'روس سے ساز باز' کی جانچ پر صدر ٹرمپ کو ریپبلکنز کا انتباہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption صدر ٹرمپ اپنے مخالفین کو ٹویٹ کے ذریعے نشانہ بناتے رہے ہیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ان کی اپنی ریپبلکن پارٹی کے ساتھیوں نے سپیشل مشیر رابرٹ مولر کی جانچ میں مداخلت کرنے پر متنبہ کیا ہے۔

یہ باتیں اس وقت سامنے آئی ہیں جب انھوں نے رابرٹ مولر کی سنہ 2016 کے امریکی صدارتی انتخابات میں روسی مداخلت کی جانچ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

اتوار کو اپنے ایک ٹویٹ میں صدر ٹرمپ نے اپنے موقف کا اعادہ کیا کہ ان کی ٹیم اور روس کے درمیان کوئی 'ساز باز نہیں ہوئی ہے' اور انھوں نے اس جانچ کو 'وچ ہنٹ' قرار دیا۔

انھوں نے ٹویٹ کیا: 'مولر کی ٹیم میں 13 پرانے ڈیموکریٹس کیوں ہیں، ان میں بعض ہیلری کے بے ایمان حامی ہیں جبکہ ان میں صفر ریپبلکن ہیں۔ ایک اور ڈیموکریٹ کو شامل کیا گیا ہے۔۔۔ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ ٹھیک ہے؟ اور یہ کہ کوئی ساز باز نہیں ہے۔'

انھوں نے کہا کہ اس جانچ میں 'پرانے ڈیموکریٹس' کی اکثریت ہے۔ لیکن خیال رہے کہ ایف بی آئی کے سابق سربراہ اور محترم شخصیت رابرٹ مولر ریپبلکن ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

٭ ایف بی آئی کے اعلیٰ اہلکار کو برطرف کر دیا گیا

٭ روس نے مدد کی یا نہیں، ٹرمپ حلفیہ بیان دینے پر تیار

٭ کومی کے ہٹائے جانے سے شبہات پیدا ہوتے ہیں؟

ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے کہا کہ مسٹر مولر کو بغیر کسی مداخلت کے کام کرنے کی اجازت ہونی چاہیے اور یہ کہ بہت سے ریپبلکن ان کے اس خیال سے اتفاق رکھتے ہیں۔

انھوں نے صدر ٹرمپ کو رابرٹ مولر کو برخاست کرنے کی کسی کوشش کے خلاف خبردار کیا ہے۔

لنڈسے گراہم نے کہا: 'اگر انھوں نے ایسا کیا تو یہ ان کی صدارت کے خاتمے کی ابتدا ہوگی کیونکہ ہم لوگ قانون کا پاس رکھنے والی قوم ہیں۔'

صدر ٹرمپ کی مختلف مواقع پر تنقید کرنے والے ریپبلکن سینیٹر جیف فلیک نے کہا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ صدر کا تازہ ترین بیان مسٹر مولر کو ان کے کام سے ہٹانے کے لیے زمین ہموار کرنے کی کوشش ہے۔

انھوں نے سی این این کو بتایا: 'مجھے پتہ نہیں کہ مولر کے متعلق ان کا کیا ارادہ ہے، لیکن ایسا نظر آتا ہے کہ اس سمت کچھ تیار کیا جا رہا ہے۔ امید کرتا ہوں کہ ایسا کچھ نہ ہو ۔۔۔ کیونکہ کانگریس میں ہمارے لیے وہ قابل قبول نہیں ہوگا۔'

انھوں نے مزید کہا: 'میں حیران ہوں کہ آخر وائٹ ہاؤس کا رویہ اتنا سخت کیوں ہے سوائے اس کے کہ اس سے جو کچھ بھی سامنے آنے والا ہے وہ اس سے خوفزدہ ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption رابرٹ مولر کو ریپبلکن اور ڈیموکریٹس دونوں خیموں میں عزت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے

ایوان نمائندگان میں ریپبلکن کے سپیکر پال رائن کی ترجمان ایش لی سٹرانگ نے کہا: 'سپیکر ہمیشہ سے کہتے آئے ہیں کہ مسٹر مولر اور ان کی ٹیم کو ان کا کام کرنے دینا چاہیے۔'

دوسری جانب سینیٹ میں ڈیموکریٹ کے رہنما چارلس شومر نے صدر ٹرمپ پر جانچ کو 'راہ سے بھٹکانے' کا الزام لگایا۔

انھوں نے ایک بیان میں کہا: 'ہمارے ریپبلکن ساتھی اور بطور خاص ان کے سربراہ کی ہمارے ملک کے متعلق یہ ذمہ داری ہے کہ وہ سامنے آ کر یہ واضح کریں کہ مولر کا ہٹایا جانا وہ سرخ لکیر ہے جسے ہماری جمہوریت پار نہیں کر سکتی۔'

خیال رہے کہ صدر ٹرمپ کا بیان ان کے وکیل جان ڈوڈ کے بیان کے ایک روز بعد آیا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ سپیشل مشیر کی جانچ کے ختم ہونے کا وقت آ گیا ہے۔ پہلے مسٹر ڈوڈ نے کہا تھا کہ وہ صدر کی جانب سے بول رہے ہیں لیکن پھر بعد میں وضاحت کی کہ وہ 'اپنی جانب سے بول رہے تھے۔'

اسی بارے میں