فلوریڈا سکول فائرنگ: ہزاروں طالب علموں کا امریکہ بھر میں احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

امریکہ میں سکولوں کے طالب علم اور عملہ گذشتہ ماہ فلوریڈا کے ایک سکول میں فائرنگ کے واقعے کو ایک ماہ مکمل پر اس کی یاد میں ملک بھر میں احتجاج کر رہے ہیں۔

ریاست فلوریڈا میں مرجوری سٹونمین ڈگلکس ہائی سکول میں فائرنگ سے 17 افراد ہلاک ہوئے تھے اور ان کی یاد میں 17 منٹ کے لیے پڑھائی اور کام روکتے ہوئے احتجاج ریکارڈ کروایا گیا۔

مظاہرے کے منتظمین امریکی کانگریس پر ہتھیاروں کے ذریعے پھیلنے والے تشدد کو روکنے میں ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

’طالب علم سمجھے کہ مشق ہو رہی ہے‘

فلوریڈا کے سکول میں فائرنگ کرنے والا کون تھا؟

امریکہ: فلوریڈا کے سکول میں فائرنگ سے 17 ہلاک

رواں ہفتے وائٹ ہاوس کی جانب سے سکولوں میں شوٹنگز کے واقعات روکنے کے حوالے سے ایک منصوبہ پیش کیا گیا ہے تاہم اس میں ڈونلڈ ٹرمپ کے نیم خود کار رائفلز خریدنے کی عمر بڑھا کر 21 سال کرنے کے مطالبے کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔

تاہم اس میں سکول کے عملے کو ہتھیاروں کی تربیت فراہم کرنے کا متنازع تجویز شامل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

امریکی سکولوں میں منعقدہ یہ احتجاج امریکہ کے مشرقی حصوں کے مقامی وقت کے مطابق صبح دس بجے (رات دو بجے جی ایم ٹی وقت) شروع ہوا۔

’نیشنل سکول واک آؤٹ‘ کے منتظمین گذشتہ سال جنوری میں صدر ٹرمپ کے صدارتی عہدہ سنبھالنے کے خلاف ویمن مارچ کا انعقاد بھی کر چکے ہیں۔ انھوں نے ’طالب علموں، اساتذہ، سکول انتظامیہ، والدین اور حامیوں' سے اس میں حصہ لینے کا مطالبہ کیا تھا۔

اپنی ویب سائٹ پر انھوں نے سکولوں اور علاقوں کو ’بندوقوں کے تشدد کے جواب میں ٹویٹس اور دعاؤں سے کچھ زیادہ عمل نہ کرنے‘ کا الزام عائد کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اس احتجاج میں کولوراڈو کا کولمبائند ہائی سکول بھی شامل ہے جہاں سنہ 1999 میں دو طالب علموں کی فائرنگ سے 13 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

دوسری جانب طالب علموں کی ایک بڑی تعداد وشنگٹن میں وائٹ ہاوس کے سامنے جمع ہوئی اور انھوں نے کتبے اور بینرز اٹھا رکھے تھے جس میں ’لوگوں کی حفاظت کرو، بندوقوں کی نہیں‘ اور وہ ’اب بہت ہو گیا‘ جیسے نعرے درج تھے اور وہ ’ایسا دوبارہ کبھی نہیں‘ کی نعرہ بازی کر رہے تھے۔

کچھ طالب علم کیپیٹل ہل میں بھی جمع ہوئے جہاں سینیٹ اور ہاؤس ڈیموکریٹک رہنماؤں چک شومر اور نینسی پلوسی نے بھی خطاب کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں