شامی فوج کا ’مشرقی غوطہ کے 70 فیصد علاقے‘ پر کنٹرول، ہزاروں افراد کا انخلا

مشرقی غوطہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مشرقی غوطہ کے ایک علاقے پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد شامی سکیورٹی اہلکار گشت کر رہی ہیں

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ حالیہ کچھ دنوں میں شام میں لڑائی زدہ علاقے مشرقی غوطہ اور عفرین سے 60 ہزار افراد اپنی جان بچانے کے لیے نکلے ہیں۔

مشرقی غوطہ میں حکومت افواج کی بمباری کی وجہ سے 16 ہزار افراد نکلیں ہیں۔ اس علاقے حکومتی افواج باغیوں پر بمباری کر رہی ہیں۔

شام کے شمالی قصبے عفرین سے بھاگنے والے 30,000 افراد میں سے 18 افراد ترکی کی جانب سے کی جانے والی شیلنگ کی زد میں آ کر مارے گئے۔

مشرقی غوطہ میں حکومت افواج نے دوبارہ شدید بمباری شروع کی ہے جبکہ اطلاعات کے مطابق حکومت نے 70 فیصد علاقے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

غوطہ میں جمعے کو روس کے فضائی حملوں میں اطلاعات کے مطابق 31 افراد ہلاک ہو گئے۔

یہ بھی پڑھیے

شام میں خانہ جنگی، ’انسانی المیے‘ کے سات برس مکمل

شامی فوج کی کارروائی، مشرقی غوطہ’تین حصوں میں تقسیم‘

بمباری کا نشانہ مشرقی غوطہ

برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم سیرئین آبزرویٹری نے جمعے کو غوطہ کے مشرقی صوبے میں ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے۔

سیرین آبزرویٹری کے مطابق جمعرات کو بھی 20,000 شہری باغیوں کے زیر انتظام علاقوں سے بھاگنے پر مجبور ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اطلاعات کے مطابق حکومتی فورسز نے تین ہفتوں کی شدید لڑائی کے بعد تقریباً 70 فیصد علاقے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور اس دوران ہونے والی کارروائیوں میں 900 سے زیادہ شہری مارے جا چکے ہیں۔

غوطہ کا شمار ان چند علاقوں میں ہوتا ہے جہاں باغیوں کی اکثریت ہے اور اس علاقے کو سنہ 2013 سے شامی افواج نے محصور کیا ہوا ہے۔

فورسز نے گذشتہ ماہ مشرقی غوطہ کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کے لیے کارروائی کا آغاز کیا تھا۔

اگرچہ یہ علاقہ باغی فورسز کے کنٹرول میں ہے تاہم وہاں سے عام شہریوں کے انخلا کے حوالے سے مذاکرات میں تھوڑی بہت کامیابی ہوئی ہے۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ بدھ کی صبح 25 ایسے خاندانوں کو کامیابی سے حکومتی چیک پوائنٹ کے راستے نکال لیا گیا ہے جنھیں طبی امداد کی ضرورت تھی۔ اس سے قبل منگل کو 31 خاندانوں کو وہاں سے نکالا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

مشرقی غوطہ میں موجود باغیوں کا تعلق کسی ایک گروہ سے نہیں بلکہ یہ کئی چھوٹے گروہ ہیں جن میں جہادی بھی شامل ہیں۔ یہ گروہ آپس میں بھی لڑ رہے ہیں اور اس کا فائدہ شامی حکومت کو ہوا ہے۔

شام میں جاری جنگ کے سات سال مکمل ہونے کے موقعے پر پناہ گزینوں کے امور سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے نے گذشتہ روز اسے ایک انتہائی شدید انسانی المیے کے طور پر بیان کیا ہے۔

اقوام محتدہ کے مطابق ان سات سالوں میں تقریباً پانچ لاکھ شامی ہلاک ہو چکے ہیں اور تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ افراد اپنا گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف مارچ سنہ 2011 سے شروع ہونے والی بغاوت کے نتیجے میں اب تک چار لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک یا لاپتہ ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں