فرانس: ’دولت اسلامیہ سے تعلق رکھنے والے‘ مسلح شخص کو پولیس نے مار دیا

فرانس تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

جنوبی فرانس کی سپر مارکیٹ میں پولیس نے دھاوا بول کر اس مسلح نوجوان کو مار دیا ہے جس نے تین افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔

مسلح شخص کسی سے گاڑی چھین کر اس میں سوار ایک شخص کو ہلاک اور ڈرائیور کو زخمی کرنے کے بعد ٹریبس کی سپر مارکیٹ پہنچا۔

حکومتی وزیر نے حملہ آور کا نام ریدوین لدیم اور عمر 26 برس بتائی ہے جس نے یہ دعوی کیا تھا کہ اس کا تعلق شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ سے ہے۔

یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اسی حملہ آور نے تین مختلف واقعات میں لوگوں کو زخمی اور ہلاک کیا ہے۔

پہلا حملہ سپر مارکیٹ سے 15 منٹ کی مسافت پر کارکیسون نامی علاقے میں ایک پولیس اہلکار پر ہوا جو اس وقت گولی لگنے سے زخمی ہو گیا تھا جب وہ اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ جاگنگ کر رہا تھا۔ پولیس اہلکار کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ وہ حملہ آور ہتھیاروں سے لیس تھا اور نومبر 2015 میں پیرس حملوں میں ملوث اہم حملہ آور صالح عبدالسلام کی رہائی کا مطالبہ کر رہا تھا۔

خیال رہے کہ حملے کے بعد ملک کے وزیراعظم نے صورتحال کو ’سنگین‘ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ دہشت گردی پر مبنی اقدام کی جانب اشارہ کرتی ہے۔

حملہ آور نے سپر مارکیٹ میں پہنچ کر چیخ کر کہا کہ ’میں داعش کا سپاہی ہوں اور میں نے چھوٹے سے قصبے میں سپر مارکیٹ میں لوگوں کو یرغمال بنا لیا ہے۔‘

وزیر داخلہ جیراڈ کولمب کا کہنا ہے کہ 45 سالہ لیفٹیننٹ کرنل جینڈرمی نے ایک مغوی کی رہائی کے بدلے اندر جا کر اپنی فون لائن کو اوپن رکھا تاکہ پولیس صورتحال کو مناٹیر کر سکے اور پولیس نے گولی چلنے کی آواز سن کر کارروائی کی جس میں حملہ آور کو مار دیا گیا۔

جینڈرمی اس کارروائی کے دوران زخمی ہوئے جنھیں حکام نے ہیرو قرار دیا ہے۔

مزید پڑھیے

فرانس: مارسیے میں چاقو بردار کا حملہ، دو ہلاک

فرانس: پولیس اہلکار پر ہتھوڑے سے حملے کی کوشش

خبر رساں ادارے روئٹرز نے وزیر داخلہ جیراڈ کولمب کے حوالے سے بتایا ہے کہ خفیہ ایجنسیاں حملہ آور کو کچھ جرائم کی وجہ سے جانتی تھیں تاہم ان کا خیال تھا کہ وہ انتہاپسندی کی جانب مائل نہیں۔

سپر مارکیٹ کے قریب سینکڑوں پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا جب کہ جائے وقوعہ کے قریبی علاقے کا محاصرہ بھی کر لیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ سنہ 2015 میں فرانس میں بڑے شدت پسند حملے ہوئے تھے جس کے بعد ملک میں صورتحال ہائی الرٹ پر رہی ہے۔

نومبر 2015 میں پیرس حملوں میں 130 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں