شمالی کوریا نے کم کے بھائی کے قتل کے لیے زہریلی گیس استعمال کی: امریکہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کم جونگ نام شمالی کوریا کے سابق سربراہ کم جونگ ال کے سب سے بڑے بیٹے تھے لیکن اقتدار ان کے چھوٹے بھائی کو مل گیا

امریکی حکام اس فیصلے پر پہنچے ہیں کہ شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کے سوتیلے بھائی کو شمالی کوریا کی حکومت کے حکم پر قتل کیا گیا تھا۔

کم جونگ نام 2017 کو ملیشیا کے شہر کوالالمپور کے ہوائی اڈے پر اس وقت ہلاک ہو گئے تھے جب دو عورتوں نے ان کے چہرے پر وی ایکس نرو ایجنٹ نامی زہر مل دیا تھا۔

ان عورتوں کا کہنا ہے کہ وہ سمجھ رہی تھیں کہ وہ ایک مزاحیہ ٹی وی شو کے لیے ایسا کر رہی ہیں۔ ان پر قتل کا مقدمہ چل رہا ہے۔

اسی بارے میں

کم جونگ نام وی ایکس کا نشانہ کیسے بنے؟

’کم جونگ نام اعصاب شکن زہر کا نشانہ بنے‘

’کم جونگ نام کو قتل کرنے کے 90 ڈالر ملے‘

امریکہ نے کہا ہے کہ وہ اس کے بعد شمالی کوریا پر نئی پابندیاں عائد کر رہا ہے۔

امریکی محکمۂ خارجہ کی ترجمان ہیدر نورٹ نے کہا: 'کیمیائی ہتھیاروں کے خلاف بین الاقوامی قواعد کی کھلی خلاف ورزی شمالی کوریا کے غیر محتاط انداز کو مزید عیاں کرتی ہے اور اس بات کو اجاگر کرتی ہے کہ ہم شمالی کوریا کے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا کوئی بھی پروگرام برداشت نہیں کر سکتے۔'

امریکہ پہلے بھی الزام لگاتا رہا ہے کہ کم جونگ نام کے قتل کے پیچھے شمالی کوریا کا ہاتھ ہے۔

شمالی کوریا اس کی تردید کرتا ہے۔

ان نئی پابندیوں کا اطلاق پانچ مارچ سے ہو گا اور ان کی نوعیت بڑی حد تک علامتی ہو گی۔ امریکہ نے پہلے ہی شمالی کوریا پر بڑے پیمانے پر معاشی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

یہ اعلان اس کے ایک روز بعد ہوا ہے جب جنوبی کوریا کا ایک اعلیٰ سطح کا وفد شمالی کوریا کے دورے سے واپس آیا ہے۔ وہاں اس نے شمالی کوریا کے سربراہ سے بھی ملاقات کی تھی۔

دونوں ملکوں کے سربراہ اگلے ماہ ایک تاریخی ملاقات کرنے جا رہے ہیں۔

یہ دونوں ملکوں کے سربراہوں کی ایک عشرے میں پہلی ملاقات ہو گی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ یہ پیش رفت مثبت ہے اور یہ کہ شمالی کوریا کا یہ عندیہ خوش آئند ہے کہ وہ اپنے ایٹمی ہتھیاروں سے دست بردار ہو سکتا ہے۔ تاہم انھوں نے کہا کہ یہ جھوٹی امید بھی ہو سکتی ہے۔

کم جونگ نام کو شمالی کوریا کی قیادت نے نظر انداز کر رکھا تھا اور اقتدار ان کے چھوٹے بھائی کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ وہ اپنا زیادہ تر وقت مکاؤ، چین اور سنگاپور میں گزارتے تھے۔

انھوں نے شمالی کوریا پر اپنے خاندان کے اقتدار کے خلاف آواز اٹھائی تھی اور 2012 میں آنے والی ایک کتاب میں لکھا تھا کہ ان کہ ان کے بھائی میں قائدانہ صلاحیتوں کا فقدان ہے۔

اسی بارے میں