فلسطینیوں کی تدفین، اسرائیل کی غزہ کے اندر کارروائی کی دھمکی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اسرائیلی فوج نے خبردار کیا ہے کہ وہ مبینہ 'دہشت گرد اہداف' کو نشانہ بنانے کے لیے غزہ کی پٹی کے اندر کارروائی کر سکتے ہیں۔

اسرائیلی فوج کے برگیڈیئر جنرل رونن منیلس نے صحافیوں کو بتایا کہ غزہ میں قابض عسکریت پسند گروہ حماس فلسطینی مظاہرین کو استعمال کرتے ہوئے اسرائیل کے خلاف اپنے حملوں کو چھپا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

فلسطینی مظاہروں کا دوسرا روز، غزہ میں حالات کشیدہ

سولہ فلسطینیوں کی ہلاکت پر یوم سوگ

وہ جنگ جس نے مشرقِ وسطیٰ کو بدل کر رکھ دیا

جبکہ فلسطینی رہنما محمود عباس نے کہا ہے کہ جمعے کو ہونے والے خون خرابے کی ذمہ داری اسرائیل پر عائد ہوتی ہے۔

غزہ کی سرحد پر اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں 16 فلسطینی مارے گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مظاہرین اپنے آبائی گھروں میں واپس جانا چاہتے ہیں

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سنیچر کو فلسطینیوں نے ہلاک ہونے واے افراد کی تدفین کی اور ’بدلے‘ کا نعرہ لگایا۔ جنازوں میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔

ان جنازوں کے دوران لوگوں میں غصہ اس لیے بھی دکھائی دیا کیونکہ امریکہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اس مسودے کو بلاک کیا جس میں جھڑپوں کو روکنے اور ان کی تحقیقات کرنے کا کہنا گیا تھا۔

فلسطینی یوم الارض کے سلسلے میں ہونے والے مظاہروں میں اسرائیل کے زیرِ قبضہ علاقوں میں اپنے آبائی گھروں میں واپس جانے کا حق مانگ رہے ہیں۔ اسرائیل فوج کے اندازوں کے مطابق ان مظاہروں میں 30 ہزار افراد نے شرکت کی تھی۔

سنہ 2014 کی جنگ کے بعد سے یہ غزہ میں سب سے زیادہ ہلاکت خیز دن تھا۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے ہنگامی اجلاس میں اس تشدد کی مذمت کی۔

ہزاروں فلسطینیوں نے چھ ہفتوں پر مشتمل اس احتجاج کے دوران سرحد تک مارچ کیا جسے ’واپسی کا عظیم مارچ‘ قرار دیا گیا ہے۔ یہ احتجاج اسرائیل کے قیام کے 70 سال پورے ہونے پر کیا گیا۔

ادھر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نہ اپنے فوجیوں کی تعریف کی کہ انھوں نے ملکی سرحد کا تحفظ کیا اور دیگر اسرائیلیوں کی چھٹی امن سے گزری۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption رملہ کے قریب ہونے والی جھڑپ

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گٹریس نے جمعے کو پیش آنے والے واقعے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

اقوامِ متحدہ میں اقرائیلی سفیر ڈینی ڈینن نے اس خونریزی کا الزام حماس پر عائد کیا۔

خبر رساں ادارے ای ایف پی کے مطابق بعد ازاں اسرائیلی فوج کے برگیڈیئر جنرل رونن منیلس نے کہا کہ جمعے کو پیش آنے والے واقعات ’مظاہرین کا احتجاج نہیں‘ بلکہ حماس کی جانب سے ’منظم دہشت گرد کارروائی تھی۔‘

’اگر یہ سب جاری رہاتو ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے کہ کہ ہم غزہ کے اندر کارروائی کرکے ان دہشت گردوں کو نشانہ بنائیں جو ہمارے خیال میں ان واقعات کے ذمہ دار ہیں۔‘

کچھ مظاہرین دوبارہ سرحد کی طرف گئے تاکہ احتجاج دوبارہ شروع کیا جا سکے۔ جس کے بعد سنیچر کو غزہ کی سرحد پر مزید جھڑپوں بے مزید 15 افراد زخمی ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مرنے والوں کے جنازے میں ہزاروں افراد شریک ہوئے

گھروں کو واپسی کے لیے احتجاج

حماس اور مختلف فلسطینی دھڑوں کی طرف سے منظم کیے گئے یہ مظاہرے پندرہ مئی تک چلیں گے جس دن کو فلسطینی نکبا یا قیامت کے طور پر مناتے ہیں اور جس دن سنہ 1948 میں لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کر دیا گیا تھا۔

اسرائیل فلسطینیوں کی واپسی کے حق کو تسلیم نہیں کرتا کیونکہ اتنی بڑی تعداد میں فلسطینیوں کی اسرائیل کے زیرِ قبضہ اپنے علاقوں میں واپسی سے یہودی آبادی اکثریت سے اقلیت میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ فلسطینی مہاجرین جن کی تعداد لاکھوں میں ہے ان کو مستقبل کی فلسطینی ریاست میں آباد کیا جا سکتا ہے۔

اسرائیل اور فلسطینی حکام کے درمیان سنہ 2014 کے بعد سے امن کا عمل تعطل کا شکار ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption فلسطینیوں کے ہجوم کے سامنے اسرائیلی فوج دفاع پوزیشن لیے ہوئے ہے

غزہ میں حماس کے ساتھ جنگ کے بعد سنہ 2005 میں اسرائیلی فوج غزہ کی پٹی سے نکال لی گئی تھی لیکن اس کے اطراف اسرائیل نے سخت سیکیورٹی کر رکھی ہے جبکہ مصر کے ساتھ غزہ کی سرحد پر بھی بہت سختی برتی جاتی ہے۔

صدر محمود عباس کے ترجمان نے کہا ہے کہ فلسطینیوں کی طرف سے بڑا واضح پیغام ہے کہ فلسطینیوں کی سرزمین ان کے جائز مالکان کی ہے اور اسرائیل کے قبضے کو ختم کیا جانا ہے۔

اسرائیل فوج کے ایک ترجمان نے کہا کہ حماس ان مظاہروں کے پردے میں اسرائیل پر حملہ کرنا چاہتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس علاقے میں اگلے پندرھ دن تک کشیدگی برقرار رہ گی

اسی بارے میں