امریکہ کی بھی برطانوی موقف کی حمایت، ’ایجنٹ پر کیمیائی حملے کا ذمہ دار روس ‘

تھریسا تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption برطانوی وزیر اعظم نے سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کے لیے ایک ہفتہ دیا ہے

امریکہ نے برطانوی شہر سیلیسبری میں سابق روسی انٹیلیجنس افسر اور ان کی بیٹی پر کیے جانے والے کیمیائی حملے کا ذمہ دار روس کو قرار دیا ہے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ امریکہ نے روس پر اس واقعے کے حوالے سے براہ راست الزام عائد کیا ہے۔

امریکہ کی اقوام متحدہ میں متعین سفیر نکی ہیلی نے سکیورٹی کونسل کے اجلاس میں روس کے خلاف سخت الفاظ استمعال کرتے ہوئے ان پر یہ الزام عائد کیا لیکن روس نے مسلسل اس کی تردید کی ہے اور ان الزامات کے ثبوت پیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

یاد رہے کہ چار مارچ کو رونما ہونے والے واقعے کے بعد برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے نے برطانیہ روس کے 23 سفارت کاروں کو ملک سے نکالنے کا اعلان کیا ہے۔

امریکہ کے علاوہ فرانس اور جرمنی نے بھی برطانیہ کے ساتھ اپنی حمایت کا اعلان کیا ہے لیکن ساتھ ساتھ فرانس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ روس پر مزید الزامات سے پہلے ان کے خلاف ثبوت بھی پیش کیے جائیں۔

23 روسی سفارتکاروں کو ایک ہفتے میں برطانیہ چھوڑنے کا حکم

روسی ایجنٹ پر حملہ: روس کو وضاحت کے لیے ڈیڈ لائن

’روسی جاسوس کی بیٹی کو زہر نہیں دینا چاہیے تھا‘

برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کے لیے ایک ہفتہ دیا گیا ہے اور یہ سفارتکار وہ انٹیلیجنس آفیسر ہیں جن کی شناخت مخفی رکھی گئی۔

ٹریزا مے نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروو کو برطانیہ کا دورہ کرنے کی دعوت بھی منسوخ کر دی ہے۔ اس کے علاوہ اعلان کیا گیا ہے کہ برطانوی شاہی خاندان روس میں ہونے والے فیفا ورلڈ کپ کی تقریب میں شرکت نہیں کرے گا۔

روس نے سیلیسبری میں روس کے سابق انٹیلیجنس افسر 66 سالہ سرگئی اور ان کی 33 سالہ بیٹی یولیا کو زہر دینے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

دیگر اقدامات

  • 23 سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کے لیے ایک ہفتے کا وقت
  • نجی پروازوں، کسٹمز اور کارگو کی مزید سخت نگرانی
  • روسی ریاستی اثاثے منجمد کیے جائیں گے جن کے حوالے سے شواہد ہیں کہ برطانیہ کے لیے خطرہ ہیں
  • وزرا اور شاہی خاندان روس میں ہونے والے فیفا ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کریں گے
  • روس کے ساتھ اعلیٰ سطح کے باہمی روابط معطل

یاد رہے کہ روس کو برطانیہ کی جانب سے ایک سابق ڈبل ایجنٹ (دو دشمن فریقوں کے لیے ایک ہی وقت میں کام کرنے والا جاسوس) پر مبینہ طور پر قاتلانہ حملے کی وضاحت کے لیے منگل کی شب تک کا وقت دیا تھا۔

برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے کا کہنا ہے کہ انگلینڈ میں سابق ایجنٹ کو دیا گیا جنگی نوعیت کا اعصاب شکن مواد روس میں بنا ہے جبکہ امریکہ نے بھی اس واقعے میں روس کے ملوث ہونے کی تائید کی ہے اور نیٹو سے اسے ناقابلِ قبول قرار دیا تھا۔

برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے نے پارلیمان کو بتایا تھا کہ 'عین ممکن' ہے کہ انگلینڈ میں سابق روسی ایجنٹ اور ان کی بیٹی کو روس میں تیار کردہ فوجی گریڈ کے اعصاب کو متاثر کرنے والی کیمیائی مواد دیا گیا ہو۔

روسی رد عمل

روسی وزیر خارجہ کو برطانیہ کا دورہ کرنے کی دعوت واپس لینے کے حوالے سے روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا ہے ’مے نے لاوروو کو برطانیہ کا دورہ کرنے کی دعوت واپس لے لی ہے۔ لیکن انھوں (لاوروو) نے یہ دعوت قبول ہی نہیں کی تھی۔‘

روس نے برطانوی اقدام کی مذمت کی ہے۔ لندن میں واقع روسی سفارتخانے نے ایک بیان میں برطانیہ کے اعلان کو جارحانہ، ناقابل قبول، بلا جواز قرار دیا ہے۔

’دونوں ممالک کے درمیان تعلقات خراب ہونے کی ذمہ داری برطانوی رہنماؤں پر ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ حکومت کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ 'عین ممکن' ہے کہ سیلیسبری کے علاقے میں چار مارچ کو روس کے سابق ایجنٹ اور ان کی بیٹی یولیا کو اعصاب کو متاثر کرنے والی کیمیائی ایجنٹ دینے کا ذمہ دار روس ہے۔

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے کہا تھا کہ امریکہ اپنے برطانوی اتحادی کی تائید کرتا ہے کہ سابق روسی جاسوس اور ان کی بیٹی کو مارنے کے لیے اعصاب شکن مواد استعمال کرنے میں ممکنہ طور پر روس ملوث ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ حملہ انتہائی شرمناک ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA/ Yulia Skripal/Facebook

ریٹائرڈ ملٹری انٹیلیجنس آفیسر سرگئی اور ان کی 33 سالہ بیٹی کو سیلیسبری کے سٹی سینٹر میں ایک بینچ پر نڈھال حالت میں پایا گیا۔ دونوں کی حالت نازک ہے۔

ان دونوں کی دیکھ بھال کرنے والے سارجنٹ نک بیلی بھی بیمار ہو گئے ہیں اور ہسپتال میں داخل ہیں۔

اسی بارے میں