’غزہ میں ہتھیاروں کی سمگلنگ‘ میں فرانسیسی قونصل خانے کا اہلکار ملوث

Hamas militants in Gaza (file photo) تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption فرانسیسی شخض پر الزام ہے کہ اس نے غزہ سے مغربی کنارے پر ہتھیار سمگل کیے ہیں

یروشلم میں تعینات فرانسیسی قونصل خانے کے ایک اہلکار پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انھوں نے غزہ کی پٹی سے ہتھیاروں کی سمگلنگ کی تھی۔

اسرائیلی سکیورٹی ایجنسی شین بیت کے مطابق ایک 20 سالہ شخص جس کا نام نہیں بتایا گیا کو رواں برس فروری میں ایرز کی سرحد عبور کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق مشتبہ افراد میں سے ایک قونصل خانے میں ڈرائیور کی ڈیوٹی پر مامور تھا اور وہ مسلسل بنیادوں پر غزہ جاتا رہتا تھا۔

فلسطینی شہری نے اسرائیلی فوجیوں پر گاڑی چڑھا دی، ایک ہلاک

’امریکہ اور اسرائیل نے مسلم عدم اتحاد کا فائدہ اٹھایا‘

اسرائیل: غزہ کے قریب دھماکہ، چار اسرائیلی فوجی زخمی

خیال رہے کہ اسرائیل طویل عرصے سے غزہ میں جنگجوؤں تک ہتھیاروں کی رسائی کو روکنے کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

تل ابیب میں فرانسیسی سفارتخانے کے ترجمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ہم نے اس معاملے کو بہت سنجیدگی سے لیا ہے اور ہم اسرائیلی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں۔‘

شین بیٹ کا کہنا ہے کہ اس مشتبہ شخص نے 70 سے زیادہ پستول اور دو رائفلز غزہ سے مغربی کنارے میں اپنے پانچ دوروں کے موقع پر سمگل کیں۔

بتایا گیا ہے کہ وہ اس کام کے لیے قونصل خانے کی گاڑی استعمال کرتا تھا۔

اب تک حماس کی اسرائیل کے ساتھ تین مرتبہ لڑائی ہو چکی ہے جس میں اس نے ہزاروں راکٹوں اور بموں کا استعمال کیا۔

اسرائیل اور مصر نے غزہ میں جنگجوؤں تک تھیاروں کی رسائی روکنے کے لیے ناکہ بندی بھی کر رکھی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں