پیرس میں سیکس ڈولز کا مرکز ’قحبہ خانہ نہیں‘

قحبہ خانے تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں کونسل آف پیرس نے سیکس ڈول کے ساتھ ایک گھنٹہ گزارنے والے کاروبار کو جائز قرار دے دیا ہے۔

اس کاروبار میں صارفین 89 یورو (109 امریکی ڈالر) کے عوض ایک سیلیکون سیکس ڈول کے ساتھ ایک گھنٹہ گزارتے تھے۔

واضح رہے کہ کمیونسٹ اور فیمنسٹ گروپوں نے ’ایکس ڈولز‘ نامی اس کاروبار کو بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کاروبار ایک قحبہ خانہ چلانے کے برابر ہے اور عورت کی عظمت کے خلاف ہے۔

فرانس میں کوئی قحبہ خانہ چلانا یا اس کی ملکیت رکھنا غیر قانونی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پیرس میں سیکس ڈولز کے 'قحبہ خانے' کے مستقبل کا فیصلہ

پولیس نے کونسلروں کی ملاقات سے پہلے اس جگہ کا دورہ کیا اور بتایا کہ وہاں کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی گئی۔

کمیونسٹ کونسلرز نکولس بونیٹ اولالڈج اور نرو بیگو نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ انھیں کونسل آف پیرس کے اس فیصلے سے افسوس ہوا ہے۔

انھوں نے ایکس ڈولز کو خواتین اور مردوں کے درمیان تعلقات کو انسانی رتبے سے گرانے کے برابر قرار دیا۔

فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں 'ایکس ڈولز' ایک نامعلوم جگہ پر قائم ہے اور گذشتہ ماہ اس کا افتتاح ہوا تھا۔

مقامی اخبار لی پیرسین کے مطابق اس کے صارفین میں زیادہ تر مرد شامل ہیں جبکہ کچھ جوڑے بھی یہاں آتے ہیں۔ اس کے مالک جوشم لوسکئے کی اس سے پہلے الیکٹرنک سگریٹوں کی دکانیں تھی۔

جوشم لوسکئے کا کہنا ہے کہ صارفین آن لائن بکنگ اور رقوم کی ادائیگی کرتے ہیں، اور اس مقام کا پتہ خفیہ رکھا جاتا ہے۔ ان کے مطابق ہمسایوں کو بھی اس کاروبار کی نوعیت کے بارے میں علم نہیں ہے۔

جوشم لوسکئے کا کہنا ہے کہ یہ ڈولز محض سیکس ٹوائز ہیں اور وہ انھیں خواتین کی خراب تصویر کشی کے طور پر نہیں دیکھتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں