چین کے ’کامیاب‘ دورے کے بعد ٹرمپ کم جونگ ان سے ملاقات کے منتظر

ٹرمپ کم جونگ ان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ یہ جاننے کے بعد کہ شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کا دورۂ چین ’بہت اچھا رہا‘ وہ بھی ان سے ملنا چاہتے ہیں۔

لیکن صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہے کہ مئی میں ہونے والی ملاقات سے قبل شمالی کوریا پر پابندیاں اور دباؤ جاری رہے گا۔

انھوں نے مزید کہا کہ جزیرہ نما کوریا کے جوہری ہتھیاروں کی تخفیف اب ممکن ہے۔

امریکی صدر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شمالی کوریائی لیڈر کم جونگ ان نے 2011 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے غیر ملکی دورے کے دوران چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی ہے۔

بدھ کے روز صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دونوں سربراہان کے درمیان بیجنگ میں مذاکرات کے حوالے سے آنے والی خبروں کا خیر مقدم کیا۔

صدر ٹرمپ نے ٹویٹ میں کہا: ’اب یہ ایک اچھا موقع ہے کہ کم جونگ ان وہ کریں گے جو ان کے لوگوں اور انسانیت کے لیے صحیح ہے۔‘

انھوں نے ایک اور ٹویٹ میں لکھا کہ ’مسٹر کم میرے ساتھ ملاقات کے بھی منتظر ہیں۔‘

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گذشتہ دنوں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کی جانب سے ملاقات کی دعوت قبول کر چکے ہیں اور دونوں رہنما رواں سال مئی میں ملاقات کریں گے۔

امریکی صدر ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ 'شمالی کوریا کے ساتھ معاہدے پر کام جاری ہے، اور یہ مکمل ہو گیا تو دنیا کے لیے بہت اچھا ہو گا۔ وقت اور جگہ کا انتخاب بعد میں ہو گا۔'

اس حوالے سے ناقدین نے خبردار کیا تھا کہ اگر یہ مذاکرات اچھے نہ رہے تو یہ دونوں ممالک اس سے کہیں زیادہ خراب صورتحال میں ہوں گے جس میں ابھی ہیں۔

جس پر امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سربراہ مائک پومپیو نے کہا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان سے ملاقات کے خطرات کو سمجھتے ہیں۔

تاہم شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ پابندیوں نے اسے امریکہ اور جنوبی کوریا کے ساتھ مذاکرات پر مجبور نہیں کیا بلکہ اس فیصلے کے پیچھے اس کی خود اعتمادی ہے۔