فرانس میں سعودی شہزادی کی گرفتاری کے وارنٹ جاری

پیرس کا فوش ایونیو تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پیرس کے اس علاقے میں سعودی شہزادی کا اپارٹمنٹ ہے

ایک فرانسیسی جج نے سعودی شہزادی حصۃ بنت سلمان کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے ہیں جن پر ایک مزدور پر اپنے محافظ کے ذریعے تشدد کروانے کا الزام ہے۔

وہ سابق سعودی شاہ سلمان کی بیٹی اور موجودہ ولی عہد محمد بن سلمان کی سوتیلی بہن ہیں۔

شہزادی حصۃ پر الزام ہے کہ انھوں نے فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ایونیو فوش پر واقع اپنے گھر میں اپنے باڈی گارڈ کو ایک مزدور کو مارنے پیٹنے کا حکم دیا تھا۔

فرانسیسی میڈیا کے مطابق متاثرہ ملازم کا الزام ہے کہ انھوں نے جس کمرے میں کام کرنا تھا انھوں نے اس کی تصویر بنائی تھی اور ان پر یہ شک کیا گیا کہ وہ یہ تصاویر فروخت کرنا چاہتے تھے۔

یہ واقعہ سنہ 2016 کا ہے اور پولیس اس میں ملوث باڈی گارڈ پر مقدمہ درج کر چکی ہے۔

تاہم انٹیریئر ڈیکوریشن کا کام کرنے والے اس شخص کے مطابق انھیں اپارٹمنٹ کی تزئین و آرائش کرنے کے لیے یہ تصاویر درکار تھیں۔

خبررساں ادارے مبینہ متاثرہ شخص کا دعویٰ ہے کہ اسے مکے مارے گئے، باندھ ک رکھا گیا اور شہزادی کے قدموں کو چومنے پر مجبور کیا گیا، اور کئی گھنٹوں کے بعد ہی اسے اپارٹمنٹ سے باہر جانے کی اجازت دی گئی۔

مبینہ طور پر شہزادی حصۃ بنت سلمان اس واقعے کے کچھ ہی عرصہ بعد فرانس چھوڑ کر چلی گئی تھیں۔

اسی بارے میں