عدالت میں بجلی کے جھٹکے دیے جانے پر ملزم کی سزا ختم

جج جارج گیلاگر تصویر کے کاپی رائٹ TEXAS LAWYER
Image caption جج جارج گیلاگر

امریکی میڈیا کے مطابق ریاست ٹیکسس کی اپیل عدالت نے اس شخص کی سزا ختم کر دی ہے جسے ایک جج نے نامناسب طریقے سے عدالت کے اندر بجلی کے جھٹکے لگوائے تھے۔

ٹیری لی مورس کو ایک بچی سے جنسی افعال کرنے کا مطالبہ کرنے کے جرم میں 60 برس قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

جب مورس نے عدالت میں سوالوں کے جواب دینے سے انکار کیا تو جج جارج گیلاگر نے بیلف سے کہا کہ وہ ایک سٹن بیلٹ کے ذریعے مورس کو 50 ہزار وولٹ کے جھٹکے لگائیں۔

اعلیٰ عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ عدالت میں سزا دینے کے لیے سٹن بیلٹ استعمال نہیں کی جا سکتی۔

مورس نے 2014 میں اپنے خلاف دیے گئے فیصلے کے خلاف اپیل کی تھی اور کہا تھا کہ جج نے سوالوں کے جواب نہ دینے پر سٹن بیلٹ کے استعمال کا حکم دے کر ان کے آئینی حقوق پامال کیے۔

ٹیکسس کی ٹیرنٹ کاؤنٹی کی عدالتوں میں سٹن بیلٹس استعمال ہوتی ہیں اور انھیں ملزموں کی کمر یا ٹانگوں کے گرد باندھا جاتا ہے اور اگر ملزم بےقابو ہو جائے تو اسے کرنٹ لگایا جاتا ہے۔

مورس نے کہا ہے کہ وہ بجلی کے جھٹکوں کے خوف سے دوبارہ عدالت نہیں جانا چاہتے تھے۔

اپیل عدالت نے 28 فروری کو فیصلہ دیا کہ مورس کو بجلی کے جھٹکے دینا اور انھیں عدالت سے نکال باہر کرنا ان کے اس آئینی حق کی خلاف ورزی ہے جس کے تحت انھیں عدالت میں موجود رہنے اور گواہوں پر جرح کا حق حاصل ہے۔

اپیلز کورٹ نے کہا ہے کہ ان پر نئے سرے سے مقدمہ چلایا جائے۔

مورس پر الزام تھا کہ انھوں نے ایک 15 سالہ بچی سے جنسی فعل کرنے کو کہا تھا۔ جج گیلاگر نے ان سے پوچھا کہ وہ 'قصوروار' یا 'بےگناہ' کی درخواست دیں۔

جب مورس نے کہا کہ وہ جج اور وکیل صفائی کے خلاف مقدمہ دائر کر رہے ہیں تو جج نے کہا کہ اگر انھوں نے 'قواعد کی پاسداری نہیں کی' تو انھیں بجلی کے جھٹکے لگائے جائیں گے۔

جج نے انھیں دو مزید دفعہ شاک لگانے کا حکم دیا۔ مورس نے عدالت کو بتایا تھا کہ انھیں دماغی بیماری ہے اور شکایت کی کہ انھیں تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

مورس کے وکیل بل رے نے ٹیکسس کے ایک اخبار کو بتایا کہ انھوں نے سٹن بیلٹ کے استعمال پر اس لیے اعتراض نہیں کیا کہ ان کا رویہ 'ایسی توپ کی طرح تھا جو کسی بھی وقت چل سکتی ہے۔'

اپیلز کورٹ نے کہا کہ ان کے حکم سے واضح ہو جاتا ہے کہ ٹیکسس کے ججوں کو ملزمان کو عدالت کا قواعد کی خلاف ورزی پر بجلی کے جھٹکے لگانے کی اجازت نہیں ہے۔

جسٹس ایوون رودریگز نے لکھا: 'ہم نے ایسا رویہ پہلے کبھی نہیں دیکھا اور نہ ہی ہم آئندہ کبھی اسے دیکھنا چاہتے ہیں۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں