وہ جنھوں نے سال 2017 کو خواتین کا سال بنایا

مردوں کی جانب سے ہراساں کیے جانے کے خلاف می ٹو مہم نے امریکہ میں خواتین کو بااختیار بنایا لیکن یہ وہ واحد مہم نہیں تھی جو گذشتہ برس میں خواتین نے چلائی۔ ہم نے بی بی سی کے نامہ نگاروں سے کہا کہ وہ دنیا بھر سے ایسی ہی کامیاب مہمات کے بارے میں بتائیں جنھوں نے2017 کو خواتین کا سال بنا دیا۔

اسی بارے میں

’والدین کو ایسے واقعات سے بچاؤ کے طریقے بتانے چاہییں‘

ٹائم میگزین: وہ جنہوں نے جنسی ہراس پر چُپ توڑی

رائس بنی ریبلیئن: لارا اوئن، مشرقی ایشیا میں خواتین کے امور کی صحافی

رائس بنی تصویر کے کاپی رائٹ .

می ٹو مہم کے ذریعہ ہراسانی کو سامنے لانے کا رجحان پیدا ہوا لیکن چین جیسے ملک میں جہاں یک جماعتی نظام اور سخت سنسرشپ ہے، خواتین کے پاس سٹیٹس کو کو چیلینج کرنے کے لیے بہت محدود راستے رہ جاتے ہیں۔

یہ انھیں دو ایموجیز استعمال کرنے سے نہیں روک سکتے تھے وہ تھا چاولوں کا کٹورہ اور ایک خرگوش جو حکام سے بچنے کا طریقہ تھا۔

جنوری کے آغاز میں بیجنگ کی ایک معرروف یونیورسٹی کی طالبہ لوو ژی ژی نے چین میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ویبو پر ایک کھلے خط میں بیان کیا کہ اس کے سابق پروفیسر نے اس پر سیکس کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔

یونیورسٹی انتظامیہ نے تحقیقات کیں اور چنژیاؤو کو جنسی ہراسانی کا مجرم پایا اور انہیں ملازمت سے برخاست کر دیا گیا۔

چین میں ایسا پہلے بھی ہوا لیکن عوامی سطح پر اس طرح کے مسائل سے صرف نظر کر دیا جاتا ہے۔ لیکن اس مرتبہ یہ معاملہ مختلف تھا۔

اس کے بعد اس مہم کو چین میں حقوق نسواں کے کارکنوں، یونیورسٹی کی طالبات اور سابقہ طالبات کی حمایت بھی حاصل ہو گئی۔ جلد ہی یونیورسٹی نے طالبات کو خبردار کر دیا کہ اپنی تحریک کو دھیما کر دیں۔ اطلاعات ہیں کہ اس کھلے خط کو ہٹا دیا گیا اور ہیش ٹیگ کو بھی سنسر کیا جانے لگا۔

چاولوں والا خرگوش جسے چینی زبان میں ’می ٹو‘ کہا جاتا ہے اس تحریک کی عرفیت بن گیا۔ یہ خواتین کے لیے جنسی ہراس کے معاملے پر بنا کسی سنسر شپ کے بات کرنے کا سہارا بن گیا۔

جہاز کے عملے کے جسمانی ساخت سے بغاوت: نینا نزاروف، روس میں خواتین خواتین کے امور کی صحافی

روس تصویر کے کاپی رائٹ .

روس میں ہوائی جہاز کے عملے کی دو خواتین نہ ایک بڑی ایئر لائن ایئروفلوٹ پر ہرجانے کا دعوی کر دیا۔ ان کا الزام تھا کہ انہیں ان کی جسامت کی وجہ سے کم منافع بخش راستوں پر منتقل کر دیا گیا۔

جہاں حقوق نسواں کی کئی نوجوان کارکنان اس بات کی اہمیت پر زور دے رہی ہیں کہ جسامت کے حوالے سے مثبت رویوں کی کیا اہمیت ہے وہیں روس بیشتر لوگ اب بھی یہی سوچتے ہیں کہ کامیاب ہونے کے لیے ایک عورت کا نوجوان، دبلا اور جنسی طور پر پرکشش ہونا ضروری ہے۔

ایگینیا میگورانیا اور ارینا ایروسالیمشکایا کو اس بات کا احساس تب ہوا جب بالترتیب چھ اور 19 سال ائیر لائن کے ساتھ کام کرنے کے بعد سنہ 2016 میں ان کی تنخواہیں 30 فیصد تک کم کر دی گئی۔ جب انھوں نے اس پر احتجاج کیا تو ان کے افسران نے انہیں بتایا کہ وہ ایئروفلوٹ کے عملے کے لیے مقرر کردہ سائز کی حد کے مطابق نہیں ہیں۔

یہ روس کے سائز 48 یا برطانیہ کہ سائز 14 اور امریکہ کے سائم 12 کے برابر ہے۔

اس لیے بجائے دو دراز غیر ملکی پروازوں کے انہیں روس کے اندرونی پروازوں تک محدود کر دیا گیا۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ایسا کیا گیا ’تاکہ کوئی ہمیں دیکھ نہ سکے۔‘

دونوں خواتین نے اپنا پہلا مقدمہ ہار دیا جس پر سوشل میڈیا میں کافی غصہ دیکھنے میں آیا۔ تاہم اپیل کے بعد وہ یہ مقدمہ جیت گئی۔ عدالت نے فیصلہ دیا کہ کمپنی انہیں پوری تنخواہ دے اور انہیں جذباتی اذیت اٹھانے پر ہرجانہ بھی ادا کرنے کا حکم دیا۔

اگرچہ یہ رقم سراسر علامتی 5000 ربلز تھی تاہم دونوں خواتین اس پر خوش تھیں کیونکہ عدالت نے ایئر لائن سے اپنے ضوابط میں جسمانی ساخت سے متعلق حصّہ ختم کرنے کو کہا۔

ضروری اعداد و شمار: وینیسا بسچیسچیلٹر: لاطینی مریکہ اور کیریبیئن کی ایڈیٹر، بی بی سی نیوز ویب سائٹ

مقابلۃ حسن تصویر کے کاپی رائٹ .

خوبصورتی کی نمائش کرنے والے ادارے لاطینی امریکہ میں اپنے ناظرین کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ اس بات میں بھی کوئی حیرانی کی بات نہیں کہ 1952 میں مقابلۂ حسن ’مس یونیورس‘ کے آغاز سے اب تک یہاں کی 20 حسیناؤں نے یہ اعزاز حاصل کیا ہے۔

لاطینی امریکہ میں جہاں مردوں کی حاکمیت اور عورتوں کا خوصورت ہونا ہر چیز سے بڑھ کر ہے وہاں خوصبورتی کا معیار اب بھی بہت بلند ہے۔ اسی لیے وہاں پلاسٹک سرجری کافی مقبول ہے۔ نہ صرف امیر طبقے میں بلکہ عام معاشرے میں بھی۔

یہ ادارے ایسی نوجوان لڑکیوں کے لیے بطور ماڈل زیادہ معاوضہ والی ملازمت کے مواقع بھی ہوتے ہیں۔ انہیں سفر کے مواقع ملتے ہیں بیرونِ ملک نہ سہی کم از کم ملک کے اندر ہی۔

خطے میں ان کے غلبے کے حوالے سے قدرے تنقید بھی کی جاتی ہے۔ سنہ 2012 میں کولمبیا کی ریاست انتیوکیا کے اس وقت کے گورنر نے ان بیوٹی پیجنٹس نے سکولوں تک رسائی پر یہ کہہ پر پابندی لگائی کہ ’سکول تعلیم کے لیے ہیں نہ کہ رن ویز ہیں۔‘

انھوں نے کہا حسن کے بجائے سائنس کے مقابلے کا انعقاد کروائیں۔

اس علاقے کے زیادہ تر بیوٹی پیجنٹس سیاست سے آزاد ہوتے ہیں تاہم شرکا کی جانب سے عالمی امن کی خواہش کے اظہار کو قبول کر لیتے ہیں۔

اس لیے اس وقت مکمل تعجب کا سماں تھا جب اکتوبر میں مس پیرو نے سٹیج پر آ کر اپنے جسم کے خد و خال کی تفصیل بتانے کے بجائے صنفی تشدد کے اعداد و شمار بتانا شروع کر دیے۔

مقابلۂ حسن کی ایک امیدوار نے کہا ’میرے ملک میں گذشتہ ایک سال کے دوران 2202 عورتوں کو قتل کیا گیا۔‘

ایک دوسری نے کہا ’70 فیصد خواتین کو سڑکوں پر ہراساں کیا جاتا ہے۔‘

یہ بیانات انتظامیہ کے ساتھ مل کر تیار کیے گئے تھے لیکن یہ ان ناظرین کے لیے حیران کن تھا جنہوں نے شاید ہلکی پھلکی تفریح کے لیے اس پروگرام کو دیکھا۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ مقابلۃ حسن اس کے لیے صحیح جگہ نہیں تھی لیکن کئی نے اس اقدام کی حمایت کی اور سوشل میڈیا پر اس کی حمایت کی۔

تبدیلی کی مثال لڑکی: سارہ بکلے،100 ویمن صحافی

امریکہ تصویر کے کاپی رائٹ .

امریکی ریاست فلوریڈا کے سکول میں ویلینٹائن ڈے پر ہونے والی جان لیوا فائرنگ کے بعد ایک نوجوان لڑکی نے اپنے ساتھیوں کے اجتماعی غصے کا کا اظہار کیا۔ پُر آشوب جذباتی ایما گونزالز نے اپنے لوگوں کے غم اور غصے کا اظہار ایک خطاب میں کیا۔

انھوں نے کہا ’میں امریکہ صدر سے بخوشی یہ جاننا چاہوں گی کہ انھوں نے نیشنل رائفل ایسوسیایشن سے کتنی پیسے لیے ہیں۔‘

’او کے، آپ کچھ جاننا چاہتے ہیں؟ کوئی فرق نہیں پڑتا؟ میں پہلے سے جانتی ہوں۔ لاکھوں!‘

اگر صرف 2018 میں گولیوں کا نشانہ بننے والوں کو ان پر تقسیم کریں تو 5800 ڈالر ہر ایک کے حصہ میں آتے ہیں۔ ٹرمپ، کیا آپ کہ نزدیک لوگوں کی یہی قیمت ہے؟

بائی سسکیول ہونے کے ناطے گولزالز ایسی تمام کیمونیٹرز کی نمائندگی کرتی تھیں جو ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد سے متاثر ہوئیں۔

انھوں نے بی بی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس تحریک ے بارے میں آپ کتابوں میں پڑھیں گے۔ آپ یا تو بچوں کو قتل کر رہے ہیں یا انہیں بچا رہے ہیں۔‘

نام کی شناخت: فرانک ایمدی، مشرقِ وسطی میں خواتین خواتین کے امور کی صحافی

افغان تصویر کے کاپی رائٹ AFP

افغانستان میں قدامت پسند معاشرہ ہے جہاں عورت کو سرِعام اس کے نام سے پہچانا یا پکارا جانا ممنوع ہے۔ یہ بات مردوں کے لیے باعث شرم سمجھی جاتی ہے کہ اس کی ماں، بہن، بیٹی یا بیوی کو خاندان سے باہر کوئی نام سے جانتا ہے۔ یہ قانونی پابندی نہیں ہے تاہم ثقافتی پابندی ضروری ہے۔

شادی کے دعوت نامے سے لے کر قبر کے کتبے تک عورت کا نام کہیں نہیں لکھا جاتا بلکہ انہیں ان کے شوہر یا باپ کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ جیسے کے فلاں کی بیٹی یا فلاں کی بیوی یا فلاں کی ماں۔

گذشتہ برس افغان خواتین نے ایک آن لائن مہم شروع کی جس کا عنوان تھا ’میرا نام کہاں ہے؟ اس کا مقصد عورت کی شناخت کو ممنوع قرار دینے والی روایت کو ختم کرنا تھا۔

لالح عثمانی اس مہم کے منتظمین میں سے ایک ہیں۔ انہیں اس کی تحریک اس وقت ملی جب انھوں نے فیس بک پر ایک مشہور شاعی کی اہلیہ کی وفات کی خبر دیکھی۔ اس میں ان کا نام موجود نہیں تھا۔ انہںی احساس ہوا کے حتیٰ کہ بظاہر وسیع النظر پڑھے لکھے امیر طبقے میں بھی یہ روایت قائم ہے۔

انھوں نے مذہبی رہنماوں سے اپیل کی کہ وہ خواتین کی شناخت کے حوالے سے روایت بدلنے میں ان کی مدد کریں۔

لپ سٹک بغاوت: دیویا آریا، جنوبی ایشیا میں خواتین خواتین کے امور کی صحافی

لپ سٹک تصویر کے کاپی رائٹ LIPSTICK IN BURQA

انڈیا میں موسم گرما کے دوران ایک غیر معمولی بغاوت ہوئی جس میں سینکڑوں خواتین نے درمیانی انگلی اٹھاتے ہوئے سیلفیز پوسٹ کیں۔ ہندی زبان کی فلم ’لپ سٹک انڈر مائی برقع‘ آخر کار ریلیز ہوگئی۔ اس فلم میں انڈیا کے چھوٹے سے قصبے مںی رہنے والی چار خواتین کی خواہشات عکس بند کی گئی ہیں۔ اس فلم کے لیے چھ ماہ تک سنسر شپ سے قانونی لڑائی رہی۔

اس فلم کو ابتدائی طور پر خواتین پر بہت زیادہ مشتمل ہونے، سیکس کے مناظر کی بہتات، فحش الفاظ اور فحش آوازوں کی وجہ سے اجازت نہیں دی جا رہی تھی۔

سنسر بورڈ عموماً ایسے اعتراضات پر روشنی نہیں ڈالتا تاہم وہ فلموں میں مناظر کاٹنے یا فلم پر ہی پابندی لگا دیتا ہے۔ تاہم فلمساز اس کے خلاف عدالت میں جاتے ہیں۔

ماضی قریب میں سنسر بورڈ پر فلمی صنعت کی جانب سے فیصلوں سے متعلق سخت رویہ اپنانے پر تنقید کی گئی۔ بورڈ نے مناظر، الفاظ اور حتثی کے ایک بوسے تک کو کاٹنے کا مطالبہ کیا گیا۔

’لپ سٹک انڈر دی برقع‘ کی ہدایت کار النکریتا شریواستو نے بی بی سی کو بتایا ’مرکزی سنسر بورڈ فرسودہ اور غیر منطقی و چکا ہے۔ اس کے ارکان کو اندازہ نہیں ہے کہ صنفی مسائل کیا ہے اور صنفی سیاست کیا ہے۔‘

بالی وڈ روایتی طور پر مزاحمتی رویہ نہیں اپناتا لیکن اب یہ بدل رہا ہے۔ ہدایت کارہ النکریتا شریواستو اور ان کے فلم ساز کے لیے کان چھانٹ کے بعد اجازت نامہ حاصل کرنا کافی نہیں تھا۔ انھوں نے ایک پوسٹر شائع کیا جس میں ایک عورت کے ہاتھ کی درمیانی انگلی کی جگہ ایک لپ سٹک دکھائی گئی۔

اس فلم کی مرکزی اداکاراؤں ایسی ہی تصاویر پوسٹ کیں جس کے بعد لپ سٹک بغاوت کا ہیش ٹیگ استعمال کیا گیا۔ ڈیرھ ماہ تک فلم دکھائے جانے کے دوران مردوں اور عورتوں نے درمیانی انگلی دکھاتے ہوئے سیلفیز شیئر کیں۔

اب ریپ کرنے والے سے شادی نہیں: المہ حسین، عربی سروس کی خواتین خواتین کے امور کی صحافی

دلہن تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

عرب تہذیب میں ریپ کا شکار ہونے والی خواتین کو باعثِ شرم سمجھا جاتا ہے اور اس ڈر سے یہ جرم چھپایا جاتا ہے۔ ایسی خواتین کو اس معاملے مںی بولنے کے لیے نہ سماجی اور نہ ہی قانونی مدد حاصل ہوتی ہے۔ اور شناخت ہو جانے والے ریپسٹ سے متاٰرہ خاتون کی شادی کر دی جاتی ہے۔

یہ بتانا انتہائی مشکل ہے کہ یہ پدر شاہی ذہنیت کتنی طاقتور ہے۔ کئی تہذیبوں میں شادی سے پہلے لڑکی کا کنوارہ ہونا لازمی ہے۔

گذشتہ موسم گرما میں تیونس، لبنان اور اردن نے اس قانون کو حذف کر دیا جس میں متاثرہ لڑکی سے شادی کرنے والا ریپسٹ جیل کی سزا سے بچ جاتا تھا۔ اس کے لیے مقامی انسانی حقوق کے کارکن برس سے سرگرم تھے۔

لبنان میں ایک مہم کے دوران 30 سفید عروسی لباس درختوں کے ساتھ پطندوں سے لٹکائے گئے۔ اس سے پہلے عروسی لباس میں پٹیوں میں لپٹی ایک خاتون نے اس قانون کے خلاف احتجاج کیا تھا۔

اردن میں اسی مطالنے کے لیے انٹر نیٹ پر مہم چلائی گئی۔

مصر پہلا عرب ملک تھا جہیں 1999 میں یہ قانون ختم کیا گیا۔ تبدیلی سست رو سہی لیکن تین دوسرے ممالک نے بھی یہی کیا۔

بسوں میں تشدد کا خاتمہ: اوبیگیل اونی ، افریقہ میں خواتین خواتین کے امور کی صحافی

منی سکرٹ تصویر کے کاپی رائٹ AFP

19جولائی 2017 کو کینیا میں ایک خاتون کو بس میں مِنی سکرٹ پہننے پر جنسی حملے کا نشانہ بنانے، برہنے کرنے اور لوٹنے پر تین آدمیوں کو سزائے موت سنائی گئی۔

یہ مقدمہ نہ صرف کینیا بلکہ پورے افریقہ میں عورتوں کے لیے نہایت اہم تھا۔ یہ ملک میں پبلک ٹرانسپورٹ میں خواتین کو جنسی حملے اور ڈکیتی کا نشانہ بنائے جانے والے دو اہم واقعات میں سے ایک تھا۔ کینیا میں زیادہ تر خواتین بپلک ٹرانسپورٹ پر سفر کرتی ہیں۔

کینیا میں دیگر خواتین کی طرح انسانی حقوق کی کارکن ناؤمی مواؤرا کے لیے بپی یہ فیصلہ ایک اہم پیغام تھا کہ خواتین کے خلاف تشدد کو جرم قرار دیا جانا چاہیے۔ اور یہ یقین دہانی کروائی جانی چاہیے کہ خواتین چوامی مقامات پر تشدد سے آزاد ہوکر جا سکیں خصوصاً پبلک ٹرانسپورٹ پر۔

سنہ 20214 میں میں نیروبی میں ہزاروں افراد نے جنسی تشدد کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ اس کے بعد ’میرا لباں میرا انتخاب‘ کے نام سے چلنے والی مہم نہ عدالتی فیصلے کو متاثر کیا اور یہ عالمی مہم بن گئی۔

کینیا کے عدالتی فیصلے نے باقی افریقہ کو یہ واضح اشارہ دیا ہے کہ خواتین کے حقوق پامال نہیں کیے جانے چاہیئں۔

انسانی حقوق کی کارکن ناؤمی مواؤرا کا کہنا ہے کہ ’میرے خیال ہے کہ سینکڑوں لوگوں نے اس مہم کا ساتھ دیا۔ سب سے اہم یہ ہے کہ میں نے اپنی زندگی میں انصاف دیکھا۔‘

اسی بارے میں