دہلی سے تل ابیب براستہ سعودی فضائی حدود پہلی پرواز

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اسرائیل وزیرِ ٹرانسپورٹ یسرائیل کاٹس نے کہا کہ 'یہ ایک تاریخی لمحہ ہے'

انڈیا کی سرکاری فضائی کمپنی ایئر انڈیا نے اسرائیل جانے کے لیے سعودی عرب کی فضائی حدود کا استعمال کرتے ہوئے اپنی پہلی پرواز مکمل کی ہے۔

اسرائیل کے وزیر برائے ٹرانسپورٹ يسرائيل كاٹس نے کہا ہے کہ ایئر انڈیا کی دہلی سے تل ابیب کے لیے پرواز ان کے ملک اور سعودی عرب کے درمیان پہلا باضابطہ تعلق ہے۔

اسرائیل کے وزرت سیاحت ياريف ليفين کا کہنا ہے سعودی فضائی حدود کے استعمال سے پرواز کے وقت میں دو گھنٹے کی کمی کے ساتھ ساتھ کرایوں میں بھی کمی ہوگی۔

جمعرات کو ایئر انڈیا کی دہلی سے اڑان بھرنے والی پرواز اے آئی 139 تل ابیب کے بن گوريون ہوائی اڈے پر جے ایم ٹی وقت کے مطابق شام سات بج کر 45 منٹ پر لینڈ ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں!

ایران: اسرائیل سے دوستی ختم کریں، سعودی عرب سے مطالبہ

انڈیا اسرائیل کے قریب تر آرہا ہے

انڈیا اسرائیل تعلقات:’رومانس بھی ماند پڑ گیا ہے'

سعودی ولی عہد اسرائیل کا دورہ کریں: اسرائیلی انٹیلیجنس وزیر

اسرائیل وزیرِ ٹرانسپورٹ یسرائیل کاٹس نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’یہ ایک تاریخی لمحہ ہے۔‘

انھوں نے عبرانی زبان میں کہا کہ ’یہ پہلا موقع ہے کہ اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان باضابطہ رابطہ قائم ہوا ہے۔‘

اسرائیلی وزرت سیاحت ياريف ليفين بھی اس موقع پر ہوائی اڈے پر موجود تھے اور ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک نئے دور کا آغاز ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دہلی سے تل ابیب اور تل ابیب سے دہلی ہفتے میں تین پروازیں سعودی فضائی حدود کا استعمال کریں گی

اسرائیل کی سرکاری فضائی کمپنی ال عال کو سعودی عرب کا روٹ استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ایئر انڈیا کو اب ایک غیرمنصفانہ فوقیت حاصل ہوگئی ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل کی قومی ایئرلائن ال عال انڈین شہر ممبئی کے لیے پرواز کرتی ہے جس کے لیے وہ سعودی عرب اور ایران کی فضائی حدود کے بجائے بحیرۂ احمر کا راستہ اختیار کرتی ہے۔

سعودی عرب اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اور دونوں ممالک کے درمیان کسی قسم کے سفارتی تعلقات قائم نہیں ہے۔

دہلی سے تل ابیب اور تل ابیب سے دہلی ہفتے میں تین پروازیں سعودی فضائی حدود کا استعمال کریں گی۔ خیال رہے سعودی عرب نے کئی دہائیوں نے اسرائیل جانے والی کمرشل پروازوں پر اپنی فضائی حدود کے استعمال پر پابندی عائد کر رکھی تھی۔

اسی بارے میں