شامی فوج کی مشرقی غوطہ میں موثر پیش قدمی، علاقہ ’تین حصوں میں تقسیم‘

شام میں فوج نے دارالحکومت دمشق کے باہر مشرقی صوبے غوطہ سے باغیوں کو نکالنے کے لیے جاری آپریشن میں قابل ذکر کامیابی حاصل کی ہے۔

سیرین آبزرویٹری برائے حقوق انسانی کا کہنا ہے کہ شامی فورسز نے غوطہ کے سب سے بڑے شہر دوما کے راستے منقطع کر دیے ہیں جبکہ فورسز نے موثر پیش قدمی کرتے ہوئے خطے کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔

دارالحکومت دمشق کے پاس مشرقی علاقے غوطہ کا شمار اُن چند علاقوں میں ہوتا ہے جہاں باغیوں کی اکثریت ہے اور اس علاقے کو سنہ 2013 سے شامی افواج نے محصور کیا ہوا ہے اور گذشتہ ماہ فورسز نے مشرقی غوطہ کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کے لیے کارروائی کا آغاز کیا تھا۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

بمباری کا نشانہ مشرقی غوطہ

مشرقی غوطہ میں ’500 افراد ہلاک‘

شام: باغیوں کے زیرانتظام علاقے میں بمباری، ’سو سے زیادہ ہلاکتیں‘

غوطہ: صدر پوتن کا لڑائی میں روزانہ وقفے کا اعلان

اطلاعات کے مطابق حکومتی فورسز نے تقریباً نصف علاقے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور اس دوران ہونے والی کارروائیوں میں 900 سو سے زیادہ شہری مارے جا چکے ہیں۔

بی بی سی کے عرب امور کے مدیر سیبیسٹین اشر کا کہنا ہے کہ شامی حکومت کی حکمت عملی بڑی واضح ہے جس میں مشرقی غوطہ کو مختلف حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے یہاں موجود باغیوں کی حمایت اور رسد کے نیٹ ورک کو ختم کرنا ہے اور حکومت کو اب بظاہر اس مقصد میں کامیابی حاصل ہو گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption مشرقی غوطہ کا سب سے بڑا شہر دوما تباہی کا منظر پیش کر رہا ہے

اطلاعات کے مطابق حکومتی فورسز نے وسطی شہر مصرابا پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور اب شہر کے اطراف میں واقع کھیتوں پر قبضے کے لیے کارروائی جاری ہے۔

مصرابا اس اہم شاہراہ پر واقع ہے جو مشرق میں واقع شہر دوما کی طرف جاتی ہے اور ساتھ ہی مغرب میں بڑا شہر حرستا واقع ہے۔

اگر غوطہ کو تین ’حصوں میں تقسیم‘ کرنے کی تصدیق ہو جاتی ہے تو اس صورت میں دوما اور اس کے ملحقہ شہر مغرب میں ہوں گے جبکہ باقی علاقے جنوب میں تقسیم ہو جائیں گے۔

دوسری جانب حزب مخالف سے منسلک ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ غوطہ سے انخلا کے معاہدے کے ایک دن بعد سنیچر کو حیات التحریر الشام کے جنگجو وسطی صوبہ حما پہنچ گئے ہیں۔

مشرقی غوطہ میں چار لاکھ افراد محصور ہیں اور ایک دن پہلے جمعے کو علاقے میں اقوام متحدہ کا ایک امدادی قافلہ پہنچا تھا اور یہ قافلہ بمباری کی وجہ سے متعدد بار تاخیر کا شکار ہو چکا تھا۔

Image caption مشرقی غوطہ کی گذشتہ ہفتے کی صورتحال

مشرقی غوطہ میں موجود باغیوں کا تعلق کسی ایک گروہ سے نہیں۔ بلکہ یہ کئی چھوٹے گروہ ہیں جن میں جہادی بھی شامل ہیں۔یہ گروہ آپس میں بھی لڑ رہے ہیں اوراس کا فائدہ شامی حکومت کو ہوا ہے۔

علاقے میں سب سے بڑا گروہ جیش الاسلام اور اس کا حریف گروہ فیلک الرحمان ہے۔

فیلک الرحمان ماضی میں جہادی گروہ حیات الشام کے ساتھ لڑتا رہا ہے جو کہ النصرہ فرنٹ کا ایک دھڑا ہے۔

انٹرایکٹِو جوبر 2013 کے بعد کیسے تباہ ہوا

فروری 2018

سیٹلائٹ تصاویر سے واضح ہے کہ جوبر کے رہائشی علاقے میں کئی عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں

اگست 2013

سیٹلائٹ تصاویر سے واضح ہے کہ جوبر کے رہائشی علاقے میں کئی عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں