سٹیل پر ڈیوٹی عائد کرنا امریکہ کے لیے بھی نقصان دہ: آئی ایم ایف

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images

عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سٹیل اور ایلومنیم کی درآمد پر 10 سے 25 فیصد ڈیوٹی عائد کرنے کے مجوزہ اقدام پر سخت تنقید کی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے سٹیل کی درآمد پر 25 فیصد اور ایلومینم کی درآمد پر 10 فیصد ڈیوٹی لگانے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔

آئی ایم ایف نے متنبہ کیا ہے کہ اس قسم کے اقدام سے امریکہ کے ساتھ ساتھ دوسرے ممالک کو بھی نقصان ہو گا۔

ادارے نے کہا ہے کہ دوسرے ممالک بھی اپنی قومی سلامتی کے دفاع کے لیے صدر ٹرمپ کے نقش قدم پر سخت تجارتی پابندیاں عائد کریں گے۔

واضح رہے کہ امریکہ سب سے زیادہ سٹیل کینیڈا سے خریدتا ہے جبکہ کینیڈا کا کہنا ہے کہ مجوزہ ڈیوٹی سے سرحد کے دونوں جانب نقصان ہو گا۔

بہت سے دوسرے ممالک کے ساتھ ساتھ کینیڈا نے بھی کہا ہے کہ اگر صدر ٹرمپ آئندہ ہفتے اپنے اس منصوبے پر پیش رفت کریں گے تو وہ بھی جوابی کارروائی پر غور کریں گے۔

یہ بھی پڑھیے

ٹرمپ: امریکہ مزید ’جانبدارانہ تجارت‘ برداشت نہیں کرے گا

جرمنی میں امریکہ سے آزادانہ تجارت کے خلاف مظاہرہ

اس سے قبل یورپی یونین کے حکام نے کہا کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھاتوں پر بھاری محصول لگایا تو وہ اس کا 'سختی سے' جواب دے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق یورپ کے وزرائے تجارت امریکہ سے آنے والی ساڑھے تین ارب ڈالر مالیت کی درآمدات پر 25 فیصد ڈیوٹی عائد کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

عالمی تجارتی ادارے کے سربراہ رابرتو آسویدو نے کہا ہے کہ 'تجارتی جنگ کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔'

اس تنازعے کو صدر ٹرمپ کی اس ٹویٹ نے مزید ہوا دی جس میں انھوں نے کہا 'تجارتی جنگیں اچھی ہوتی ہیں۔'

صدر ٹرمپ نے منگل کو جب سٹیل کی درآمد پر 25 فیصد اور ایلومینم پر 10 فیصد ڈیوٹی عائد کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا تو اس کی بڑے پیمانے پر بین الاقوامی مذمت کی گئی۔

یورپی کمیشن کے سربراہ ژاں کلود ینکر نے اس کا سخت جواب دینے کا تہیہ کیا ہے۔

انھوں نے کہا: 'اگر غیر منصفانہ اقدامات سے ہماری صنعت متاثر ہوئی تو ہم چپ نہیں بیٹھے رہیں گے۔'

انھوں نے ایک جرمن ٹیلی ویژن سے بات کرتے ہوئے کہا: 'ہم ہارلے ڈیوڈسن (امریکی موٹر سائیکل کمپنی)، بوربن (شراب) اور نیلی جینز لیوائز پر ڈیوٹی لگا دیں گے۔'

ادھر فرانس کے وزیرِ معیشت نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ تجارتی جنگ میں کوئی فاتح نہیں ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ یورپی یونین اس کا 'سخت، منظم اور متحد جواب دے گی۔'

’تجارتی جنگ تو اچھی ہوتی ہے‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سٹیل اور ایلومینم کی درآمد پر ڈیوٹی لگاتے ہوئے کہا تھا کہ تجارتی جنگیں اچھی چیز ہیں۔ انھوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ امریکہ تجارت میں اربوں ڈالر کا نقصان اٹھا رہا ہے اور اس کے لیے تجارتی جنگ جیتنا آسان ہو گا۔

انھوں نے جمعرات کو کہا تھا کہ سٹیل کی درآمد پر 25 فیصد جبکہ ایلومینم کی درآمد پر دس فیصد ڈیوٹی لگائی جائے گی۔

کینیڈا، یورپی یونین ، میکسیکو، چین اور برازیل نے کہا ہے کہ وہ بھی جوابی اقدامات کے بارے میں غور کر رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے سٹیل اور ایلومینم پردرآمدی ڈیوٹی کے نفاذ سے امریکہ میں روزگار کے زیادہ مواقع پیدا نہیں کیے جا سکیں گے اس کے نتیجے میں اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا۔

امریکہ کی جانب سے سٹیل اور ایلومینم پر درآمدی ڈیوٹی کی شرح میں اضافے کی خبر سے ایشیا اور یورپ کے بازار حصص میں مندی دیکھی گئی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ تجارتی پالیسیوں نےامریکہ کی سٹیل اور الومینیم انڈسٹری کو تباہ و برباد کر دیا۔

’ہمیں کسی کو اپنے ملک، اپنی کمپنیوں اور اپنے ورکروں کا فائدہ نہیں اٹھانے دینا چاہیے۔

امریکہ دنیا کے تقریبا 100 ملکوں سے سٹیل درآمد کرتا ہے اور اس کی سٹیل کی درآمد اپنے ملک سے سٹیل کی برآمد سے چار گنا زیادہ ہے۔

امریکہ کی سٹیل انڈسری سنہ 2000 سے متاثر ہوئی ہے اور اس کی سالانہ پیداوار 11.2 کروڑ ٹن سے کم ہو کر 8.6 کروڑ ٹن رہ گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

امریکی اعلان سے جاپان کی کار کمپنی ٹویوٹا کے شیئرز میں دو فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ ٹویوٹا نے کہا کہ امریکی فیصلے سے آٹو کی صنعت کو نقںصان ہو گا۔

چین نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ مقامی صنعتوں کی حفاظت کےلیے اقدامات کرتے ہوئے تحمل کا مظاہرہ کرے۔

صدر ٹرمپ نے صدارت سنبھالنے کے فوراً بعد 1962 کے ایک قانون کے تحت سٹیل کی صنعت کے بارے میں تحقیقات کا اعلان کیا تھا۔

یہ قانون صدر کو اختیار دیتا ہے کہ وہ قومی سلامتی کو خطرے کے پیش نظر کسی قسم کی درآمد کو روکنے کا فیصلہ کر سکتا ہے۔

اسی بارے میں