ماؤنٹ ایورسٹ: شرپا کی 22 ویں مرتبہ چوٹی سر کرنے کی کوشش

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کامی ریٹا تاریخ رقم کرنا چاہتے ہیں

کئی لوگوں کا خواب ہوتا ہے کہ وہ کم از کم ایک مرتبہ دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کر سکیں۔ تاہم کامی ریٹا نامی ایک شرپا تو اس کا نیا عالمی ریکارڈ بنانے والے ہیں۔

نیپال کے 48 سالہ شرپا اتوار کو 22ویں مرتبہ ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کی کوشش کریں گے اور اگر وہ ایسا کر لیتے ہیں تو یہ ایک ریکارڈ ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے

کوہ پیماؤں پر ایورسٹ اکیلے سر کرنے پر پابندی

دنیا کے پانچ ’ممنوعہ‘ پہاڑ

’جہاں آکسیجن سلینڈر ہی زندگی کی ضمانت ہوں‘

ماؤنٹ ایورسٹ پر آکسیجن چوری ہونے لگی

اس وقت تک یہ ریکارڈ 21 مرتبہ چوٹی سر کرنے کا ہے جو خود کامی ریٹا اور دیگر دو نیپال کوہ پیماؤں کا ہے۔

تاہم اب ان کے دونوں دیگر ہم وطن ریٹائرڈ ہو چکے ہیں اس لیے یہ حالیہ سمٹ کامیاب ہونے کے صورت میں صرف وہی سب سے زیادہ تجربہ کار ایورسٹ کوپ پیما ہوں گے۔

انھوں نے خبر رساں ادارے ای ایف ای کو بتایا ’میں تاریخ رقم کرنے کی ایک اور کوشش کر رہا ہوں تاکہ پوری شرپا برادری اور ملک کے لیے باعثِ فخر بنوں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ماؤنٹ ایورسٹ 8848 میٹر بلند دنیا کی سب سے بلند چوٹی ہے

وہ امریکی بیس میں کوہ پیماؤں کی رہنمائی کرتے ہیں اور مہمات کا انتظام کرتے ہیں۔

انھوں نے پہلے مرتبہ سنہ 10994 میں یہ چوٹی سر کی اور آخری بار وہ گذشتہ برس مئی میں گئے تھے۔

غیر ملکی کوہ پیما اکثر ان جیسے تجربہ کار شرپا پر انحصار کرتے ہیں۔

انہیں ان مہمات کے دوران راستوں کے تعین، رسیاں باندھنے اور ضروری سامان اٹھانے کے لیے رقم ادا کی جاتی ہے۔

کامی ریٹا اپنی اس تازہ کوشش میں 29 کوہ پیماؤں کی ایک ٹیم کی قیادت کریں گے۔

امریکی اور جاپانی کوہ پیماٰؤں پر مشتمل یہ گروہ اتوار کو بیس کیمپ جائے گا اور دو ہفتوں کے بعد اپنا سفر شروع کرے گا۔

ان کا چوٹی تک پہنچنا موسم کی صورتحال پر منحصر ہے۔

کامی ریٹا نے کھٹمنڈو پسوٹ کو بتایا کہ ’اگر سب کچھ منصوبے کے مطابق رہتا ہے تو ہم یہ مہم 29 مئی کو ختم کر لیں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ مہم کامیاب رہی تو وہ اپنا ریکارڈ جاری رکھنے کے لیے مزید مہمات کرتے رہیں گے۔

وہ کم سے کم 25 مرتبہ ایورسٹ کو سر کرنا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا ’میں تاریخ رقم کرنا چاہتا ہوں۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں