فلسطینی شہری نے اسرائیلی فوجی دستے پر گاڑی چڑھا دی، ایک فوجی ہلاک، دو زخمی

The site of the incident تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty
Image caption یہ واقعہ فلسطین کے مغربی قصبے جینن میں یہودی آبادیوں کے قریب ہوا ہے۔

اسرائیل کی فوج کا کہنا ہے کہ غربِ اردن میں میں فلسطینی شہری نے اسرائیلی فوجیوں پر گاڑی چڑھا دی۔ اس حملے میں ایک فوجی ہلاک اور دو زخمی ہو گئے ہیں۔

یہ واقعہ فلسطین کے مغربی قصبے جینن میں یہودی آبادیوں کے قریب ہوا ہے۔

گاڑی کی ٹکر سے مزید دو اسرائیلی فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ اس واقعے میں ملوث شخص فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا لیکن اُسے بعد میں گرفتار کر لیا گیا۔

مزید جاننے کے لیے یہ بھی پڑھیے

یروشلم اسرائیل کا دارالحکومت ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

’یروشلم تین ہزار سال سے اسرائیل کا دارالحکومت ہے‘

انتفادہ کا اعلان: فلسطینیوں اور اسرائیلی فورسز میں جھڑپیں

اطلاعات کے مطابق اپنی گاڑی سے ٹکر مارنے والا فلسطینی لڑکا معمولی زخمی ہے۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ فوجی یہودی آبادیوں کے قریب علاقے کی چھان بین کر رہے تھے۔

غربِ اردن میں موجود یہ یہودی آبادیاں بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی ہیں لیکن اسرائیل ایسے قانونی تسلیم کرتا ہے۔

اسرائیل کی سکیورٹی سروسز کے مطابق مبینہ حملہ آور کا نام اللکباہ ہے اور وہ جینن کے قریب دیہات کا رہنے والا ہے۔

سکیورٹی سروسز کا کہنا ہے کہ مبینہ حملہ آور اس سے پہلے بھی جیل میں قید رہ چکا ہے اور وہ ایک سال پہلے ہی رہا ہوا تھا۔

اسرائیل کی فوج کا کہنا ہے کہ اس حملے کے بعد مشتبہ شخص اور اُس کے خاندان کو روزگار، تجارت اور اسرائیل آنے جانے کے لیے جاری کیے گئے تمام پرمٹ معطل کر دیے گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

اسرائیل کے وزیر دفاع نے ٹویٹ کی ہے کہ وہ اس حملہ آور کے لیے سزا موت ہونی چاہیے اور اس کا مکان مسمار کر دینا چاہیے۔

فلسطینی تنظیم حماس نے گاڑی کے اس حملہ کی تعریف کی ہے لیکن یہ نہیں کہا کہ اس کے پچھے حماس کا ہاتھ ہے۔

یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب جمعے کو حماس نے صدر ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارلخلافہ قرار دینے کے سو دن مکمل ہونے پر مظاہرے کیے ہیں۔

غربِ اردن کے دیگر شہروں میں بھی فلسطینی مظاہرین اور اسرائیلی فوجوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔

اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالخلافہ قرار دینے کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا تھا لیکن فلسطینوں نے اس پر غصے کا اظہار کیا تھا۔

اعلانِ یروشلم سے فلسطین کے مسئلے پر امریکہ کی دہائیوں پر محیط جانبدارا ختم ہو گئی۔ گذشتہ ماہ امریکہ نے کہا ہے کہ وہ مئی میں یروشلم میں نیا سفارت خانہ کھولے گا۔

ٹرمپ کے اعلانِ یروشلم کے بعد سے اب تک ہونے والے پر تشدد مظاہروں میں تیس فلسطینی اور چار اسرائیلی فوجی مارے جا چکے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں