اسرائیل کے دفاعی نظام آئرن ڈوم نے دس لاکھ ڈالر کے میزائل غلطی سے داغ دیے

آئرن ڈوم تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اسرائیل کے میزائل ڈیفنس نظام آئرن ڈوم نے اتوار کے روز تقریباً 20 انٹرسیپٹر میزائل داغے جبکہ بعد میں معلوم ہوا کہ اسرائیل پر کوئی راکٹ یا میزائل فائر نہیں گیا تھا۔

اسرائیل کے فضائی دفاع کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل ہماوچ نے کہا کہ بغیر کسی وجہ کے آئرن ڈوم سے میزائل داغے جانے کی وجہ نہ تو انسانی غلطی تھی اور نہ ہی تکنیکی۔

انھوں نے کہا کہ آئرن ڈوم نے میزائل اس لیے داغے کہ نظام کو ’نہایت حساس‘ کی سطح پر رکھا گیا ہے۔

'آئرن ڈوم کی کامیابی دس فیصد سے زیادہ نہیں'

اسرائیل اور حماس کے ہتھیار

آئرن ڈوم سے 20 میزائل فائر کیے گئے اور ایک میزائل کی قیمت تقریباً 50 ہزار ڈالر ہے۔ اس نظام سے میزائل فائر ہوتے ہی سائرن بھی بجنے لگتے ہیں تاکہ عوام کو راکٹ حملوں کے بارے میں آگاہ کیا جا سکے۔

اتوار کی رات کو جب سائرن بجنے لگے تو جنوبی اسرائیل میں ہزاروں افراد بموں سے بچانے والی پناہ گاہوں کی جانب بھاگے۔

بریگیڈیئر جنرل ہماوچ کا کہنا ہے کہ آئرن ڈوم نے غزہ کی پٹی سے زیکیم کے علاقے کی جانب مشین گن فائر کو راکٹ سمجھ لیا۔

انھوں نے میڈیا کو بتایا کہ آئرن ڈوم نظام میں تکنیکی خرابی نہیں تھی بلکہ اس علاقے میں حالیہ صورت حال کے باعث اس نظام کو نہایت حساس رکھا گیا ہے۔

’ہم اسرائیلیوں کی جانوں اور مال کو لاحق خطرے کو بڑی اہمیت دیتے ہیں۔‘

ایک فوجی افسر نے کہا کہ اصل میں غزہ سے کوئی راکٹ فائر نہیں کیا گیا تھا اور غزہ کے ساتھ صورت حال معمول کے مطابق تھی۔

اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق میزائلوں کے ضائع ہونے کے علاوہ اس قسم کی غلط فہمیوں سے اسرائیلی عوام بھی اس کو سنجیدگی سے نہیں لیتی۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ غلط فہمی تھی لیکن اس کے باوجود اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ کی پٹی کو ٹینکوں سے نشانہ بنایا۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ غزہ میں حماس کی دو پوزیشنوں پر گولے داغے گئے۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حماس کے جنگجو غزہ میں فائرنگ کی مشق کر رہے تھے اور آئرن ڈوم اور اسرائیلی فوج دونوں ہی اسے اسرائیل پر حملہ سمجھ بیٹھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں