چین اور امریکہ کی تجارتی جنگ، چین کا جوابی اقدام

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چینی مصنوعات پر ٹیکس عائد کرنے کی بات ڈونلڈ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم میں بھی کرتے رہے ہیں

چین کی وزارتِ خزانہ نے امریکہ کی طرف سے چین سے درآمد شدہ سٹیل اور الومینیم پر درآمدی ڈیوٹی عائد کرنے کے رد عمل میں امریکی سے چین درآمد کی جانے والی مصنوعات پر تین ارب ڈالر کے ٹیکس عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

چین کی وزارتِ خزانہ سے جاری ہونے والے اعلان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ سے چین درآمد کی جانے والی ایک سو اٹھائیس اقسام کی مصنوعات پر ڈیوٹی وصول کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیے

امریکہ اور چین کی تجارتی جنگ کے نتائج کیا ہوں گے؟

’سٹیل پر ڈیوٹی عائد کرنا امریکہ کے لیے بھی نقصان دہ‘

اس میں سے ایک سو بیس اقسام کی اشیاء اور مصنوعات جن میں پھل، خشک میوا، شراب ، بغیر جوڑ کی ٹیوبیں اور دیگر اشیا شامل ہیں اور جن کی کل مالیت ستانوے کروڑ ڈالر بنتی ہے ان پر چین پندرہ فیصد ڈیوٹی وصول کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ گوشت اور ری سائیکل الیومینیم پر چین نے پچیس فیصد ڈیوٹی وصول کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

چین کے سرکاری خبررساں اداروں میں وزارتِ خارجہ کے ترجمان کی طرف سے شائع ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ امریکہ قومی سلامتی کا بہانہ بنا کر چین سے درآمد کی جانے والے سٹیل اور الومینیم پر پچیس اور دس فیصد ڈیوٹی عائد کر رہا ہے۔

چین کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ اگر چین اور امریکہ کس تجاری معاہدے پر نہیں پہنچتے تو چین پہلے مرحلے میں مصنوعات کی ایک فہرست میں شامل اشیا پر ڈیوٹیاں عائد کرے گا اور دوسرے مرحلے میں امریکہ کی طرف سے عائد کردہ ڈیوٹیوں کے مالی اثرات کا مکمل طور پر اندازہ لگانے کے بعد مزید اقدامات کا اعلان کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین سے درآمد کی جانے والی اشیا پر پچاس ارب ڈالر کی ڈیوٹیاں عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اس کے رد عمل میں واشنگٹن میں چینی سفارت خانے سے جاری ہونے والے بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس یک طرفہ اقدام قرار دیا تھا۔

چین نے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیش کے تحت امریکہ کے اس یک طرفہ اعلان پر قانونی چارہ جوئی کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

ماہرین کے مطابق چین روائتی طور پر بڑا سوچ سمجھ کر اپنے نفع اور نقصان کا مکل طور پر اندازہ لگانے کے بعد کوئی کارروائی کرتا ہے۔

اسی بارے میں