کم جونگ ان ٹرین سے ہی سفر کیوں کرتے ہیں؟

شمالی کوریا ٹرین

اب یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان نے چین کا دورہ کیا ہے۔

چین اور شمالی کوریا نے اس کی تصدیق کی ہے اور سنہ 2011 کے بعد اسے کم جونگ ان کا پہلا غیر ملکی دورہ قرار دیا جا رہا ہے۔

لیکن اس تصدیق سے قبل جب چین میں سبز ڈبوں والی ایک ٹرین پہنچی تو لوگوں نے یہ اندازہ لگا لیا تھا کہ اس میں شمالی کوریا کے سربراہ ہو سکتے ہیں۔

یہ بات حیران کن ہو سکتی ہے کہ وقت بچانے کے لیے جہاں دنیا کے سارے بڑے رہنما طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کا استعمال کرتے ہیں تو شمالی کوریا کہ رہنما ٹرین سے سفر کر رہے ہیں۔

ہوائی سفر سے خوف کیوں؟

کم جونگ ان کے والد کم جونگ ال کو بھی ہوائی جہاز میں سفر کرنے سے نفرت تھی۔ جب وہ سنہ 2002 میں روس کے تین ہفتے کے دورے پر گئے تھے تو انھوں نے ٹرین سے سفر کیا تھا۔

اس کے بارے میں ان کے ہمسفر ایک روسی افسر نے بتایا کہ اس ٹرین میں دنیا کی سب سے مہنگی شراب دستیاب تھی اور باربیکیو کے انتظامات بھی تھے۔ ٹرین میں شاندار پارٹی ہوا کرتی تھی۔ کم جونگ ال نے ٹرین سے دس بارہ غیر ملکی دورے کیے جن میں سے زیادہ تر چین کے تھے۔

سینیئر کم دور دراز کے سفر کے لیے بھی ٹرین ہی کا انتخاب کرتے۔ یہاں تک کہ سنہ 1984 میں وہ ٹرین سے ہی مشرقی یورپ گئے تھے۔ خیال رہے کہ ان کی موت بھی ٹرین میں ہی دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی تھی۔

بہر حال جس ٹرین میں کم جونگ ان یا ان کے والد سوار ہوتے ہیں وہ معمولی ٹرین نہیں ہے۔

،تصویر کا کیپشن

کم جونگ ان کے والد کم جونگ ال کو یہاں دیکھا جا سکتا ہے

نیویارک ٹائمز کے مطابق بیجنگ میں نظر آنے والی اس ٹرین میں 21 ڈبے تھے اور سبھی گہرے سبز رنگ میں پینٹ تھے۔ کھڑکیوں پر ٹنٹڈ شیشے تھے تاکہ باہر سے کو اندر نہ دیکھ سکے۔

اس ٹرین کے بارے میں معلومات انٹیلیجنس رپورٹ پر، ٹرین میں سوار ہونے والے حکام اور نادر میڈیا کوریج پر مبنی ہے۔

جنوبی کوریا کی سنہ 2009 کی ایک رپورٹ کے مطابق کم جونگ ان کے لیے انتہائی سیکورٹی والے کم از کم 90 ڈبے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔

اس کے مطابق کم کے والد جب بھی سفر کرتے تو تین ٹرینیں ایک ساتھ چلا کرتی تھیں۔ ان میں ایک اعلی درجے کی سکیورٹی والی ٹرین، کم کی ایک ٹرین اور ایک تیسری ٹرین میں اضافی گارڈز اور رسد ہوا کرتی تھی۔

،تصویر کا کیپشن

چینی پولیس نے کسی خاص قافلے کے لیے سڑک بند کر رکھی ہے

ان میں سے ہر ایک ڈبہ بلٹ پروف اور عام کوچز سے زیادہ وزنی ہوتا ہے۔ زیادہ وزن کی وجہ سے اس کی رفتار کم ہے۔ ایک اندازے کے مطابق سب سے زیادہ رفتار 37 میل فی گھنٹہ تک ہوتی ہے۔

سنہ 2009 کی رپورٹ کے مطابق کم جونگ ال کے وقت میں 100 سکیورٹی افسران ایڈوانسڈ ٹرین میں سوار ہوتے تھے جن کی ذمہ داری سٹیشن کی جانچ ہوتی تھی۔ اس کے علاوہ مزید سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے اس کے ساتھ فوجی ہیلی کاپٹر اور طیارے بھی ٹرین کے ساتھ پرواز کرتے۔

ایک حیران کن بات یہ بھی ہے کہ شمالی کوریا میں مختلف مقامات پر 22 ریلوے سٹیشنز ایسے بنائے گئے ہیں جو کم جونگ کے ذاتی استعمال کے لیے ہیں۔

شمالی کوریا کے سرکاری ذرائع نے ٹرین میں سوار اپنے رہنما کی تصاویر اور ویڈیوزوں بھی کئی بار جاری کی ہیں۔

سنہ 2011 میں جاری ایک ویڈیو میں کم کے والد اسی طرح بیٹھے اور باتیں کرتے نظر آئے تھے۔ پرانے ویڈیو میں فلیٹ سکرین ٹی وی بھی نظر آ رہا تھا جبکہ نئے میں لیپ ٹاپ نظر آتا ہے۔

برطانوی اخبار دی گارڈین نے کم جونگ ان کے حوالے سے 13 نومبر سنہ 2015 کو ایک رپورٹ شائع کی تھی کہ جب وہ اندرون ملک بھی کوئی دورہ کرتے ہیں تو ان کے ساتھ ایک موبائل ٹائلٹ ہوتا ہے۔

کیا کم اپنی جان کے خطرے کے سبب اتنے محتاط رہتے ہیں۔ شمالی کوریا میں سنہ 1997 سے 1999 تک رہنے والے انڈین سفیر جگجیت سنگھ سپرا نے بتایا: ڈر تو ہے۔ کم ہی نہیں بلکہ ان کے ابا بھی سیکیورٹی کے معاملے میں بہت احتیاط برتتے تھے۔ کم جونگ ان کے والد کم جونگ ال جب بھی ماسکو یا بیجنگ گئے تو وہ ہوائی جہاز کے بجائے ٹرین سے ہی گئے۔

جگجیت سنگھ سپرا نے بتایا کہ 'کسی بھی ملک کا حکمران اگر جہاز کے بجائے بیرون ملک سفر ٹرین سے کرے تو ہم سمجھ سکتے ہیں کہ وہ کتنا محتاط ہے۔ شمالی کوریا کا فضائی رابطہ صرف چین سے ہے۔ وہ بھی بیجنگنگ سے پیونگ یانگ کی پرواز ہفتے میں صرف دو بار ہے۔ اگر آپ کو شمالی کوریا جانا ہے تو آپ کو پہلے بیجنگ جانا ہوگا۔

مسٹر سپرا نے کہا کہ کم جونگ ان کے دادا، کم ال سونگ نے ایک بار طیارے سے انڈونیشیا کا سفر کیا تھا۔

انھوں نے کہا: 'سارا ملک ہائی الرٹ پر رہتا ہے۔ ان کا کسی ملک سے امن کا کوئی معاہدہ نہیں ہے۔ ایس صورت میں وہ اپنی سیکیورٹی کے متعلق ہوشیار رہتے ہیں۔ اس ملک میں جو شور نظر آ رہا ہے وہ اسی عدم تحفظ کا سبب ہے۔'