سعودی ولی عہد شہزادہ سلمان: ’میں گاندھی یا منڈیلا نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شہزادہ محمد نے ڈاونچی کی مہنگی ترین پینٹنگ 45 کروڑ ڈالر میں خریدی تھی

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بِن سلمان نے کہا ہے کہ وہ اپنے شاہانہ طرز زندگی پر شرمندہ نہیں اور نہ ہی اس بات پر پر معافی مانگیں گے وہ اپنی ذات پر بے تہاشا پیسہ خرچ کرتے ہیں۔

امریکہ کے دورے پر روانگی سے پہلے امریکی ٹی وی چینل سی بی ایس کو ایک تفصیلی انٹرویو میں سعودی ولی عہد کا کہنا تھا کہ ان کے ذاتی اخراجات ایک نجی معاملہ ہے۔

یاد رہے کہ شہزادہ محمد آج وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مہمان ہوں گے۔

حضرت عیسیٰ کی نادر پینٹنگ کے ’اصل‘ خریدار شہزادہ سلمان

’شہزادہ محمد دنیا کے سب سے مہنگے مکان کے خریدار‘

’سعودی شہزادے صرف جھوٹی اور کڑوی باتیں کرتے ہیں‘

جون سنہ 2017 میں اپنے چچا زاد کو ہٹا کر ولی عہد بننے والے بتیس سالہ شہزادہ محمد نے گذشتہ عرصے میں بہت تیزی کے ساتھ حکومت پر اپنی گرفت مضبوط کی ہے۔ اس دوران انھوں نے سعودی عرب میں بدعنوانی کے خلاف مہم کا آغاز کیا جس میں انھوں نے ملک کے بڑے بڑے کاروباری خاندانوں، کمپنیوں، شاہی خاندان کے افراد اور سرکاری افسران کے ایک سو ارب ڈالر کے اثاثے بھی ضبط کیے۔ اس کے علاوہ انھوں نے ’بد عنوان‘ افراد کے خلاف کئی دیگر سخت اقدامات کے احکامات بھی جاری کیے۔

لیکن امریکی روزنامے نیویارک ٹائمز کے مطابق جہاں تک شاہ خرچیوں کا سوال ہے، خود شہزادہ محمد بھی ان میں گھرے ہوئے ہیں۔ اخبار کا کہنا ہے کہ حال ہی میں شہزادہ محمد نے مشہور عالم پینٹر ڈاونچی کا مہنگا ترین فن پارہ 45 کروڑ ڈالر میں خریدا اور فرانس میں ایک محل بھی خریدا جس کی مالیت ایک ہزار 857 کروڑ روپے بتائی جا رہی ہے۔

جب ٹی وی چینل نے ولی عہد سے ان اخراجات کے حوالے سے سوال کیا تو شہزادہ محمد کا کہنا تھا کہ ’ یہ میری ذاتی زندگی ہے اور یہ مجھے پسند ہے۔ میں اس قسم کی باتوں کا جواب دینے سے کتراتا نہیں۔ اگر کوئی اخبار ایسی باتوں پر انگلی اٹھاتا ہے، تو یہ اس کا مسئلہ ہے۔‘

شہزادہ محمد بن سلمان کا مزید کہنا تھا کہ ’جہاں تک میرے ذاتی اخراجات کا تعلق ہے، تو میں ایک امیر آدمی ہوں۔ میں غریب نہیں۔ میں گاندھی یا نیلسن منڈیلا نہیں۔ میرا تعلق حکمران خاندان سے ہے جو صدیوں سے دولت مند رہا ہے۔‘

اسی بارے میں