سعودی عرب میں بچی پر شیر کا حملہ، ٹرینر حراست میں

شیر تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ٹرینر فیصل عسیری کا کہنا ہے کہ لگتا ہے کہ بچی کے سر پر لگے تتلی کے رِبن نے شیر کو توجہ اپنی جانب کرائی

سعودی عرب کے شہر جدہ میں شیر کے بچے کا ایک بچی پر حملے کے بعد شیر کے ٹرینر کو حکام نے حراست میں لے لیا ہے۔

شیر کے بچے کا بچی پر حملے کے بعد سے عوام میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ جدہ میں ہونے والے فیسٹیول کے منتظمین کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

’شیروں کے غیرقانونی شکاری کو شیر کھا گئے‘

یہ واقعہ جدہ میں ہونے والے فیسٹیول میں شیر کے پنجرے کے اندر پیش آیا۔

منتظمین بچوں کو شیر کے پنجرے کے اندر لے گئے اور شیر نے بچی پر حملہ کر دیا۔

سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شیر کے بچے نے ایک بچی کو کونے میں پکڑا۔ شیر اپنی پچھلی ٹانگوں پر کھڑا ہے اور اس نے بچی کا سر اپنے پنجرے میں پکڑ لیا۔

یہ بچی شیر کے چنگل سے اس وقت نکل سکی جب ایک مرد نے شیر کے بچے کو پکڑا۔

یہ بچی بغیر کسی زخم کے پنجرے سے باہر نکل آ گئی۔

حکام نے اس بچی کی شناخت نہیں بتائی ہے۔

وارننگ: اس خبر کے آخر میں ویڈیو ہے جو کچھ لوگوں کے لیے پریشانی کا باعث ہو گی

سعودی عرب کی نیوز ویب سائٹ المرصد کے مطابق شیر کے ٹرینر فیصل عسیری کا کہنا ہے کہ لگتا ہے کہ بچی کے سر پر لگے تتلی کے رِبن نے شیر کو توجہ اپنی جانب کرائی۔

ٹرینر نے مزید کہا کہ شیر کو لوگوں کے ارد گرد رہنے کی عادت ڈالی گئی ہے اور اس کے پنجے بھی نکلوائے ہوئے ہیں۔

اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے اور صارفین نے فیسٹیول کے منتظمین کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں