برطرف امریکی وزیر خارجہ کی ’روس کے پریشان کن رویے اور اقدامات‘ پر تنبیہ

ٹلرسن تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ریکس ٹلرسن کو صدر ٹرمپ نے تقریباً ڈیرھ برس قبل ہی امریکہ کا وزیرِ خارجہ تعینات کیا تھا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے برطرف کیے جانے والے سابق وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے ’روس کے پریشان کن رویے اور اقدامات‘ کے بارے میں خبردار کیا ہے۔

انھوں نے صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کرنے یا ان کی پالیسیوں کی تعریف کرنے سے اجتناب کیا۔

ریکس ٹلرسن کو صدر ٹرمپ نے تقریباً ڈیرھ برس قبل ہی امریکہ کا وزیرِ خارجہ تعینات کیا تھا اور وائٹ ہاوس کے ساتھ ان کے تعلقات کئی موقع پر کشیدہ رہے۔

واضح رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیرِ خارجہ ریکس ٹلرسن کو ان کے عہدے سے برطرف کر کے امریکہ کی خفیہ ایجنسی کے سربراہ مائیک پومپیو کو ان جگہ وزیر خارجہ بنانے کا اعلان کیا تھا۔

محکمۂ خارجہ میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ٹلرسن کا کہنا تھا کہ چین کے ساتھ بہتر تعلقات اور شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے اچھا کام کیا گیا ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’روسی حکومت کے پریشان کن رویے اور اقدامات کا جواب دینے کے لیے بہت کام کرنا باقی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ روس کو اس بات کا محتاط اندازہ لگانے کی ضرورت ہے کہ اس کے اقدامات روسی عوام اور دنیا کے لیے مفاد میں کیسے ہیں۔ اگر وہ ایسے ہی راستے پر رہے تو وہ خود تنہائی کا شکار ہو سکتے ہیں، ایک ایسی صورتحال جو کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔

سماجی رابطوں کی سائٹ ٹوئٹر پر صدر ٹرمپ کی جانب سے جاری کیے گئے پیغام میں ریکس ٹلرسن کی خدمات کے لیے ان کا شکریہ ادا کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ صدر ٹرمپ نے لکھا ہے کہ نئے وزیرِخارجہ بہترین طریقے سے اپنے فرائض ادا کریں گے۔

صدر ٹرمپ نے جینا ہاسپل کو سی آئی اے کا نیا سربراہ نامزد کیا ہے۔ جینا سی آئی اے کی پہلی خاتون سربراہ ہوں گی۔

’وائٹ ہاؤس وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کو ہٹانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے‘

’ٹرمپ شروع ہی سے کومی کو برطرف کرنا چاہتے تھے‘

سی آئی اے کی پہلی خاتون سربراہ کون ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption امریکہ کی خفیہ ایجنسی کے سربراہ مائیک پومپیو کو سیکریٹری خارجہ بنانے کا اعلان کیا گیا تھا

ٹلرسن کو کیوں برطرف کیا گیا؟

اس بارے میں وائٹ ہاؤس کے باہر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ریکس ٹلرسن کے ساتھ اُن کے اختلافات تھے۔

انھوں نے کہا کہ ’ہمارے اچھے تعلقات تھے، لیکن کچھ معاملات پر ہمارا اختلاف تھا۔‘

’ اگر آپ ایران سے ہونے والے معاہدے کا مسئلہ دیکھیں تو میرے خیال میں یہ بہت سنگین ہے، شاید ان کی نظر میں یہ اتنا سنگین نہیں تھا۔‘

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’میں یہ معاہدہ ختم کرنا چاہتا تھا لیکن وہ کچھ اور سوچ رہے تھے، ہمارے خیالات ایک جیسے نہیں تھے۔‘

صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ نئے نامزد وزیرِ خارجہ اور ان کے خیالات کافی ملتے ہیں اس لیے ’ہم اچھے طریقے سے کام کر سکیں گے۔‘

صدر ٹرپ کے بقول ’ریکس ٹلرسن ایک اچھے انسان ہیں اور میں انھیں بہت پسند کرتا ہوں۔‘

ٹلرسن بھی اب سنینئر افسران کی اس طویل فہرست میں شامل ہو گئے ہیں جنھیں صدر ٹرمپ نے یا تو اُن کے عہدے سے برطرف کر دیا ہے یا پھروہ خود مستعفیٰ ہو گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

ٹلرسن کو کیسے فارغ کیا گیا؟

امریکہ کے محکمۂ خارجہ کا کہنا ہے کہ ٹلرسن نے صدر ٹرمپ سے اس بارے میں بات نہیں کی ہے اور وہ برطرف کی جانے کی ’وجوہات‘ سے آگاہ نہیں ہیں۔

صدر کے اس فیصلے کے بعد ریکس ٹلرسن نے نیوز کانفرنس میں بتایا کہ انھیں صدر ٹرمپ کی ٹویٹ کرنے کے تین گھنٹے کے بعد ایئر فورس ون سے کال کر کے مطلع کیا گیا۔

میڈیا سے مختصر بات چیت میں ریکس ٹلرسن نے بتایا کہ وہ 31 مارچ تک اس عہدے پر کام کریں گے اور اُس کے بعد ’عام شہری کی حیثیت سے زنذگی گزاریں گے۔‘

ریکس ٹلرسن گذشتہ ہفتہ افریقہ کے سرکاری دورے پر تھے اور انھیں صدر ٹرمپ کی شمالی کوریا کے رہنما کم جانگ ان سے ملاقات کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا۔

ٹلرسن کو کیوں فارغ کیا گیا؟

گذشتہ برس دسمبر سے ہی ایسی خبریں سامنے آ رہی تھیں کہ صدر ٹرمپ اور ریکس ٹلرسن کے درمیان شمالی کوریا کے میزائل تجربات اور ایران کے جوہری پروگرام سمیت متعدد موضوعات پر اختلافات ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ وزیرِ خارجہ ریکس ٹلرسن کو تبدیل کر کے ان کی جگہ موجودہ سی آئی اے کے چیف مائیک پومپیو کو تعینات کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

ریکس ٹلرسن اور صدر ٹرمپ کے درمیان خارجہ پالیسی پر تنازعات منظرِ عام پر آتے رہے ہیں اور اطلاعات کے مطابق ریکس ٹلرسن نے ایک نجی گفتگو میں صدر کو احمق بھی پکارا تھا۔

تاہم اس وقت وائٹ ہاوس کی جانب سے ان رپورٹس کی تردید کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ریکس ٹلرسن اپنا عہدہ سنبھالے ہوئے ہیں اور وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ افواہیں درست نہیں ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں