ایجنٹ کو زہر دینے کا تنازع: ملک بدر ہونے والے 23 روسی سفارتکار لندن چھوڑ رہے ہی

روس تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption سفارتخانے کا عملہ گاڑیوں گاڑیوں میں نکل رہا ہے

برطانیہ کے شہر سیلیسبری میں سابق روسی انٹیلیجنس افسر اور ان کی بیٹی کو زہر دینے پر روس کے جن 23 سفارت کاروں کو ملک بدر کرنے کا اعلان کیا تھا وہ آج یعنی منگل کو روس واپس جا رہے ہیں۔

لندن میں روسی سفارتخانے سے وین اور سفارتی گاڑیاں روانہ ہوئیں ہیں۔

روسی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ تقریباً 80 لوگ بشمول روسی سفارتکاروں اور ان کے اہل خانہ آج لندن سے روس کے لیے روانہ ہوں گے۔

روس کا 23 برطانوی سفارتکاروں کو ملک بدر کرنے کا اعلان

23 روسی سفارتکاروں کو ایک ہفتے میں برطانیہ چھوڑنے کا حکم

روسی ایجنٹ پر حملہ: روس کو وضاحت کے لیے ڈیڈ لائن

روسی سفارتخانے کے باہر چند افراد جمع ہوئے اور سفارتخانے سے روانہ ہونے والے افراد کو ہاتھ ہلا کر الوداع کہا۔

برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے نے ہفتے کو روس کے 23 سفارت کاروں کو ملک سے نکالنے کا اعلان کیا تھا۔

برطانوی وزیر اعظم نے کہا تھا کہ سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کے لیے ایک ہفتہ دیا گیا ہے اور یہ سفارتکار وہ انٹیلیجنس آفیسر ہیں جن کی شناخت مخفی رکھی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption لوگ ہاتھ ہلاک کر الوداع کہہ رہے ہیں
تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption سفارتخانے کے باہر جذباتی مناظر بھی دیکھے گئے

ٹریزا مے نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروو کو برطانیہ کا دورہ کرنے کی دعوت بھی منسوخ کر دی ہے۔ اس کے علاوہ اعلان کیا گیا ہے کہ برطانوی شاہی خاندان روس میں ہونے والے فیفا ورلڈ کپ کی تقریب میں شرکت نہیں کرے گا۔

سابق برطانوی سفارتکار چالز کروفرڈ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ روس کی مختلف انٹیلیجینس سروسز ہیں اور ان کا لندن میں بڑا اڈہ ہو گا۔

انھوں نے بتایا کہ یہ مت بھولیں کہ روس مقامی افراد کو نوکری پر نہیں رکھتا۔ مثلاً روسی سفارتخانے میں آپ کسی برطانوی کو ڈرائیونگ یا باورچی خانے میں کام کرتے ہوئے نہیں دیکھیں گے۔ ان سب کاموں کے لیے بھی وہ روس ہی سے عملہ لاتے ہیں۔ اتنے بڑے عملے میں وہ لوگ بھی ہوتے ہیں جو انٹیلیجینس ایجنٹس یا کسی ایجنسی کے لیے کام یا اس کی حمایت کرتے ہیں۔‘

چارلز کروفرڈ کا کہنا ہے کہ جو چیز سمجھنے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ روس کے ایجنٹس کی لندن میں موجودگی برطانوی ایجنٹس کی ماسکو میں موجودگی سے کہیں زیادہ ہے۔ ’ہم ان کے انٹیلیجنس ایجنٹس ملک بدر کر رہے ہوں گے اور وہ ہمارے سفارتکار۔‘

روس نے سیلیسبری میں روس کے سابق انٹیلیجنس افسر 66 سالہ سرگئی اور ان کی 33 سالہ بیٹی یولیا کو زہر دینے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

دیگر اقدامات

  • 23 سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کے لیے ایک ہفتے کا وقت
  • نجی پروازوں، کسٹمز اور کارگو کی مزید سخت نگرانی
  • روسی ریاستی اثاثے منجمد کیے جائیں گے جن کے حوالے سے شواہد ہیں کہ برطانیہ کے لیے خطرہ ہیں
  • وزرا اور شاہی خاندان روس میں ہونے والے فیفا ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کریں گے
  • روس کے ساتھ اعلیٰ سطح کے باہمی روابط معطل

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں