ازبکستان میں شادیوں پر فضول خرچی،’جس کی چار بیٹیاں، وہ ان کی شادی کرنے کے بجائے خود کشی کر لے گا‘

شادی تصویر کے کاپی رائٹ Alamy

آپ کو ہمیشہ ایسے لوگ ملیں گے جو آپ کی شادی کی تقریبات اور ان کی منصوبہ بندی کے بارے میں اپنا تبصرہ کر کے کہیں گے کہ یہ تو کچھ زیادہ ہو گیا ہے۔

لیکن ایسے میں آپ کیا کریں گے اگر یہ بات کہنے والا آپ کے ملک کا صدر ہو؟

ازبکستان کی حکومت کی ایک دستاویز سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ملک میں ہونے والی شادی کی تقریبات پر سخت پابندیاں لگانے والی ہیں اور اس فیصلے پر ملک بھر کے سوشل میڈیا پر بحث جاری ہے۔

اب شادی کر لیں

کشمیر میں شادیوں پر شاہ خرچیوں پر پابندی

ایک ایسے ملک میں شادیوں میں 400 مہمانوں اور بڑی تعداد میں گاڑیوں کا ہونا معمول کی بات ہے جہاں تقریباً 13 فیصد عوام غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے۔

ازبکستان کے پڑوسی ملک تاجکستان میں شادیوں میں مہمانوں کی تعداد میں پابندی کا فیصلہ 2011 میں کیا گیا تھا۔

حکومتی دستاویز میں متعارف کیے جانے والے نئے فیصلوں کے مطابق شادیوں میں گوشت کا کم استعمال کرنا، مہمانوں کی تعداد 150 سے تجاوز نہ کرنا اور شادیوں میں زیادہ تعداد میں گلوکاروں اور بڑی تعداد میں گاڑیوں کی بکنگ کرنے پر پابندی لگانے کی تجاویز دی گئی ہیں۔

یہ دستاویز ملک کے صدر شوکات مرزایوو کے حال ہی میں دیے گئے اس بیان کے بعد سامنے آئی ہے جس میں انھوں شادی کی تقریبات پر 'بےدریغ' پیسہ بہانے کی تنقید کی تھی۔

ازبکستان میں اکثر شادیوں پر 20000 ڈالرز تک خرچہ آتا ہے جبکہ اس ملک میں عام طور پر لوگوں کی تین اولادیں ہوتی ہیں اور ان کی ماہانہ آمدنی ایک سو سے تین سو ڈالر تک ہوتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Alamy

'شادیوں پرگوشت استعمال کرنے کے بجائے بہتر ہوگا کہ آپ کسی غریب شخص کے گھر میں رنگ روغن کروا دیں یا اس کے لیے ٹی وی خرید لیں۔ ایک عام شخص جو سرکاری نوکری سے تنخواہ کماتا ہو اور اس کی چار بیٹیاں ہوں، وہ ان کی شادی کرنے کے بجائے خود کشی کر لے گا کیونکہ اس کے پاس شادی کرانے کے پیسے ہی نہیں ہوں گے۔'

صدر شوکات مرزایوو کے بیان کے بعد سامنے آنے والی دستاویز کی عوام میں کافی پذیرائی ہوئی ہے۔

فیس بک کے ایک صارف نے لکھا: 'یہ بہت اچھی تجویز ہے۔ خدا آپ کے نصیب اونچے کرے۔ یہ فیصلہ فضول خرچی روکنے میں مدد دے گا اور ہر کوئی ایک جیسی شادی کی تقریب منعقد کرے گا۔'

لیکن کچھ لوگوں کے نزدیک اس فیصلے سے کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئے گی۔

ایک اور صارف نے لکھا: 'پر آسائش شادی کی تقریبات روکنے کی مہم بہت عرصے سے جاری ہے لیکن کوئی اس پر عمل نہیں کرتا۔ ضروری یہ ہے کہ سرکاری اہلکار خود مثال بنیں۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں