’اوور ٹائم نہیں ہوگا، ملازمین آٹھ بجے کمپیوٹر بند کریں اور گھر جائیں‘

کوریا تصویر کے کاپی رائٹ iStock
Image caption جنوبی کوریا میں سرکاری ملازمین اوسطاً سالانہ 2,739 گھنٹے کام کرتے ہیں

جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیئول میں حکومت نے ملازمین کو دفتروں سے گھر وقت پر بھیجنے کے لیے ایک نئے اقدام کا اعلان کیا ہے جس میں تمام کمپیوٹر جمعے کی شب رات آٹھ بجے بند کرنا ہوں گے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ’اوور ٹائم کام کرنے کی روایت‘ کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

خیال رہے کہ جنوبی کوریا کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں سب سے زیادہ گھنٹے کام لیا جاتا ہے۔

جنوبی کوریا میں سرکاری ملازمین اوسطاً سالانہ 2,739 گھنٹے کام کرتے ہیں جو دیگر ترقی یافتہ ممالک کے ملازمین کے مقابلے میں تقریباً 1,000 گھنٹے زیادہ ہے۔

کمپیوٹرز بند کرنے کے حوالے سے ترتیب دیے گئے پروگرام میں سیئول میٹروپولیٹن گورنمنٹ آئندہ تین ماہ میں تین حصوں میں اس کا نفاذ کرے گی۔

اس پروگرام کا آغاز 30 مارچ سے ہوگا، جس میں تمام کمپیوٹر شب آٹھ بجے بند کر دیے جائیں گے۔

اس کا دوسرا حصہ اپریل میں شروع ہوگا، جس میں ملازمین کو مہینے کے دوسرے اور چوتھے ہفتے میں اپنے کمپیوٹر شب ساڑھے سات بجے بند کرنا ہوں گے۔

مئی سے یہ پروگرام مکمل طور پر لاگو کر دیا جائے گا جس میں ہر جمعے کو کمپیوٹر شام سات بجے بند کرنا ہوں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ایس ایم جی کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق تمام ملازمین کو اپنے کمپیوٹر بند کرنا ہے تاہم مخصوص حالات میں رعایت دی جائے گی۔

تاہم تمام سرکاری ملازمین اس کے حق میں نہیں ہے، ایس ایم جی کے مطابق 67.1 سرکاری ملازمین نے زبردستی بجلی بند کرنے سے استثنیٰ حاصل کرنے کی درخواست کی ہے۔

رواں ماہ کے آغاز میں جنوبی کوریا کی قومی اسمبلی نے ہفتے میں 68 گھنٹے سے کم کرکے 52 گھنٹے کام کرنے کا ایک قانون منظور کیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں