طالبان کی مدد کی خبریں بے بنیاد ہیں: روس، ’ہم نے کسی کی مدد نہیں لی‘: طالبان

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption طالبان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم نے کسی بھی ملک سے مدد نہیں لی ہے۔

روس اور طالبان نے علیحدہ علیحدہ بیانات میں افغانستان میں امریکی افواج کے سربراہ کے اس بیان کو غلط قرار دیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ روس نہ صرف طالبان کی مدد کر رہا ہے بلکہ انھیں اسلحہ بھی فراہم کر رہا ہے۔

گذشتہ ہفتے بی بی سی کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں جنرل جان نکولسن نے کہا کہ انھوں نے 'روسیوں کی جانب سے غیر مستحکم کرنے والی سرگرمیاں دیکھی ہیں۔'

اس بیان کے جواب میں کابل میں روسی سفارتخانے کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا ہے جس میں ان الزامات کو بے بنیاد اور افواہیں کہا گیا ہے۔

مزید پڑھیے

روس افغان طالبان کو مسلح کر رہا ہے: امریکی جنرل

ملا ہبت اللہ کو ہیبتوف کیوں کہا جا رہا ہے

’طالبان افغانستان کے 70 فیصد علاقے کے لیے خطرہ‘

ادھر طالبان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم نے کسی بھی ملک سے مدد نہیں لی ہے۔

طالبان کے ترجمان نے پاکستان میں قائم افغان اسلامک پریس نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’دشمن کے پاس اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔‘

یاد رہے کہ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے جنرل جان نکولسن نے کہا تھا ’ہمارے پاس طالبان کی جانب سے لکھی جانے والی ایسی کہانیاں موجود ہیں جو میڈیا میں شائع ہوئی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ دشمن نے ان کی مالی مدد کی۔ ہمارے پاس ہتھیار ہیں جو ہمیں افغان رہنماؤں نے دیے ہیں اور یہ ہتھیار روسیوں نے طالبان کو فراہم کیے۔ ہمیں معلوم ہے اس میں روسی ملوث ہیں۔‘

جنرل جان نکولسن کو یقین ہے کہ روس کا طالبان کے ساتھ براہ راست تعلق ایک نئی چیز ہے۔ انھوں نے کہا کہ روس نے تاجکستان کے ساتھ افغان سرحد پر مشقوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔

امریکی جنرل کے بقول 'یہ انسداد دہشت گردی کی مشقیں ہیں لیکن ہم روسی پیٹرن پہلے دیکھ چکے ہیں، وہ بڑے پیمانے پر سازو سامان لے جاتے ہیں اور پھر اس میں سے کچھ سامان پیچھے رہ جاتا ہے۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ ہتھیار اور دوسرا سامان سرحد کے ذریعے سمگل کیا جاتا ہے اور پھر طالبان کو فراہم کیا جاتا ہے۔امریکی جنرل نے تسلیم کیا کہ یہ کہنا مشکل ہے کہ روس طالبان کو کنتی مدد فراہم کر رہا ہے۔

تاہم سینیئر افغان پولیس اہلکاروں اور فوجیوں نے بی بی سی کو بتایا کہ طالبان کو فراہم کیے جانے والے ہتھیاروں میں رات کے اندھیرے میں دیکھنے والی عینکیں، میڈیم اور ہیوی مشین گنز کے علاوہ چھوٹے ہتھیار بھی شامل ہیں۔

افغان ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ہتھیار افغان افواج اور نیٹو کے مشیروں کے خلاف استعمال ہونے کا امکان ہے۔

دوسری جانب روس نے طالبان کو ہتھیار اور مالی امداد فراہم کرنے کی تردید کی ہے تاہم اس نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ اس نے شدت پسند گروپ کے ساتھ مذاکرات کیے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں