برطانیہ میں جنسی استحصال کا شکار بعض خواتین خاموش کیوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Emma Lynch

اپنے وطن میں جنسی استحصال سے بھاگ کر برطانیہ میں پناہ ڈھونڈنے والی بہت سی خواتین یہاں بھی اس سماجی اور اخلاقی ناسور سے محفوظ نہیں ہیں۔

ملک بدری کے خوف سے متاثرہ خواتین پولیس کو بھی ایسے واقعات کے بارے میں بتانے سے ڈرتی ہیں۔

البتہ ہاروے وِنسٹن کے انکشافات کے بعد کم سے کم اتنا تو ہوا کہ اب یہ عورتیں آپس میں اپنے تجربات پر بات کرتی ہیں۔

اس مضمون میں بیان کردہ واقعات سچے مگر متاثرہ خواتین کے نام فرضی ہیں۔

گریس کی عمر 37 برس ہے۔ مگر ان کے ساتھ کی گئی جنسی زیادتی میں کبھی ان کی مرضی شامل نہیں رہی۔

خود کو سمیٹے اور نظریں نیچے گاڑے انھوں نے بتایا: 'میں اکیلی نہیں ہوں۔ میری طرح اور بھی کئی عورتیں ہیں۔'

ان کے بقول وہ اور ان جیسی دوسری خواتین کا پرسان حال کوئی نہیں اس لیے انھیں جنسی استحصال کا سامنا بھی زیادہ کرنا پڑتا ہے۔

گریس بیس سال پہلے جب مغربی افریقہ کے ایک ملک سے، جس کا نام لینا وہ مناسب نہیں سمجھتیں، برطانیہ آئیں تو ان کی عمر سترہ سال تھی۔

ان کا خاندان نہایت غریب تھا۔ جب وہ پندرہ سال کی تھیں تو ان کی اور ان کی سترہ سالہ بہن کی شادی ایک ایسے شخص سے کر دی گئی جو عمر میں ان کے والد سے بھی بڑا تھا۔ وہ شہر میں اپنے شوہر کے بڑے سے گھر چلی گئیں جہاں ان کی پانچ بیویاں پہلے سے موجود تھیں۔

زندگی میں پہلی بار وہ اگلے کھانے کی فِکر سے بیگانہ ہوگئیں۔

مگر گریس کہتی ہیں: 'یہ کوئی اچھی زندگی نہیں تھی۔ میں نے بہت دکھ سہا۔'

ان کا شوہر ان پر جسمانی، زبانی اور جنسی تشدد کرتا تھا۔ اپنی سیاسی ساکھ بڑھانے کے لیے انھیں توہم پرستانہ رسومات میں شرکت پر مجبور کرتا تھا۔

دونوں بہنوں نے اس لیے زبان بند رکھی کہ کہیں ان کے گھروالوں کو نقصان نہ پہنچے کیونکہ ان کا شوہر سیاسی طور پر بہت طاقتور تھا۔

دو برس تک مسلسل جبر کا شکار رہنے کے بعد انھوں نے اپنے ایک رشتے دار کو اس بارے میں بتایا تو اس نے انھیں برطانیہ بھجوانے کا وعدہ کیا اور چند روز کے بعد ان کے سفر کا انتظام کر دیا۔

مذکورہ رشتہ دار نے انھیں بتایا کہ لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ پر کوئی انھیں لینے آئے گا اور ان کا خیال رکھے گا۔

گریس کہتی ہیں: 'جب ہم ایئرپورٹ سے باہر آئے تو ہمارے نام کی تختی لیے ایک شخص نظر آیا۔ وہ بہت ہی زیادہ بیمار لگ رہا تھا۔'

دراصل وہ کیسنر کے آخری درجہ میں مبتلا تھا۔ اس نے کہا کہ وہ انھیں ایک چرچ لے جائے گا جہاں مغربی افریقہ سے آنے والے دوسرے پناہ گزین بھی موجود ہیں، کیونکہ قریب المرگ ہونے کی وجہ سے وہ ان کا خیال نہیں رکھ سکتا۔

تین ہفتے بعد اس کا انتقال ہوگیا۔

دونوں بہنوں کے پاس برطانیہ میں کام کرنے کا اجازت نامہ نہیں تھا۔ اس لیے دونوں بہنوں کو مختلف گھروں میں پناہ لینا پڑی جہاں وہ بچوں کی دیکھ بھال اور کام کاج میں ہاتھ بٹاتیں۔

گریس جس گھر میں گئی وہاں انھیں کھانا تو مل جاتا تھا مگر سونے کے لیے انتظار کرنا پڑتا تھا تاکہ تمام گھر والے اپنے اپنے سونے کے کمروں میں چلے جائیں تو وہ بیٹھک میں صوفے پر لیٹ کر اپنی نیند پوری کر سکے۔

گریس کہتی ہیں: 'کچھ روز بعد گھر کے بڑے نے نیچے آکر مجھ سے جنسی لذت حاصل کرنا شروع کر دی۔ اسے معلوم تھا کہ میں قلاش ہوں اور میرے پاس کوئی ٹھکانہ نہیں ہے۔ اور نہ ہی قانون کے بارے میں جانتی ہوں۔ میں اس ڈر سے پولیس کے پاس نہیں جا سکتی تھی کہ مجھے پکڑ کر ملک بدر کر دیا جائے گا۔ میں اس کے رحم و کرم پر تھی۔ وہ کہا کرتا تھا، 'تم کسے جا کر بتاؤ گی'۔

'میں اس کی بیوی سے بھی شکایت نہیں کر سکتی تھی۔ مجھے ڈر تھا کہ وہ میری بات نہیں مانے کی اور مجھے گھر سے نکال دے گی۔ ایسے میں، میں کر بھی کیا سکتی تھی؟ کچھ بھی تو نہیں!'

گریس کو معلوم ہوا کہ ان کی بہن کی صورتحال بھی مختلف نہیں تھی۔

کچھ عرصے کے بعد گریس کے میزبان کو ان کی ضرورت نہ رہی کیونکہ اب بچے بڑے ہو چکے تھے۔

گریس کو پھر اسی چرچ کا رخ کرنا پڑا جہاں کچھ خدا ترس لوگ کھانا فراہم کر دیتے تھے۔ کبھی پارک کی بینچوں پر رات گزاری تو کبھی رات کو چلنے والی بسوں میں صبح ہوئی۔

کبھی کچھ عرصے کے لیے کسی گھر کی چھت میسر آئی۔ مگر کسی مستقل جائے پناہ کا بندوبست نہ ہو سکا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Emma Lynch
Image caption وِیمن فار ریفیوجی وِیمن میں پناہ لینے والی بہت سی خواتین جنسی استحصال کا شکار رہی ہیں

برطانیہ میں گزرے بیس برس کے دوران وہ درجن بھر سے زیادہ گھروں میں رہیں جہاں بھوک اور موسم کے ستم سے تو انھیں پناہ مل گئی۔ مگر جنسی ہوس سے مغلوب مردوں سے وہاں بھی پناہ نہ مل سکی۔

گریس کہتی ہیں: 'اگر گھر میں مرد مہمان ہوتے تو مجھے رات کو چھوتے اور بھی کچھ کرتے۔ میری کوشش ہوتی کہ رات کو ردوازے کو کچھ رکھ سختی سے بند کرلوں تاکہ وہ کمرے میں داخل نہ ہو سکیں۔ کبھی اس کا فائدہ ہوا اور کبھی نہیں۔ صبح بیوی اور بچوں کے سامنے وہ معصوم بن جاتے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔

'میرے ساتھ ایسا ایک یا دو بار، یا ایک یا دو گھروں میں نہیں ہوا۔ یہ کئی کئی بار ہوا۔'

دو ہزار آٹھ میں گریس کا بہن سے اچانک رابطہ منقطع ہوگیا اور تب سے اس کی کوئی خبر نہیں۔

اس عرصے میں گریس در بدر پھرتی رہیں۔ لوگ ان کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے رہے۔

گریس کہتی ہیں کہ ایک روز وہ بے یار و مددگار پارک میں بیٹھی ہوئی تھیں کہ ایک شخص قریب آیا۔ 'میں نے اسے پہچان لیا۔ یہ وہ ہی شخص تھا جو بیس سال پہلے مجھے اس وقت ملا تھا جب میں نے برطانیہ میں پہلی بار قدم رکھا تھا۔'

گریس کی بپتا سن کر وہ انھیں لندن کے ایک ریفیوجی سینٹر لے گیا جہاں عملے نے بہت ہمدردی سے ان کے حالات سنے اور مدد کا وعدہ کیا۔

'وِیمن فار ریفیوجی وِیمن' یا خواتین برائے پناہ گزیں خواتین کے نام سے لندن میں قائم رفاہی تنظیم کی کرتا دھرتا گِرما نے انھیں بتایا کہ وہ اکیلی نہیں ہیں۔

گزشہ برس اکتوبر میں گریس کو پتہ چلا کہ جس جنسی استحصال کا شکار وہ اور ان جیسی خواتین کو بننا پڑا تھا اس پر دنیا بھر کے میڈیا میں 'می ٹو' کے عنوان سے بات ہو رہی ہے۔

کئی نامور خواتین نے بھی خود پر بیتنے والے مصائب سوشل میڈیا پر شیئر کیے۔

اس طرح گریس اور دوسری خواتین کو اپنا دکھ بانٹنے کا موقع ملا۔ کئی عورتوں نے انھیں بتایا کہ جس جنسی استحصال کی وجہ سے انھوں نے اپنا وطن چھوڑا وہ آسیب کی طرح برطانیہ میں بھی ان کے پیچھے لگا رہا۔

گِرما کہتی ہیں کہ یہاں پناہ لینے کا طریقہ کار ایسا ہے جو جنسی استحصال کا شکار خواتین پولیس کے پاس جانے سے روکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Emma Lynch
Image caption وِیمن فار ریفیوجی وِیمن کی مارچو گِرما کہتی ہیں کہ برطانیہ میں غیرقانونی تارکین وطن خواتین کے لیے مشکلات زیادہ ہیں

وہ کہتی ہیں: 'پناہ حاصل کرنے کا نظام ناقص ہے اور جنسی ہراس یا بدسلوکی کی شکار خواتین کے لیے مدد گار نہیں ہے۔ اگر آپ کی حیثیت قانونی نہیں تو یہاں کا قانون آپ کو تحفظ دینے سے قاصر ہے۔'

گریس کو بالآخر ایک ایسا گھر مل گیا ہے جہاں انھیں اب کسی طرح کا خطرہ نہیں۔ اگرچہ وہ ملکی قانون کے مطابق اب بھی کہیں ملازمت کی اہل نہیں ہیں۔ مگر ان کی ضروریات رفاہی اداروں کی مدد سے پوری ہو رہی ہیں۔

انھیں امید ہے کہ حکومت ان کی پناہ کی درخواست منظور کر لے گی جو انھوں نے دو ہزار تیرہ میں جمع کروائی تھی۔

گریس کو امید ہے کہ ایک روز ان کی بہن بھی مل جائیں گی۔

یہاں رہ کر وہ اپنی تعلیم کا سلسلہ پھر سے شروع کرنا چاہتی ہیں۔ وہ مِڈ وائف بننا چاہتی ہیں۔

اسی بارے میں