ٹرمپ انتظامیہ کو ایک اور جھٹکا، صدر کے اہم اقتصادی مشیر گیری کون مستعفی

Director of the National Economic Council, Gary Cohn, speaks during a White House news conference on January 23, 2018 تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلیٰ ترین اقتصادی مشیر گیری کون نے استعفیٰ دے دیا ہے۔

یہ امریکی صدر کی ٹیم کے ہائی پروفائل استعفوں میں تازہ ترین استعفیٰ ہے۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ گیری کون نے کہا کہ ’اپنے ملک کی خدمت کرنا ایک اعزاز تھا۔‘

اسی بارے میں

امریکہ: ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس مستعفی

سرکاری خرچ پر مہنگا سفر: امریکی وزیرِ صحت مستعفی

قیاس آرائی کی جاری رہی ہے کہ چونکہ گیری آزاد تجارت کے حامی ہیں اس لیے وہ صدر ٹرمپ کی جانب سے ایلمونیم اور سٹیل کی در آمدات پر ٹیکس عائد کیے جانے کے منصوبے پر ناراض تھے۔

کون امریکی بینک گولڈ مین سکس بینک کے سابق صدر بھی رہے انھوں نے نے گذشتہ برس ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ٹیکس کی مد میں کی گئی اصلاحات میں مدد بھی کی۔

تاہم خیال ہے کہ یہ دونوں زیادہ قریب نہیں تھے۔

اگست سنہ 2017 میں گیری کون نے ورجینیا میں انتہائی دائیں بازو کی جماعت کی ریلی پر ڈونلڈ ٹرمپ کے ردعمل کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور کہا تھا کہ ’انتظامیہ کو بہتر کر سکتی ہے اور اسے کرنا ہوگا۔‘

گیری کون نے اپنے بیان میں کہا ’اپنے ملک کے لیے کام کرنا ایک اعزاز تھا اور امریکی عوام کے لیے اقتصادی نشوونما کے لیے سود مند قانون سازی کرنا خاص طور پر تاریخ صاز ٹیکس اصلاحات۔‘

بیان میں مزید کہا گیا ’میں صدر کا شکر گزار ہوں کہ انھوں نے مجھے یہ موقع دیا اور میں انہیں اور ان کی انتظامیہ کو کامیاب مستقبل کی دعا دیتا ہوں۔‘

اسی بارے میں