نائجیریا: اغوا ہونے والی 76 لڑکیوں کو رہا کرا لیا گیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/GETTY IMAGES
Image caption 19 فروری کو اس سکول پر حملہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں 110 طالبات لاپتہ ہیں

نائجیریا میں حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ مہینے شہر ڈاپچی سے اغوا ہونے والی 110 لڑکیوں میں سے زیادہ تر کو رہا کرا لیا گیا ہے۔

نائجیریا کی وزارت اطلاعات کے مطابق سکول کی 110 طالبات میں سے 76 کو رہا کرا لیا گیا ہے اور ایسا 'درپردہ کوششوں' کے ذریعے ممکن ہو سکا ہے۔

تاہم بیان میں ان لڑکیوں میں سے بعض کی ہلاکت کی اطلاعات کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

نائجیریا میں 110 لڑکیوں کی بازیابی کی کوششیں تیز

نائجیریا: لاپتہ طالبہ ’بچے کے ہمراہ ملی ہیں‘

بوکو حرام کی وجہ سے ’10 لاکھ بچے سکول نہیں جا سکتے‘

حکومت کا دعویٰ ہے کہ لڑکیوں کی رہائی کے لیے کوئی تاوان ادا نہیں کیا گیا ہے۔

اطلاعات اور ثقافت کے وزیر الحاجی محمد نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ان لڑکیوں کو 'بغیر کسی شرط اور ملک کے چند دوستوں کی مدد سے' رہا کروایا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا 'حکومت اس بات پر واضح تھی کہ تشدد اور تصادم سے لڑکیوں کی زندگی کو خطرہ ہو سکتا ہے اس لیے پرامن طریقہ کار کو ہی ترجیح دی گئی ہے۔'

ایک لڑکی کے والد نے بی بی سی کو بتایا کہ شدت پسندوں کا جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ بوکو حرام سے تعلق رکھتے ہیں، ایک قافلہ بدھ کی صبح شہر کی جانب آیا اور لڑکیوں کو مقامی افراد کے حوالے کر گیا اور فوراً وہاں سے واپس روانہ ہو گیا۔

ان لڑکیوں کو ملک کے شمال مشرقی صوبے یوبے کے ڈاپچی شہر کے ایک سکول سے 19 فروری کو اغوا کیا گیا تھا۔

شروع میں یہ دعوے کیے گئے تھے کہ کوئی بھی لڑکی اغوا نہیں ہوئی بلکہ وہ بچ نکلنے میں کامیاب رہی ہیں لیکن پھر ایک ہفتے بعد حکومت نے تسلیم کر لیا تھا کہ لڑکیاں اغوا ہو گئی ہیں۔

تجزیہ: کیا کچھ بدلے گا؟

70 سے زیادہ طالبات کی واپسی اس بات کا عندیہ ہے کہ دولت اسلامیہ کا حمایت یافتہ بوکو حرام کا یہ دھڑا جس کی قیادت ابو مصعب البرنوی کر رہے ہیں اغوا کرنے کے معاملے میں ایک مختلف سوچ رکھتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption لاپتہ طالبات کے والدین حکام سے اپنی لڑکیوں کی بازیابی کا مطالبہ کر رہی ہیں

چیبوک سے اغوا ہونے والی طالبات کی رہائی کے لیے بوکو حرام کے لیڈر ابو بکر شیکاؤ سے کیے جانے والے مذاکرات میں بہت مشکل پیش آئی تھی اور 100 سے زیادہ لڑکیاں آج بھی ان کی قید میں ہیں۔

اطلاعات کے برعکس ڈاپچی میں رہائی پانے والی لڑکیوں کے عوض بوکو حرام کو ضرور کچھ نے کچھ ملا ہو گا۔

اس سے مستقبل میں یہ مسئلہ ہو سکتا ہے کہ دولت اسلامیہ کے حمایت یافتہ شدت پسند گروہ یہ سوچنے لگیں گہ کہ وہ بڑے پیمانے پر اغوا کرنے کی اس قسم کی کارروائیوں کے عوض حکومت سے اپنے مطالبات تسلیم کروا سکتے ہیں۔

نائجیریا کی حکومت یہ سوچ رہی ہوگی کہ اس نے خود کو اُس قسم کی بدنامی سے بچا لیا ہے جس کا سامنا چبوک سے لڑکیوں کے اغوا کے ردعمل میں سابق صدر گوڈلک جوناتھن کو کرنا پڑا تھا۔

لیکن یہ موجودہ صدر محمد بحاری کی حکومت کے لیے ایک بہت چھوٹی کامیابی ہے۔ بدھ کو بھی بوکو حرام اور اس کے مختلف دھڑوں کے لوگ اپنی مرضی اور چلے گئے اور انھیں کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ وہ آج بھی نائجیریا کے لیے ایک خطرناک وبا کی طرح ہیں۔

بوکو حرام

شدت پسند تنظیم بوکو حرام ملک کے شمالی علاقے میں ایک عرصے سے اسلامی ریاست کے قیام کے لیے بر سرپیکار ہے۔

تقریباً چار سال قبل انھوں نے چیبوک کے ایک سکول سے 276 لڑکیوں کو اغوا کر لیا تھا جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں 'برِنگ بیک آوور گرلز' کی مہم نظر آئی تھی۔ ان میں سے ابھی بھی ایک سو سے زیادہ لڑکیوں کے بارے میں تاحال کوئی علم نہیں ہے۔

ملک میں جاری شورش کے نتیجے میں اب تک دسیوں ہزار افراد ہلاک اور ہزاروں اغوا ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں