ٹرمپ اور کم کی ملاقات:’ اکیسویں صدی کا سب سے اہم سیاسی جوا‘

S Korean President Moon Jae-in تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جنوبی کوریا کے سربراہ مون جائے ان یا تو سیاسی نابغہ ہیں یا پھر بیوقوف۔۔۔

جنوبی کوریا کے سربراہ مون جائے ان یا تو سیاسی طور پر انتہائی ذہین ہیں یا پھر ایک ایسے کیمونسٹ ہیں جو اپنے ملک کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یا تو خطرناک داؤ پیچ کے ماہر ہیں یا پھر ایک بہت شاطر کھیل میں صرف ایک پیادے ہیں۔ حقیقت اس پر منحصر ہے کہ آپ کس سے بات کر رہے ہیں۔

مگر اس کہانی کے دوسرے کردار، کم جونگ ان، جنھوں نے ابھی تک اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے، اس سیاسی جوئے کے شاید اہم ترین کھلاڑی ثابت ہوں گے۔

نئے سال کے اپنے پیغام میں انھوں نے جب جنوبی کوریا کی جانب بظاہر دوستی کا ہاتھ بڑھایا، تو یہ واضح ہو گیا تھا کہ انھوں نے پروپیگینڈا کے انتہائی پیچیدہ حربوں میں مہارت حاصل کر لی ہے۔

کچھ لوگ امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان گذشتہ ایک سال کے دوران شدید دشمنی کے بعد کم جونگ ان کی صدر ٹرمپ کو بات چیت کی ذاتی دعوت اور جوہری تجربے روکنے کے عزم کو اہم ترین سفارتی چالیں سمجھیں گے۔

مگر اس میں خطرہ صدر ٹرمپ اور مون جائے اٹھا رہے ہیں۔ ایک ایسی صورتحال میں جہاں دونوں میں سے کوئی بھی حالات کو اس نہج پر لانے کی مکمل ذمہ داری نہیں لے سکتا، نہ ہی نکلنے کا کوئی لائحہ عمل ہے، اور کامیابی اور ناکامی کی کئی تعریفیں موجود ہیں، دونوں کے لیے بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔

کس کا چارم اوفینسیو؟

مون جائے ان کے حامی انھیں مذاکراتکارِ اعلیٰ سمجھتے ہیں جس نے کم از کم کم جونگ ان کو اس کے جوہری ہتھیار ختم کرنے کے سلسلے میں بات چیت کرنے پر تو آمادہ کر لیا ہے۔

وہ ہی ہیں جنھوں نے گذشتہ جنوری میں شمالی کوریا کے سربراہ کی تقریر میں چھپے موقعے کو پہچانا اور اس امید کی کرن کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ لیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption صدر مون جانتے تھے کہ ان کے سفارتکار جب پونگ یوتگ گئے تھے تو انھیں کم جونگ ان سے جوہری ہتھیار ختم کرنے کا عزم لے کر آنا ہوگا۔

اس انتہائی اعلیٰ سطح کی سفارتکاری اور دونوں ممالک کے درمیان اہلکاروں کے پے در پے ملاقاتیں بظاہر کام کر گئی ہیں۔

یونسی یونیورسٹی کے جان ڈلیری نے مذاکرات کے باقاعدہ اعلان سے بھی پہلے کہہ دیا تھا کہ ’لوگ اسے شمالی کوریا کا چارم اوفینسیو سمجھ رہے ہیں مگر میرے خیال میں یہ جنوبی کوریا کا چارم اوفینسیو ہے۔ صدر مون جائے ان یہی چاہتے تھے۔‘

صدر مون جانتے تھے کہ ان کے سفارتکار جب پیانگ یانگ گئے تھے تو انھیں کم جونگ ان سے جوہری ہتھیار ختم کرنے کا عزم لے کر آنا ہو گا۔ انھیں یہ بھی معلوم تھا کہ ان کے اعلی اہلکار اگر شمالی کوریائی لیڈر کے ساتھ پینگیں بڑھاتے نظر آئے تو واشنگٹن اور ٹوکیو کے لیے اس بات کو ہضم کرنا مشکل ہے۔

مگر اس چال کے ممکنہ فوائد ممکنہ نقصانات سے زیادہ تھے۔ امریکہ اس ملاقات کے بغیر شمالی کوریا سے مذاکرات کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ مون جائے کے چنے سفارتکاروں نے وہ حاصل کر ہی لیا جس کی ضرورت تھی۔

جنوبی کوریا کے صدر ایک ایماندار ثالث بننے کی کوشش بھی کر رہے ہیں، وہ امریکہ اور ٹرمپ دونوں کو ہی سنبھالے ہوئے ہیں۔ وہ اپنے الفاظ انتہائی احتیاط سے چن رہے ہیں، اپنی منصوبے کو منظرِ عام پر نہیں لا رہے اور جو ان مذاکرات کا کریڈٹ لینا چاہ رہے ہیں ان کی بہت تعریف کر رہے ہیں۔

نئے سال کی اپنی تقریر میں انھوں نے کہا کہ دونوں کوریائوں ممالک کے درمیان بات چیت کا کریڈٹ صدر ٹرمپ کو جاتا ہے۔

وہ جاتنے ہیں کہ یہ بات ٹرمپ کو پسند آئے گی۔ وہ ایسے الفاظ استعمال کر رہے ہیں جو امریکہ میں رپبلکن انتظامیہ کو بھی پریشان نہ کریں۔ انھوں نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ شمالی کوریا پر پابندیاں اپنی جگہ پر ہی رہیں گی اور اب اس بات کی تائید صدر ٹرمپ نے بھی کر دی ہے۔

شمالی کوریا کی چکر بازی

مگر ہر کوئی جانتا ہے کہ حالات ایسے نہیں تھے۔ چھ ماہ قبل ہی ٹرمپ کہہ رہے تھے کہ اگر شمالی کوریا نے امریکہ کو نشانہ بنایا تو اسے امریکی طیش (فائر اینڈ فیوری) کا سامنا کرنا پڑے گا۔ سیجونگ انسٹیٹیوٹ کے محقق پروفیسر ہیکسوں پائک کا کہنا تھا کہ اس وقت جو جنگ کا خطرہ محسوس کیا جا رہا تھا وہ تاریخی تھا۔

’صدر مون جوہری جنگ کے خطرے کے بارے میں انتہائی فکر مند تھے۔ کم جونگ ان کا بھی یہی حال تھا۔ آپ امریکی سینیٹر لنڈسی گرہم جیسے لوگوں سے سن رہے تھے کہ یہاں جانیں جائیں گی۔ صدر ٹرمپ کا غیر روایتی اور غیر مستحکم اندازِ قیادت دونوں کوریائی رہنمائوں کو عسکری آپشنز کے امکان کے بارے میں پریشان کیے ہوئے تھا۔‘

امریکہ نے ہمیشہ کہا ہے کہ شمالی کوریا کی ڈی نیوکلیئرلیزایشن (جوہری ہتھیاروں کا خاتمہ) ہی ہدف ہے۔ موجودہ حیران کن حالات کے باوجود کم ہی لوگوں کا ماننا ہے کہ کم جونگ ان ایسا کرنے پر راضی ہو جائیں گے۔ اور پھر ٹرمپ کے پاس کیا راستے ہوں گے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Ed Jones/Getty
Image caption کیا مون جائے ان اور ڈونلڈ ٹرمپ دونوں شمالی کوریا کے چکر میں آگئے ہیں؟

تو کیا مون جائے ان اور ڈونلڈ ٹرمپ دونوں شمالی کوریا کے چکر میں آگئے ہیں۔

ٹفٹس یونیورسٹی کے پروفیسر لی سونگ یون کا کہنا ہے کہ ’اپنے جوہری ہتھیار ختم کرنے کا امریکہ کو لالچ دے کر اور جوہری میزائلوں کے تجربے روک کر کم جونگ ان کی کوشش ہے کہ اقتصادی پابندیاں نرم کی جائیں اور ممکنہ امریکی فوجی کارروائی سے پہلے ہی اس کا جواز کمزور کیا جائے اور دنیا کو اس بات کی عادت ڈال دی جائے کہ شمالی کوریا کو بطور ایک دائمی جوہری طاقت تسلیم کیا جائے۔‘

صدر ٹرمپ کے لیے شاید یہ بین الاقوامی سطح پر امریکی صدرور کی جانب سے دلیرانہ ترین اقدامات کرنے والوں کی صف میں شامل ہونے کا موقع ہے۔ اگر یہ جوا چل گیا تو وہ یہ کہہ سکیں گے کہ میں وہ صدر ہوں جس نے شمالی کوریا کو سیدھا کیا۔ ان کی انتظامیہ کو کامیابیان کم ہی ملی ہیں جبکہ انھوں نے اپنے ووٹروں سے بہت ہی کامیابیوں کے وعدے کر رکھے ہیں۔

ٹرمپ کا ماننا ہے کہ ان کا شمالی کوریا پر شدید دباؤ اور چین کو تعاون کرنے پر آمادہ کرنے کی حکمتِ عملی سے شمالی کوریا کی اقتصادی مشکلات بڑھ رہی ہیں اور ان کا ہدف فریب تر آ رہا ہے۔

صحافیوں نے بتایا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے بریفنگ روم میں ان کو مخاطب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایک دن سرسری طور پر کہہ دیا تھا انھیں امید ہے کہ میڈیا کم جونگ ان کی دعوت کا سہراہ ان کے سر پر رکھیں گے۔ ان کے ووٹر تو ایسا ہی کریں گے۔

گو کہ صدر کم جونگ سے ملاقات کرنے میں خطرہ ہے اور اس سے انھیں ایک برابر کے طور پر دیکھا جائے گا۔ یہ پبلک ریلیشنز کے لیے ایک آفت بن سکتی ہے۔ یہ ملاقات چند ماہ ہی دور ہے جو کہ ایک ایسے رہنما کے ساتھ سفارتی اہداف کے تعین کے لیے بہت تھوڑا وقت ہے جس کا آپ تھوڑی دیر پہلے تک ’لیٹل راکٹ میں‘ کہہ کر مذاق اڑا رہے تھے۔

جنوبی کوریا میں بوسان یونیورسٹی کے پروفیسر رابرٹ کیلی نے ٹوئٹر پر کہا کہ ’ٹرمپ نہ جائزہ لیتے ہیں اور نہ ہی پڑھتے ہیں۔ وہ سکرپٹ سے بہت دور چلے جاتے ہیں۔ اور مئی (میں ملاقات) کا مطلب ہے کہ سٹاف کے لیے تیاری مکمل کرنے کے لیے کوئی وقت ہی نہیں ہے۔‘

پیانگ یانگ یہ گیم کئی دہائیوں سے کھیل رہا ہے۔ ٹرمپ اس میں نئے ہیں۔ ہو سکتا ہے انھیں بڑی کامیابی کا امکان نظر آ رہا ہو مگر ان کی کتاب آرٹ آف ڈیل انھیں وہ رہنمائی نہیں دے سکے گی جو کہ انھیں کم جونگ ان سے نمٹنے کے لیے درکار ہے۔

سیاست ذاتی ہے

مون جائے ان کے لیے یہ معاملہ تاریخ کا ہے مگر کچھ ذاتی بھی ہے۔

وہ ماضی میں شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات کرنے کی کوششوں میں شریک رہے ہیں جب وہ صدر رو مو ہیون کے چیف آف سٹاف تھے اور صدر ہیون کم جونگ ان کے والد کم جونگ ال سے 2007 میں ملے تھے۔ وہ آخری موقعہ تھا جب دونوں ممالک کے سربراہان کی ملاقات ہوئی ہو۔ اس وقت شمالی کوریا کی جانب سے ایک سیٹلائٹ لانچ کیے جانے کی وجہ سے مذاکرات ختم ہو گئے تھے۔

مذاکرات کے ختم ہونے تک شمالی کوریا کو ساڑھے چار ارب ڈالر کی امداد دی جا چکے تھی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اسی رقم نے شمالی کوریا کے ہتھیاروں کے پروگرام میں مدد دی۔

کوریائی پینسلولا فورم کے سینیئر فیلو ڈییوئن کم کا کہنا ہے کہ ایک مرتبہ ناکام ہونے کے بعد مون جائے ان وہ کام مکمل کرنا چاہ رہے ہیں جو انھوں نے شروع کیا تھا۔

’بینادی طور پر وہ وہی لائحہ عمل اپنائے ہوئے ہیں جو کہ اس سے پہلے دو آزاد خیال پیش رو صدور نے کرنے کی کوشش کی تھی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption صدر مون کوریائی جزیرہ نما میں کشیدگی کے اثرات سے واقف ہیں۔ ان کے والدین 1950 میں اقوام متحدہ کے ایک بحری جہاز پر ہزاروں پناہ گزینوں کے ہمراہ فرار ہوئے تھے۔

شمالی کوریا سے آئے پناہ گزینوں کے بیٹے کے طور پر صدر مون کوریائی جزیرہ نما میں کشیدگی کے اثرات سے واقف ہیں۔ ان کے والدین 1950 میں اقوام متحدہ کے ایک بحری جہاز پر ہزاروں پناہ گزینوں کے ہمراہ فرار ہوئے تھے۔

اپنی انتخابی مہم کے دوران انھوں نے صحافیوں سے کہا تھا کہ ’میرے والد شمالی کوریا سے فرار ہو کر آئے تھے اور کیمونیزم سے نفرت کرتے تھے۔ میں خود شمالی کوریا کے کیمونسٹ نظام سے نفرت کرتا ہوں۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ میں شمالی کوریا میں لوگوں کو ایک ظالمانہ حکومت کے تلے پسنے دوں۔‘

صدر مون نے آگے آنے والی مشکلات کا اعتراف کیا ہے

ڈییوئن کم کا ماننا ہے کہ اس بات کا امکان بہت زیادہ ہے کہ مذاکرات کے حالیہ عمل کے اختتام پر تمام شرکا ناکام ہوں گے، اور شمالی کوریا یہ فیصلہ کرے گا کہ انھیں جوہری ہتھیار درکار ہیں۔ مگر پھر بھی۔

’آپ پھر بھی کچھ نہیں کہہ سکتے۔ میرا خیال ہے کہ تمام تر شکوک و شبہات کے باوجود یہ کبھی بھی ایسا معاملہ نہیں ہے جس پر مکمل طور پر ناامیدی ظاہر کی جائے۔ مگر تمام پارٹیوں کو کھلی آنکھوں کے ساتھ مزاکرات میں جانا چاہیے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایک ایسی کومیونسٹ ریاست کے ساتھ مذاکرات جسے پرکھنا انتہائی مشکل ہو، بہت بڑا جوا ہے۔

صدر مون کی مقبولیت میں اس وقت کمی آئی تھی جب انھوں نے موسمِ سرما کے اولمپک مقابلوں میں خواتین کی ہاکی ٹیم میں شمالی کوریا کی ٹیم کی اراکین شامل کر لی تھیں اور انھوں نے ایک ایسے جنرل سے بھی ملاقات کی تھی جن پر جنوبی کوریائی شہریوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام ہے۔ تاہم ان کی مقبولیت اب بہتر ہوتی جا رہی ہے۔

انھیں اس کا سیاسی نقصان پہنچے گا مگر شاید ان کے لیے یہ سیاسی معرکے بازی کے لیے نہیں ہے۔ گذشتہ سال انھوں نے ٹائمز جریدے کو یہی بتایا تھا جو وہ ایک صدارتی امیدوار تھے، ’میری والدہ اپنے خاندان کی واحد رکن ہیں جو کہ جنوبی کوریا بھاگ سکیں۔ وہ 90 سال کی عمر کی ہیں۔ ان کی چھوٹی بہن شمالی کوریا میں ابھی بھی حیات ہیں۔ ان کی آخری خواہش ہے کہ وہ اپنی بہن سے مل سکیں۔‘

ایک ایسی کیمونسٹ ریاست کے ساتھ مذاکرات جسے پرکھنا انتہائی مشکل ہو، بہت بڑا جوا ہے۔

مگر اگر کسی طرح بھی وہ جوہری جنگ کے خطرے کو کم کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو شاید امن کا نوبیل انعام جیت جائیں۔

اور اگر سب ناکام ہو گیا تو بات پھر وہیں خطرناک چالوں پر لوٹ جائے گی۔

اسی بارے میں