’میانمار میں فیس بک کے استعمال نے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے میں بڑا کردار ادا کیا‘

میانمار تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اقوام متحدہ کے تحقیق کاروں نے کہا ہے کہ میانمار میں فیس بک کے استعمال نے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے میں ’بڑا کردار‘ ادا کیا ہے۔

میانمار میں نسل کشی کے الزامات کی تحقیقات کرنے والی ایک ٹیم کا کہنا ہے کہ ’فیس بک بے لگام ہو گیا ہے۔‘

خیال رہے کہ اگست میں میانمار کی فوج کی ریاست رخائن میں کارروائی کے نتیجے میں بچوں اور عورتوں سمیت سات لاکھ افراد بنگلہ دیش منتقل ہونے پر مجبور ہو گئے تھے۔

میانمار کے بارے میں یہ بھی پڑھیے

میانمار: ’صحافیوں کے پاس روہنگیا ہلاکتوں کے ثبوت تھے‘

سوچی روہنگیا بحران کو کیسے دیکھتی ہیں؟

'ہم روہنگیا ہیں، ہمیں مار ہی دیجیے'

فیس بک نے کہا تھا کہ اس کے پلیٹ فارم پر ’نفرت انگیز مواد کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔‘

فیس بک کی ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’ہمیں اسے انتہائی سنجیدگی سے لیتے ہیں اور ہم نے ماہرین کے ساتھ کئی سالوں تک میانمار میں ایسے مواد کے انسداد اور محفوظ ذرائع کے لیے کام کیا ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’ان کاموں میں میانمار کے لیے مخصوص سیفٹی پیج، مقامی سطح پر بنائے گئے ہمارے کمیونٹی سٹینڈرڈز، اور مستقل بنیادوں پر سول سوسائٹی اور مقامی تنظیموں کی ملک بھر میں ٹریننگ شامل ہے۔‘

’تشدد کو ہوا دینا‘

پیر کو اقوام متحدہ کی تحقیقاتی ٹیم نے اپنی تحقیقات کی عبوری رپورٹ جاری کی ہیں۔

ٹیم کے سربراہ مرزوکی دروشمن نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’سوشل میڈیا نے بڑے پیمانے پر لوگوں میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف تلخی پھیلانے میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انھوں نے کہا کہ ’یقینی طور پر نفرت انگیز مواد بنیادی طور پر اسی کا حصہ ہے۔‘

’جہاں تک میانمار کی صورتحال کی بات ہے تو سوشل میڈیا فیس بک ہے اور فیس بک ہی سوشل میڈیا ہے۔‘

ان کے ساتھی نے اس بات کو بھی تسلیم کیا کہ فیس بک نے ملک میں ایک دوسرے سے رابطہ کرنے میں بھی لوگوں کو کافی مدد فراہم کی ہے۔

تاہم میانمار میں انسانی حقوق کی صورتحال کی نمائندہ خصوصی یانگ ہی لی کا کہنا ہے کہ ’ہم جانتے ہیں کہ قوم پرست بودھوں کے اپنے فیس بک اکاؤنٹس ہیں اور وہ روہنگیا یا دیگر نسلی اقلیتوں کے خلاف نفرت اور تشدت کو ہوا دے رہے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’مجھے ڈر ہے کہ فیس بک اب بے لگام ہو گیا ہے اور جس مقصد کے لیے اسے اصل میں بنایا گیا تھا وہ اب نہیں رہا۔‘

یہ عبوری رپورٹ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا نشانہ بننے والے اور گواہوں کے 600 انٹرویو پر مبنی ہے، جو بنگلہ دیش، ملائیشیا اور تھائی لینڈ میں کیے گئے۔

اسی بارے میں