کم جونگ ان کو جعلی برازیلی پاسپورٹ کی ضرورت کیوں؟

Una fotocopia de un pasaporte presuntamente usado por Kim Jong-un en su juventud تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کم جونگ ان کے مبینہ جعلی پاسپورٹ کی کاپی رؤٹرز نے حاصل کی

کیا شمالی کوریائی لیڈر کم جونگ ان اور ان کے والد کم جونگ ال نے برازیل سے پاسپورٹ حاصل کیے ہیں؟

اس ہفتے، نئے شواہد سامنے آئے ہیں کہ شمالی کوریا کے موجودہ صدر اور 1990 کے دہائی میں ان کے پیش رو نے جعلی طور پر برازیل پاسپورٹ حاصل کیے۔

رؤٹٹرز نیوز ایجنسی نے ان دستاویزات کی نقول حاصل کی ہیں جن میں کم جونگ نے ’جوسف پیوگ‘ کا نام استعمال کیا، ان کے والدین کا نام رکارڈو اور مارسل درج ہے۔

ان کاغذات میں ان کی تاریخ پیدائش 1 فروری، 1983 تحریر ہے۔ جبکہ شمالی کوریائی رہنما 8 جنوری کو اپنی سالگرہ مناتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’کم جونگ ان سے ملنا اعزاز کی بات ہوگی‘

’سی آئی اے کی کم جونگ ان کو قتل کرنے کی سازش‘

ان کے والد کم جونگ ال کے جعلی پاسپورٹ میں ان کا نام ’آئیجونگ ٹچی‘ درج ہے۔

اگرچہ ابتدائی طور پر بی بی سی برازیل کو علم ہوا ہے کہ دستاویزات میں درج ہونے والی معلومات وزارت خارجہ کی طرف سے باقاعدہ جاری کی گئی تھیں اور یہ وہاں رجسٹرڈ تھے تاہم برازیل کی وفاقی پولیس نے اسے مسترد کیا ہے۔

برازیل کے خارجہ امور کی ومرات نے بی بی سی برازیل کے پاسپورٹ کی تصدیق یا انکار نہیں کیا۔ تاہم انھوں نے بتایا کہ انھیں اس معاملہ کا علم ہے۔

رؤئٹرز نے اپنے ذرائع کے حوالے سے کہا کہ پاسپورٹ کے دستاویز 1990 کے دستاویزات جیسی ہے۔

وہ دعوی کرتے ہیں کہ انہیں یہ پاسپورٹ 1996 میں جمہوریہ چیک کے دارالحکومت پراگ میں برازیل کے سفارت خانے میں جاری کیا گیا تھا۔

دیگر ذرائع نے رؤئٹرز کو بتایا کہ دستاویزات مغربی ممالک میں ویزا کی درخواست کرنے کے لیے استعمال کیے گئے تھے۔ لیکن اس بات کی تصدیق نہیں کی جا سکتی کہ آیا ویزے جاری کیے گئے اور انہیں استعمال بھی کیا گیا یا نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اس میں تصویر تو ان کی ہے لیکن نام اور والدین کے نام تبدیل ہیں

شمالی کوریا کے حکمران خاندان کو غلط دستاویزات کی ضرورت کیوں پڑی اور انھوں نے برازیل کا انتخاب کیوں کیا؟

برازیل کے حکام نے وضاحت کی ہے کہ دستاویزات کی صداقت ابھی تک طے نہیں کی جاسکتی ہے کیونکہ وہ دو دہائیوں سے زائد عرصے قبل جاری کیے گئے تھے جب موجودہ کمپیوٹر جیسے کمپیوٹر سسٹم نہیں تھے۔

اس کے علاوہ ہر ملک میں برازیل کے سفارت خانے پاسپورٹ جاری کرنے کے لیے ذمہ دار تھے اور اس وقت کے دستاویزات میں کم سیکورٹی کنٹرول موجود تھے۔

رؤئٹرز کی جانب سے پاسپورٹ کی حاصل کردہ فوٹو کاپیوں سے متعلق یہ شبہ بھی ہے کہ شاید شمالی کوریائی رہنماؤں کی تصاویر بعد میں لگائی گئی ہوں۔ اگرچہ یہ فوٹو کاپی مستند ثبوت نہیں ہوتی لیکن یہ پہلی بار نہیں کہ کم خاندان کے برازیلی پاسپورٹ سے تعلق سامنے آیا ہو۔

2011 میں جاپانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ کم جونگ ان اور ان کا بھائی کم جونگ چول نے گذشتہ دو دہائیوں میں برازیل کے دستاویزات کا استعمال کرتے ہوئے ٹوکیو کا دورہ کرنے کے لیے ملک میں داخل ہوئے۔

بی سی سی برازیل کو ذرائع نے بتایا ہے کہ ان پاسپورٹ نمبروں کے ساتھ کسی کا جنوبی امریکی ملک میں داخلے کا ریکارڈ نہیں ہے۔ تاہم، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ دوسرے ممالک میں داخل ہونے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتے۔

کم جونگ نام، شمالی کوریا کے موجودہ رہنما کے سوتیلے بھائی 2001 میں اپنے والد کے ساتھ ڈومینیکن پاسپورٹ کے ذریعے جاپان میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کم کے والد کو خطرناک ترین رہنما تصور کیا جاتا تھا

دوسرے ممالک کا استعمال کیوں؟

1990 کی دہائی اس کے اہم اتحادی سوویت یونین کے خاتمے کے بعد شمالی کوریا کے لیے ایک سخت وقت تھا۔

ملک میں قحط کی وجہ سے بحران تھا، اس پر اربوں ڈالر کے غیر ملکی قرضے تھے۔

سرد جنگ کے بعد عالمی سفارتکاری میں شمالی کوریا اور کم کے دوست ممالک کی تعداد کم تھی، لہٰذا اس ملک کا پاسپورٹ کا استعمال محدود تھا۔

کوریا کا حکمراں خاندان شاید رڈار کی حد سے باہر رہنا چاہتا تھا۔

برطانیہ میں شمالی کوریائی مسائل کے بارے میں ایک ماہر، ڈاکٹر جان نیلسن رائٹ نے حیرت کا اظہار کیا کہ کم جونگ نے جعلی پاسپورٹ کے ساتھ بیرون ملک سفر کرنے کی کوشش کی تھی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے نیلسن رائٹ کہتے ہیں کہ ’مجھے یہ کیوں کرنا ہوگا؟‘ کم جونگ ال بہت خطرناک تصور کیے جاتے تھے، ہم جانتے ہیں کہ انھوں نے کئی مواقع پر ماسکو اور بیجنگ کا دورہ کیا تھا، لیکن اس کے لیے شاید پاسپورٹ کی ضرورت نہیں تھی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 1990 کی دہائی اس کے اہم اتحادی سوویت یونین کے خاتمے کے بعد شمالی کوریا کے لیے ایک سخت وقت تھا

برازیل ہی کیوں؟

ایک عام تصور ہے کہ برازیل دھوکہ دہی کے لیے پسندیدہ ملک ہے خاص طور پر جو جعلی پاسپورٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ جنوبی امریکی ملک کی آبادی بہت متنوع النسل ہے، جس کی وجہ سے کسی بھی شخض کے برازیلی ہونے پر شک نہیں ہوتا۔

ساؤ پالو میں ایک بڑی کمیونٹی ہے جس کی جڑیں ایشیائی ہیں، بنیادی طور پر جاپان سے۔

اس کے باوجود برازیل کا پاسپورٹ سب سے قیمتی پاسپورٹ کی فہرست میں شامل نہیں ہوتا، جس کا مطلب ہے کہ پاسپورٹوں کی بلیک مارکیٹ میں اس کا شمار نہیں ہوتا۔

1990 میں، تاہم، ایک مختلف صورت حال تھی۔

برازیل کی وفاقی ڈیٹا بیس سروس خود کو تسلیم کرتی ہے کہ 2006 میں سکیورٹی اقدامات کی ایک سیریز متعارف کرانے سے پہلے، ’سب سے زیادہ جعلی پاسپورٹ برازیل کے بنتے تھے۔‘

یہ بھی قابل ذکر حقیقت ہے کہ کم اور ان کے والد کو جاری کئے گئے پاسپورٹ چیک ریپبلک میں برازیل کے سفارتخانے نے دیے۔

تب شمالی کوریا اور اس وقت کے چیکوسلوواکیا کے درمیان اقتصادی اور تعاون کا تعلق عروج پر تھے۔

اسی بارے میں