روسی صدر پوتن فلوریڈا پر بم کیوں گرانا چاہتے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Russian Government
Image caption روسی صدر کے سالانہ خطاب کے دوران یہ ویڈیو دکھائی گئی

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے روس کے نئے ناقابلِ تسخیر جوہری ہتھیار سے پردہ اٹھایا جس کی گرافک ویڈیو میں اسے فلوریڈا کی جانب بڑھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

لیکن کریملن کسی جوہری جنگ کی صوری میں سن شائن کہلانے والی ریاست کو کیوں نشانہ بنانا چاہتی ہے۔

فلوریڈا میں سیاحتی مقامات ہیں جن میں والٹ ڈزنی ورلڈ اور ایوورگلیڈز نیشنل پارک شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

دنیا کے جوہری ہتھیار کہاں کہاں ہیں؟

امریکہ کے سب سے بڑے بم میں کتنا دم ہے؟

ایٹمی حملے کا حکم کون دے سکتا ہے؟

یہاں کچھ بڑے اہم اہداف بھی ہیں جن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مارے لاگو ریزورٹ بھی ہے۔

امریکی محکمۂ دفاع پینٹا گون کی ترجمان کا کہنا تھا کہ انھیں صدر پوتن کی بیان بازی پر کوئی حیرت نہیں ہوئی۔

پینٹا گون کی ترجمان ڈانا وائٹ نے روسی دھمکی کو غیر اہم قرار دیتے ہوئے کہا ’امریکی عوام اس بات کا یقین رکھیں کہ ہم پوری طرح سے تیار ہیں۔‘

روسی صدر کی اس ویڈیو میں اینیمیشن کے ذریعے دکھایا گیا ہے کہ اس کے نئے ہتھیار امریکہ کی جانب جا رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ کی ریاست فلوریڈا میں جوہری ہتھیاروں سے محفوظ رہنے کے لیے کئی مورچے بنائے گئے ہیں جہاں وہ صدر بننے کے بعد کئی چھٹّیاں گزار چکے ہیں۔

مارے لاگو بنانے والوں نے تین مورچے سنہ 1927 میں کوریا کی جنگ کے دوران بنائے۔

صدر ٹرمپ کے گالف کورس میں بنا ایک دوسرا بم شلٹر مغربی پام بیچ سے چند میل کے فاصلہ پر ہے۔

ایک اور بنکر سابق امریکی صدر جان ایف کینیڈی کے لیے بھی بنایا گیا جو مارے لاگو سے زیادہ دور نہیں ہے۔

یہ پام بیچ ہاؤس سے 10 منٹ کے فاصلہ پر ہے جہاں اکثر صدر جان ایف کینیڈی قیام کیا کرتے تھے۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ان میں سے کوئی بھر بنکر براہِ راست ایٹمی حملے کا مقابلہ کرنے کا اہل نہیں۔

ایک اور عسکری ہدف امریکی سنٹرل کمانڈ ہوسکتی ہے جس کا صدر دفتر ٹامبا میں میکڈل کا ہوائی اڈا ہو سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption صدر پوتن مارچ 1028 کے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں

سینٹکام کہلانے والا یہ ادارہ مشرقِ وسطی، سنٹرل ایشیا اور نارتھ افریقہ میں کارروائیوں کا ذمہ دار ہے۔

تاہم تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ کسی بھی جوہری لڑائی کی صورت میں فلوریڈا کو نشانہ بنائے جانے کا امکان کم ہے۔

میتھیو کروئنگ اپنی کتاب ’دی لاجک آف امریکن نیوکلیئر سٹریٹیجی‘ میں لکھتے ہیں کہ روس کی ترجیح یہ ہوگی کہ وہ امریکہ کی مزاحمت کی صلاحیت کو نشانہ بنائے۔

ان کا خیال ہے ’روس شاید امریکہ کے جوہری گوداموں کو نشانہ بنائے۔ موتانا کا مالسٹورم ہوائی اڈہ، شمالی ڈیکوٹا میں مینوٹ فوجی ہوائی اڈہ، اوماہا کی آفٹس ائیر فورسز بیس میں قائم امریکی سٹریٹیجک کمانڈ کا ٹھکانہ، نبراسکا، اور وارن میں فضائی فوج کا اڈہ جس کی سرحدیں ویامنگ، کولاراڈو اور نبراسکا سے ملتی ہیں اس کا نشانہ ہو سکتے ہیں۔ ‘

وہ لکھتے ہیں کریملن امریکہ کی آبدوزوں کے آڈوں کو بھی نشانہ بنائے گا جن میں سے ایک بینگو بیس وانشگٹن میں ہے جبکہ دوسری کنگز بے، جارجیا میں ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ بھر میں 70 کے قریب فوجی اڈے ہیں۔

ان کے بقول بحیثیت مرکمِ کمانڈ اینڈ کنٹرول واشنگٹن کو مرکزی ہدف ہو گا ہی لیکن اس کے علاوہ روس امریکہ کے 131گنجان شہروں کو نشانہ بنا سکتا ہے تاکہ اس کی صنعتی صلاحیت تباہ کی جا سکے اور زیادہ سے زیادہ تباہی پھیلائی جائے۔

انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار سٹریٹیجک سٹڈیز کے مارک فٹز پیٹرک نے بی بی سی کو بتایا کہ ’فلوریڈا کو نشانہ بنانے والی ویڈیو نشر کرنا جنگی حکمتِ عمل کا حصہ نہیں ہے۔‘

’یہ ایک پیغام ہے۔ یہ ویڈیو دراصل علامتی ہے۔ محض ایک آرایشی بیان بازی۔‘

اسی بارے میں