شمالی کوریا: ’پابندیوں اور دباؤ نے مذاکرات پر مجبور نہیں کیا‘

ڈونلڈ ٹرمپ، کم جونگ ان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کی جانب سے ملاقات کی دعوت قبول کر لی ہے اور دونوں رہنما رواں سال مئی میں ملاقات کریں گے

شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ پابندیوں نے اسے امریکہ اور جنوبی کوریا کے ساتھ مذاکرات پر مجبور نہیں کیا بلکہ اس فیصلے کے پیچھے اس کی خود اعتمادی ہے۔

شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے سی این اے کے مطابق یہ بیان شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ملاقات کی پیشکش کو قبول کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔

سی این اے کے اداریے میں اس ممکنہ سربراہی ملاقات کا براہ راست حوالہ نہیں دیا گیا تاہم یہ کہا گیا ہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے ’امن سے متعلق پیشکش‘ نے پیانگ یانگ کے امریکہ کے ساتھ تعلقات میں ’تبدیلی کا نشان‘ بنا دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’ڈونلڈ ٹرمپ شمالی کوریا سے ملاقات کے خطرات جانتے ہیں‘

شمالی کوریا کے ساتھ معاہدے پر کام ہو رہا ہے: ٹرمپ

ٹرمپ اور کم کی ملاقات:' اکیسویں صدی کا سب سے اہم سیاسی جوا'

منگل کو جاری کیے جانے والے بیان کے مطابق امریکہ اور جنوبی کوریا کو مذاکرات کی دعوت دینا شمالی کوریا کی خود اعتمادی کا اظہار ہے۔

بیان کے مطابق شمالی کوریا نے امریکہ اور جنوبی کوریا کو ’پابندیوں اور دباؤ‘ کی وجہ سے مذاکرات کی دعوت دی جو بالکل ’احمقانہ‘ ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کی جانب سے ملاقات کی دعوت قبول کر لی ہے اور دونوں رہنما رواں سال مئی میں ملاقات کریں گے۔

اسی بارے میں

شمالی کوریا کے خلاف ’تاریخ کی سب سے بڑی‘ پابندیاں

شمالی کوریا کے دو اہلکاروں کے خلاف تازہ امریکی پابندیاں

دونوں رہنماؤں کی ملاقات کب اور کہاں ہو گی اس بارے میں ابھی کچھ واضح نہیں ہے۔

اگر یہ ملاقات ہوئی تو امریکہ اور شمالی کوریا کے موجودہ رہنماؤں کے درمیان یہ پہلا براہِ راست رابطہ ہو گا۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ ماہ فروری میں کہا تھا کہ امریکہ شمالی کوریا کے خلاف نئی اقتصادی پابندیاں لگانے لگا ہے جو کہ تاریخ کی 'سب سے بڑی پابندیاں' ہیں۔

اسی بارے میں