شام میں خانہ جنگی، ’انسانی المیے‘ کے سات برس مکمل

شام تصویر کے کاپی رائٹ AFP

شام میں جاری جنگ کی ساتویں برسی کے موقعے پر پناہ گزینوں کے امور سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے نے اسے ایک انتہائی شدید انسانی المیے کے طور پر بیان کیا ہے۔

ان سات سالوں میں تقریباً پانچ لاکھ شامیوں نے اپنی جان کھوئی ہے اور تقریباً ایک کروڑ تیس لاکھ ایسی حالت میں ہیں کہ انھیں انسانی امداد کی اشد ضرورت ہے۔

یاد رہے کہ 15 مارچ 2011 کو سینکڑوں شامی شہریوں نے دمشق، حلب اور دیگر بڑے شہروں میں حکومت مخالف مظاہروں کا انعقاد کیا تھا اور اس دن کو انھوں نے ’ڈے آف ریج‘ (غصے کا دن) قرار دیا تھا۔ ان کے مطالبوں میں ملک میں جمہوری اصلاحات لانا تھا۔

مزید پڑھیے

’ہمارے بچے بھی یہاں آئیں گے تو سکون ملے گا‘

شامی فوج کی کارروائی، مشرقی غوطہ’تین حصوں میں تقسیم‘

بمباری کا نشانہ مشرقی غوطہ

شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کا ردِعمل ان مظاہرین کے خلاف ایک کڑا آپریشن کرنا تھا۔ اسی دوران ملک میں جہادی ملیشیاؤں نے بھی فروغ پایا اور حکومتی ردعمل سخت تر ہوتا گیا۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ خطے میں موجود مختلف ممالک امریکہ اور روس سب نے اس جنگ میں اپنے مفادات کے لیے کام جاری رکھا ہوا ہے اور اس کی وجہ سے یہ جنگ انتہائی پیچیدہ اور خطرناک ہو گئی ہے۔

شام میں اس وقت دارالحکومت دمشق کے مشرق میں واقعہ مضافاتی علاقے غوطہ میں شدید لڑائی جاری ہے۔

غوطہ کا شمار اُن چند علاقوں میں ہوتا ہے جہاں باغیوں کی اکثریت ہے اور اس علاقے کو سنہ 2013 سے شامی افواج نے محصور کیا ہوا ہے اور گذشتہ ماہ فورسز نے مشرقی غوطہ کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کے لیے کارروائی کا آغاز کیا تھا۔

اگرچہ یہ علاقہ باغی فورسز کے کنٹرول میں ہے تاہم وہاں سے عام شہریوں کے انخلا کے حوالے سے مذاکرات میں تھوڑی بہت کامیابی ہوئی ہے۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ بدھ کی صبح 25 ایسے خاندانوں کو کامیابی سے حکومتی چیک پوائنٹ کے راستے نکال لیا گیا ہے جنھیں طبی امداد کی ضرورت تھی۔

اس سے قبل منگل کو 31 خاندانوں کو ایسے ہی نکالا گیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق حکومتی فورسز نے تقریباً نصف علاقے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور اس دوران ہونے والی کارروائیوں میں 900 سے زیادہ شہری مارے جا چکے ہیں۔

بی بی سی کے عرب امور کے مدیر سیبیسٹین اشر کا کہنا ہے کہ شامی حکومت کی حکمت عملی بڑی واضح ہے جس میں مشرقی غوطہ کو مختلف حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے یہاں موجود باغیوں کی حمایت اور رسد کے نیٹ ورک کو ختم کرنا ہے اور حکومت کو اب بظاہر اس مقصد میں کامیابی حاصل ہو گئی ہے۔

مشرقی غوطہ میں موجود باغیوں کا تعلق کسی ایک گروہ سے نہیں بلکہ یہ کئی چھوٹے گروہ ہیں جن میں جہادی بھی شامل ہیں۔ یہ گروہ آپس میں بھی لڑ رہے ہیں اور اس کا فائدہ شامی حکومت کو ہوا ہے۔

علاقے میں سب سے بڑا گروہ جیش الاسلام اور اس کا حریف گروہ فیلک الرحمان ہے۔

فیلک الرحمان ماضی میں جہادی گروہ حیات الشام کے ساتھ لڑتا رہا ہے جو کہ النصرہ فرنٹ کا ایک دھڑا ہے۔

اسی بارے میں