روس نے بھی 23 برطانوی سفارت کاروں کو ملک بدر کرنے کا اعلان کر دیا

روس برطانیہ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

روس نے برطانیہ میں روسی انٹیلی جنس افسر اور ان کی بیٹی کو زہر دینے کے واقعے کے بعد پیدا ہونے والے تناؤ کے باعث 23 برطانوی سفارت کاروں کو بھی ملک سے نکالنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ روسی اقدام برطانیہ کی جانب سے 23 روسی سفارت کاروں کو ملک سے نکالنے کے اعلان پر ردعمل کے طور پر سامنے آیا ہے۔

روسی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ماسکو میں برطانوی سفارتخانے کے 23 سفارتی عملے کے ارکان کو ’ناقابل قبول افراد قرار دیا جائے گا اور انھیں ایک ہفتے کے اندر ملک سے نکال دیا جائے گا۔‘

اس بارے میں مزید پڑھیے

’روس بھی برطانوی سفارت کاروں کو جلد ملک بدر کرے گا‘

23 روسی سفارتکاروں کو ایک ہفتے میں برطانیہ چھوڑنے کا حکم

روسی ایجنٹ پر حملہ: روس کو وضاحت کے لیے ڈیڈ لائن

’روسی جاسوس کی بیٹی کو زہر نہیں دینا چاہیے تھا‘

برطانیہ کے ’روسی جاسوس‘ نامعلوم مواد سے زخمی

ایک بیان میں روسی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ وہ روس میں برٹش کونسل کو بھی بند کے گا اور سینٹ پیٹرز برگ میں جنرل قونصلیٹ کھولنے کا اجازت نامہ بھی واپس لے گا۔

خیال رہے کہ برطانیہ کی جانب سے سیلیسبری میں سابق روسی انٹیلی جنس افسر اور ان کی بیٹی کو زہر دینے پر روس کے 23 سفارت کاروں کو ملک سے نکالنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

روس کے سابق انٹیلیجنس افسر 66 سالہ سرگے سکریپل اور ان کی 33 سالہ بیٹی یولیا سکریپل ایک ہفتے تک ہسپتال میں زیرِ علاج رہے۔ اس سے قبل انھیں ایک نروو ایجنٹ کے ذریعے انفیکٹ کیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA/ Yulia Skripal/Facebook
Image caption برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے نے برطانویی شہر سیلیسبری میں سابق روسی انٹیلیجنس افسر اور ان کی بیٹی کو زہر دینے پر روس کے 23 سفارت کاروں کو ملک سے نکالنے کا اعلان کیا تھا

اس سے قبل روسی صدر کے ترجمان نے کہا تھا کہ ولادیمر پوتن بالآخر اس آپشن کو منتخب کریں گے جو ’ماسکو کے مفادات‘ کے لیے سے زیادہ مناسب ہو گا۔

خیال رہے کہ برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے نے سیلیسبری میں سابق روسی انٹیلی جنس افسر اور ان کی بیٹی کو زہر دینے پر روس کے 23 سفارت کاروں کو ملک سے نکالنے کا اعلان کیا تھا۔

برطانیہ نے یہ قدم اس وقت اٹھایا جب روس نے برطانیہ کو اس زہر کے حوالے سے وضاحت دینے سے انکار کر دیا۔

روس نے سیلیسبری میں روس کے سابق انٹیلیجنس افسر 66 سالہ سرگے سکریپل اور ان کی 33 سالہ بیٹی یولیا کو زہر دینے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں