

He is wired differently

To you and me

This child of mine

He doesn't like loud noises

Or dark spaces

Or strangers touching his head

His brain can see in an instant the pattern

The layout

The solution to a puzzle

He can tell you every gun invented

The year

The range

The calibre

But he cannot tie his shoelaces at 11.

He reads the periodic table for pleasure.

Loves fusion

And nanotechnology

And Crispr

But he cannot tell the time from a clock face

He is different this child of mine

Has no filters

Speaks his mind

Has no pause button

But he hugs me and tells me he loves me every day

He has triggers this child of mine

Open-mouthed chewing

Enclosed spaces,

Broken routines

But he'll rescue drowning insects every time

He is different this child of mine

A challenge

A frustration

A despair

But his humour makes me laugh every day

He is different this child of mine

He is loving

He is kind

He is generous

But the world judges

Sees only the outbursts and over-reactions

He is wired differently this child of mine

And my role is to guide him

Soothe him

Give him tools

To negotiate this confusing world of emotion he fails to grasp

He is different this child of mine

His name is Tristan

Not boy

Not kid

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں